• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ننھی گَوَرنَس

Updated: November 06, 2026, 7:27 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

نیوزی لینڈ کی معروف مصنفہ کیتھرین مینس فیلڈ کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی لٹل گورنس ‘‘ The Little Governessکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

وہ بار بار سوچ رہی تھی کہ کاش سفر رات کے بجائے دن میں ہوتا۔ اسے دن کی روشنی میں سفر کرنا اچھا لگتا تھا۔ 
گورنس بیورو کی خاتون نے اسے سمجھایا تھا کہ شام کی کشتی سے سفر کرنا زیادہ محفوظ ہے کیونکہ اس طرح اسے کسی اجنبی شہر کے ہوٹل میں رات نہیں گزارنی پڑے گی۔ جرمنی پہنچ کر اسے میونخ جانا تھا، جہاں سے آگے آؤگسبرگ میں ایک ڈاکٹر کے گھر ملازمت کیلئے روانہ ہونا تھا۔ ڈاکٹر کے بچوں کو پڑھانا اس کی ذمہ داری تھی۔ اس نے پہلے کبھی بیرونِ ملک سفر نہیں کیا تھا اس لئے خاتون نے اسے بار بار احتیاط کی تلقین کی تھی کہ اجنبیوں پر فوراً بھروسہ نہ کرنا، ریل کے ڈبے سے باہر نہ نکلنا، راہداریوں میں بے مقصد نہ گھومنا اور بیت الخلا استعمال کرتے وقت دروازہ بند کر لینا۔ ہوٹل گرونوالڈ اسٹیشن سے صرف ایک منٹ کی مسافت پر تھا اور ڈاکٹر کی بیوی، فراؤ آرن ہولٹ، شام چھ بجے وہاں پہنچنے والی تھیں۔ اس طرح اسے دن بھر آرام کرنے اور اپنی جرمن زبان بہتر بنانے کا موقع مل جاتا۔ 
ننھی گورنس خود کو سمجھدار اور محتاط ثابت کرنا چاہتی تھی۔ جب وہ کشتی سے اتر کر ریل گاڑی کے اپنے مخصوص ڈبے میں پہنچی تو اسے قدرے اطمینان ہوا۔ دروازے پر ’’صرف خواتین کیلئے‘‘ لکھا تھا۔ سامان رکھ کر وہ ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ گاڑی کی ہلکی جنبش نے اسے سکون دیا۔ کچھ دیر بعد اسٹیشن پر لوگ جمع ہونے لگے۔ کوئی چائے کا سامان لئے پھر رہا تھا، کوئی کرائے کے تکیے پیش کر رہا تھا۔ دھوئیں کی سفید لکیریں چھت کے نیچے دھند کی طرح ٹھہری ہوئی تھیں۔ ننھی گورنس کھڑکی سے یہ منظر دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ رات کے اس پہر ہر چیز کتنی عجیب دکھائی دیتی ہے۔ اسے اپنے محتاط رہنے پر فخر تھا۔ اس نے ایک فرانسیسی قلی کو بخشش دینے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ خود کو تسلی دے رہی تھی کہ وہ اپنا خیال رکھ سکتی ہے کہ اچانک راہداری میں قدموں کی دھمک اور مردوں کی بلند آوازیں سنائی دیں۔ چار نوجوان اس کے ڈبے سے گزرے اور دروازے پر لکھا ہوا نوٹس دیکھ کر ہنسنے لگے۔ انہیں اگلے ڈبے میں جگہ ملی تھی، مگر ان میں سے ایک لمبا، دبلا نوجوان واپس آیا۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سفید سمندری شیر

