شاعر مشرق اور حکیم الامت کہلانے والے علامہ اقبال کو طلبہ جانتے ہیں مگر اُتنا نہیں جانتے جتنا جاننا چاہئے۔ یاد رہے کہ اِس دن عالمی یومِ اردو بھی منایا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 7:35 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai
شاعر مشرق اور حکیم الامت کہلانے والے علامہ اقبال کو طلبہ جانتے ہیں مگر اُتنا نہیں جانتے جتنا جاننا چاہئے۔ یاد رہے کہ اِس دن عالمی یومِ اردو بھی منایا جاتا ہے۔
عالمی یومِ اردو(World Urdu Day) ہمیں اپنی خوب صورت زبان، شاندار ادبی ورثے اور تہذیبی شناخت کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔ اردو زبان کو فروغ دینے اور نئی نسل کو اس کے علمی و ادبی سرمایے سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی خدمات اور فکر و فلسفے کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو ادب کو نئی بلندی عطا کی اور خودی، خود اعتمادی اور بیداری کا پیغام دیا۔ ضرورت ہے کہ ہم اردو زبان سے محبت کے ساتھ اقبال کے افکار کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
علامہ اقبال کے متعلق غیر معروف حقائق
اقبال صرف شاعر نہیں، معاشیات کےبھی ماہر تھے۔ ۱۹۰۳ء میں انہوں نے ’’علم الاقتصاد‘‘ نامی کتاب لکھی۔
یورپ میں قیام کے دوران انہوں نے کیمبرج سے تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اور لندن کے لنکنز اِن سے بیرسٹری کی اہلیت حاصل کی۔
اقبال کی شاعری میں فارسی کو خاص مقام حاصل تھا۔ انہوں نے اردو کے ساتھ فارسی میں بھی شاعری کی۔
اقبال کی آواز بھی بہت خوبصورت تھی۔ وہ مشاعروں اور انجمن حمایتِ اسلام کے جلسوں میں اپنا کلام صرف پڑھتے ہی نہیں تھے بلکہ ترنم سے سناتے بھی تھے۔
اقبال نے۱۹۱۱ء میں نظم ’’شکوہ‘‘لکھی جبکہ ایک سال بعد ۱۹۱۲ءمیں اس کا جواب ’’جوابِ شکوہ‘‘ تخلیق کی۔
ان کی مشہور تصنیف ’’پیامِ مشرق‘‘ ایک جرمن شاعر ’گوئٹے‘ کی کتاب کے جواب میں تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ششماہی امتحان میں رہ گئے ہیں کچھ ہی دِن! کیا آپ تیار ہیں؟
علامہ اقبال کےترغیبی اقوال
قومیں فکر سے محروم ہو کر تباہ ہو جاتی ہیں۔
جدو جہد میں زند گی کا راز مضر ہے۔
مطالعہ انسان کیلئےاخلاق کا معیار ہے۔
علم کی جستجو جیسے بھی کی جائے عبادت کی ایک شکل ہے۔
ایک سوچنے والے زندہ انسان کے خیالات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، نہیں بدلتا تو پتھر نہیں بدلتا۔
علامہ پر لکھی گئیں بے شمار کتابوں میں سے چند
اقبال شناسی (علی سردار جعفری)
بچوں کے اقبال (عادل اسیر دہلوی)
نقوش اقبال (سید ابوالحسن علی ندوی)
زندہ رود (اقبال کی سوانح، از ڈاکٹر جاوید اقبال)
شروحِ کلامِ اقبال (پروفیسر یوسف سلیم چشتی)
فکر اقبال (خلیفہ عبدالحکیم اور غلام دستگیر رشید)
یہ بھی پڑھئے: نوجوان کالم نگاروں کے ساتھ دلچسپ گفتگو اور تعلیمی انقلاب کی ۹؍ ویں سالگرہ کا جشن
علامہ اقبال نے اپنے استاد کے احترام میں ’سر‘ کا خطاب لینے سے انکار کیا تھا!
ڈاکٹرعلامہ اقبال کو ان کی علمی، ادبی اور فکری خدمات کے اعتراف میں برطانوی حکومت کی جانب سے ’سر‘ (Sir) کا خطاب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اقبال نے یہ اعزاز قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے استاد مولوی میر حسن کی علمی خدمات کا اعتراف نہیں کیا جاتا، وہ ’سر‘ کا خطاب قبول نہیں کریں گے۔ ان کا یہ مؤقف سن کر پنجاب کے گورنر نے دریافت کیا کہ آخر ان کے استاد نے ایسی کون سی کتاب لکھی ہے جس کی بنیاد پر انہیں یہ اعزاز دیا جائے؟ اس پر علامہ اقبال نے کہا تھا کہ مولوی میر حسن کی سب سے بڑی تصنیف وہ خود ہیں۔ ’’ میں آج جو کچھ بھی ہوں ان کی وجہ سے ہوں ‘‘۔ اقبال کے اس مختصر مگر معنی خیز جواب پر حکام سوچ میں پڑ گئے، بالآخر اقبال کی اس درخواست کو قبول کرلیا گیا اور ان کے استاد مولوی سید میر حسن کو ’شمس العلماء‘ کا خطاب دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اِن ۹؍ کتابوں سے سیکھیں سوال کرنا اور زندگی کو مختلف نظر سے دیکھنا
علامہ اقبال کو والد نے قرآن پڑھنے کا ایسا راز بتایا کہ زندگی کا انداز بدل گیا!
زمانۂ طالب علمی میں علامہ اقبال روزانہ نمازِ فجر کے بعد پابندی سے قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔ ان کے والد صوفی نور محمد اکثر ان کے پاس آکر بیٹھ جاتے اور محبت بھری نگاہوں سے انہیں تلاوت کرتے ہوئے دیکھتے رہتے تھے۔ ایک روز ان کے والد نے اقبال سے کہا کہ وہ انہیں ایک دن راز کی بات بتائیں گے۔ اقبال نے کئی مرتبہ تجسس کے ساتھ اس کے بارے میں پوچھا، لیکن ان کے والد ہر بار یہ کہہ کر بات ٹال دیتے کہ وہ انہیں بعد میں بتائیں گے۔ وقت گزرتا گیا لیکن انہیں وہ بات یاد رہی۔ ایک دن انہوں نے وہ راز کی بات بتانے پر پھر اصرار کیا۔ بالآخر والد نور محمد نے اقبال کو نصیحت کرتے ہوئے کہا’’جب بھی تم قرآن پاک پڑھو تو یہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ تم سے ہم کلام ہے اور قرآن تم پر نازل ہو رہا ہے۔ ‘‘اس نصیحت نے قرآن پڑھنے کے بارے میں اقبال کے تصور کو ایک نئی گہرائی عطا کی۔