اس کی چھوٹی سی سیاہ مونچھ تھی۔ اس نے دروازہ کھولا اور فرانسیسی زبان میں تمسخر آمیز انداز سے کہا، ’’اگر مادام ہمارے ساتھ تشریف لانا پسند کریں تو ہمیں خوشی ہوگی۔ ‘‘ دوسرے نوجوان اس کے پیچھے کھڑے ہنس رہے تھے۔ ننھی گورنس سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ وہ کچھ بولی نہ مسکرائی۔ نوجوان نے جھک کر بناوٹی تعظیم کی، پھر ٹوپی گھما کر چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد بھی ان کی ہنسی اور گانے کی آوازیں آتی رہیں۔ وہ خوفزدہ ہو گئی۔ اسے خیال آیا کہ کاش ڈبے میں کوئی دوسری عورت بھی ہوتی۔ اسی دوران وہی قلی واپس آیا، جس نے اس کا سامان اٹھایا تھا۔ اس نے دروازے پر لگے ’’صرف خواتین کیلئے‘‘ کے کاغذ کو ناخن سے کھرچ کر پھاڑ دیا۔ پھر ایک بہت بوڑھا شخص، جس کے کندھوں پر چیک دار اونی چادر تھی، اندر داخل ہوا۔ ’’لیکن یہ خواتین کا ڈبہ ہے، ‘‘ لڑکی نے گھبرا کر کہا۔ ’’نہیں، مادام! آپ غلط سمجھ رہی ہیں، ‘‘ قلی نے بے نیازی سے جواب دیا اور باہر نکل گیا۔ 
گاڑی چل پڑی۔ لڑکی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ بوڑھے شخص نے گردن سے مفلر کھولا، اپنی ٹوپی کے کان ڈھانپنے والے حصے درست کئے اور اس کی طرف دیکھا۔ اس کی عمر کم از کم ۹۰؍ برس معلوم ہوتی تھی۔ سفید مونچھ، سنہری فریم کی بڑی عینک، نیلی آنکھیں اور گلابی جھریوں والے گال اسے کسی کتاب کے مہربان دادا جیسا بنا رہے تھے۔ ’’کیا میں آپ کو پریشان کر رہا ہوں، مادام؟‘‘ اس نے ٹوٹی پھوٹی فرانسیسی میں پوچھا۔ ’’اگر آپ چاہیں تو میں اپنا سامان اتار کر کسی دوسرے ڈبے میں چلا جاتا ہوں۔ ‘‘ لڑکی کو شرمندگی ہوئی۔ اتنے بوڑھے شخص کو محض اپنی وجہ سے سامان اٹھانے کی زحمت کیوں دیتی؟ اس نے فوراً کہا کہ اسے کوئی اعتراض نہیں۔ بوڑھے نے شکریہ ادا کیا اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ وہ جرمن اخبار پڑھنے لگا۔ 
کچھ دیر بعد اس نے پوچھا کہ کیا لڑکی جرمن بول سکتی ہے۔ اس نے شرماتے ہوئے جواب دیا کہ فرانسیسی کے مقابلے میں جرمن بہتر بول لیتی ہے۔ بوڑھے نے اسے تصویروں والے رسالے پیش کئے۔ وہ تصویریں دیکھنے کی شوقین تھی، اس لئے اس نے ٹوپی اور دستانے اتار کر سامان کے ریک میں رکھے اور رسالے پڑھنے لگی۔ بوڑھا خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ پھر دونوں میں بات چیت شروع ہوئی۔ بوڑھے نے بتایا کہ وہ کئی مرتبہ انگلستان جا چکا ہے، مگر انگریزی سیکھنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ وہ اس کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ہنسا تو لڑکی بھی ہنس پڑی۔ جب لڑکی نے اسے اپنے بارےمیں بتایا تو بوڑھا کہنے لگا، ’’میونخ ایک بہت خوبصورت شہر ہے۔ آپ کو یہاں ایک دن ضرور گزارنا چاہئے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایک غیر مطبوعہ اور طبع زاد کہانی: آخری محل کی شہزادی

لڑکی نے بتایا کہ وہ اکیلی ہے، اس لئے راستے میں کہیں رکنے کا ارادہ نہیں۔ کچھ دیر بعد بارش ہونے لگی۔ لڑکی کھڑکی سے باہر دیکھتے دیکھتے سو گئی۔ جب آنکھ کھلی تو صبح کے ساڑھے چار بج رہے تھے۔ باہر نیلی روشنی پھیل رہی تھی۔ کھیت، سفید مکانات، درختوں کی قطاریں اور دور بہتا ہوا دریا اسے کسی تصویری کتاب کے مناظر معلوم ہوئے۔ کچھ دیر بعد ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر گاڑی رکی۔ پلیٹ فارم پر ایک عورت اسٹرابیریز کی ٹرے لئے پھر رہی تھی۔ اس نے قیمت پوچھی تو عورت نے ڈھائی مارک بتائے۔ یہ رقم اس کیلئے بہت زیادہ تھی، اس لئے اس نے پھل خریدنے کا خیال ترک کر دیا۔ جب وہ واپس اپنی نشست پر بیٹھی تو بوڑھا ایک ٹوکری میں اسٹرابیریز لئے لوٹا۔ ’’اگر آپ قبول فرما لیں تو یہ آپ کیلئے ہیں، ‘‘ اس نے کہا۔ ’’مجھے خود اسٹرابیری کھائے بیس برس ہو گئے ہیں۔ ‘‘ لڑکی نے حیرت اور خوشی سے اس کی طرف دیکھا۔ اسے بوڑھے میں پھر ایک شفیق دادا دکھائی دینے لگا۔ اسے خیال آیا کہ کاش اس کا اپنا دادا بھی ایسا ہی ہوتا۔ اس نے بوڑھے کو اپنے سفر اور ملازمت کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ بوڑھا پوری توجہ سے سنتا رہا، پھر بولا، ’’مَیں سوچ رہا تھا کہ آج آپ کو میونخ کی کچھ جگہیں دکھا دوں۔ ایک تصویری گیلری، شاید انگلش گارڈن بھی۔ آپ کو سارا دن اجنبی ہوٹل میں اکیلے بیٹھنے کی ضرورت نہیں۔ مَیں آپ کو دوپہر کے اوائل میں واپس پہنچا دوں گا۔ ‘‘ لڑکی نے ہاں کہہ دیا۔ 
جواب دینے کے بعد اسے خیال آیا کہ کیا اسے کسی اجنبی کے ساتھ جانا چاہئے؟ مگر وہ شخص بوڑھا اور مہربان تھا، اور اس نے اسے اسٹرابیریز بھی کھلائی تھیں۔ میونخ پہنچ کر بوڑھے نے اس کیلئے قلی تلاش کیا، ہوٹل کے منتظم کو اس کی آمد کی وضاحت کی اور اسے کمرے تک پہنچوا دیا۔ جاتے ہوئے اس نے کہا کہ وہ دس بجے اسے لینے آ جائے گا۔ لڑکی نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کمرے میں داخل ہوئی۔ کمرہ سرد، تاریک اور بدصورت تھا۔ سامان رکھتے ہوئے ملازم نے عجیب انداز سے اسے دیکھا، جیسے اسے کوئی ایسی بات معلوم ہو جس سے لڑکی بے خبر تھی۔ اس نے پوچھا کہ کیا یہی وہ کمرہ ہے جو فراؤ آرن ہولٹ نے بک کرایا تھا۔ ملازم نے اثبات میں جواب دیا، مگر جاتے ہوئے پوچھا کہ جب وہ صاحب آئیں تو کیا اسے اوپر بھیج دیا جائے؟ لڑکی نے اس سوال پر زیادہ غور نہ کیا۔ دس بجے بوڑھا واپس آیا تو وہ پہلے سے زیادہ خوش لباس تھا۔ اس کے ہاتھ میں چھتری تھی اور اس نے زرد دستانے پہن رکھے تھے۔ لڑکی اس کے ساتھ شہر دیکھنے نکلی۔ سڑکوں پر لوگوں کا ہجوم، گھوڑا گاڑیاں، ٹرام اور فوارے تھے۔ بوڑھا اسے ہر چیز دکھاتا اور اس کی دلچسپی کے مطابق رک جاتا۔ اس نے اسے جرمن کھانا کھلایا، تازہ روٹی اور سفید ساسیج کے ساتھ میٹھا مشروب بھی پیش کیا۔ پھر وہ اسے تصویری گیلری لے گیا، جہاں اس نے بے شمار فن پارے دیکھے۔ بارش ہونے لگی تو بوڑھے نے چھتری اس کے اوپر کر دی۔ دوپہر کے کھانے کے بعد وہ ایک کیفے میں گئے جہاں خانہ بدوش موسیقار بجا رہے تھے۔ پھر دونوں انگلش گارڈن پہنچے۔ لڑکی نے گھڑی دیکھی تو معلوم ہوا کہ اس کی گھڑی بند ہو گئی ہے۔ اسے اچانک یاد آیا کہ فراؤ آرن ہولٹ شام چھ بجے ہوٹل آنے والی ہیں اور اسے پانچ بجے تک واپس پہنچ جانا چاہئے۔ بوڑھا ہنس پڑا۔ باغ سے نکلتے ہوئے بوڑھے نے سامنے کی عمارتوں کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے بتایا کہ وہ تیسری منزل پر رہتا ہے، جہاں اس کے ساتھ ایک بوڑھی ملازمہ بھی رہتی ہے۔ اس نے لڑکی کو اپنا گھر دکھانے اور عطرِ گلاب کی ایک شیشی دینے کی پیشکش کی۔ لڑکی خوشی سے ساتھ چل پڑی۔ اسے تجسس تھا کہ ایک غیر شادی شدہ بوڑھے کا گھر کیسا ہوتا ہے۔ گھر چھوٹا، صاف ستھرا اور قدرے بے رونق تھا۔ گھر کے ایک کونے میں لڑکی کو قصاب کا سامان نظر آیا۔ یہ دیکھتے ہی اسے احساس ہوا کہ کہیں وہ کسی غلط شخص یا نفسیاتی مریض کے ہتھے تو نہیں چڑھ گئی ہے۔ وہ گھبرا گئی۔ لیکن اس نے چہرے پر خوف ظاہر نہیں ہونے دیا۔ بوڑھا اسے ڈرائنگ روم کے صوفے پر بٹھا کر اندر چلا گیا، اور جب باہر آیا تو اس کے ایک ہاتھ میں سرخ محلول کا گلاس اور دوسرے میں تیز دھار چاقو تھا۔ وہ عجیب انداز میں مسکرا رہا تھا۔ ننھی گورنس نے دیکھا کہ صوفہ مرکزی دروازے سے قریب ہے۔ لہٰذا وہ پھرتی سے اٹھی اور دروازے سے نکل کر اسے باہر سے لاک کردیا۔ پھر وہ سڑکوں پر دوڑتی رہی، یہاں تک کہ اسے ٹرام کی پٹریوں کے درمیان ایک پولیس والا نظر آیا۔ روتے ہوئے اس نے کہا کہ اسے مرکزی ریلوے اسٹیشن جانا ہے۔ ٹرام آ رہی تھی۔ وہ اس پر سوار ہو گئی، اس کی ٹوپی ایک طرف جھکی ہوئی تھی اور اس کے پاس آنسو پونچھنے کیلئے رومال تک نہ تھا۔ وہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھے سسکیاں لیتی رہی۔ دوسرے مسافر اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بوتل کا آسیب

ہوٹل گرونوالڈ پہنچ کر اس نے پوچھا کہ فراؤ آرن ہولٹ کہاں ہیں۔ وہی ملازم وہاں کھڑا تھا جس نے صبح اسے کمرہ دکھایا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ خاتون یہاں سے جاچکی ہیں۔ ملازم نے انہیں یہ بھی بتایا تھا کہ لڑکی ہوٹل پہنچنے کے فوراً بعد ایک صاحب کے ساتھ باہر چلی گئی ہے۔ فراؤ آرن ہولٹ نے پوچھا تھا کہ وہ کب واپس آئے گی، مگر ملازم کے پاس جواب نہیں تھا۔ 
پھر وہ منتظم کے پاس گئی تھیں، لیکن وہاں سے بھی انہیں کوئی اطلاع نہ ملی۔ 
لڑکی نے کانپتی آواز میں پوچھا، ’’وہ اب کہاں ہیں ؟‘‘ ملازم نے کندھے اچکائے۔ ’’مجھے کیا معلوم؟‘‘
اس کے لہجے میں ہمدردی نہیں تھی۔ اسے اس بات پر خفیف سی خوشی ہو رہی تھی کہ جس لڑکی نے صبح اس کے ساتھ بے مروتی کا مظاہرہ کیا تھا، اب وہ خود پریشانی اور خوف میں مبتلا تھی۔ اس نے اپنے بال درست کئے اور دوسرے مسافر کا سامان اٹھانے لگا۔ 
ننھی گورنس وہیں کھڑی کانپتی رہی۔ جس دن کو وہ اپنی زندگی کا سب سے خوشگوار دن سمجھ رہی تھی، وہی دن اس کیلئے ایک تلخ تجربہ بن چکا تھا۔ اس نے اجنبی شہر میں ایک ایسے شخص پر بھروسہ کیا تھا جس نے مہربانی کا نقاب پہن رکھا تھا، اور در حقیقت ایک نفسیاتی مریض تھا جو نہ جانے اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔ اب اسے معلوم نہیں تھا کہ فراؤ آرن ہولٹ اسے کیا سمجھیں گی، نہ یہ کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اسے صرف اتنا معلوم تھا کہ اس کی معصوم خوشی، جسے وہ پورے دن اپنے ساتھ لئے پھرتی رہی تھی، ایک لمحے میں چھین لی گئی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK