• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۱؍ نومبر: ملک کے اولین وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد

Updated: November 06, 2026, 7:36 PM IST | Taleemi Inquilab Desk | Mumbai

طلبہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ مولانا عالم دین، مفسر قرآن، صحافی، انشاء پرداز اور مجاہد آزادی تھے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مولانا ابوالکلام آزاد کے تعلیمی نظریات
مولاناآزاد کا تصورِ تعلیم جدید سائنسی ترقی، وقت کے تقاضوں اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ تھا۔ وہ ایسی تعلیم کے حامی تھے جو سائنسی، تکنیکی اور صنعتی ترقی کے ساتھ مذہبی اور اخلاقی اقدار کو بھی اہمیت دے۔ ان کے نزدیک قدیم نظامِ تعلیم میں جدید علوم اور متنوع مضامین کو شامل کرنا ضروری تھا۔ مولانا کا ماننا تھا مذہب اور عصرِ حاضر کے علوم کو الگ رکھ کر کامیاب تعلیمی نظام قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے خیال میں ایسی تعلیم ہی قوم کو ترقی یافتہ بنا سکتی ہے جو ماضی کے تجربات سے رہنمائی لے، حال کے تقاضوں کو سمجھے اور مستقبل کیلئے تیار کرے۔

یہ بھی پڑھئے: چھٹیوں کو کارآمد بنائیں، یہ مختصر مدتی اے آئی کورسیز آپ کیلئے بھی ہیں

بعد از وفات شائع ہونے والی کتابیں 
انڈیا ونس فریڈم(۱۹۸۸ء): یہ مولانا ابوالکلام آزاد کی خود نوشت سوانح عمری ہے۔ اس کا پہلا مختصر ایڈیشن۱۹۵۹ء میں شائع ہوا تھا۔ ۱۹۸۸ء میں بقیہ حصے شامل کرکے اس کا مکمل ایڈیشن شائع کیا گیا تھا۔ 
مکاتیب ابوالکلام آزاد (۱۹۶۸ء): یہ مولانا آزاد کے مختلف خطوط کا مجموعہ ہے جسے ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہاں پوری نے مرتب کیا اور ’سند اردو اکیڈیمی‘ نے۱۹۶۸ء میں شائع کیا۔ 
افادات آزاد (۱۹۸۴ء): یہ کتاب مولانا آزاد کے افادات اورارشادات کا مجموعہ ہے۔ 
خطباتِ آزاد(۱۹۷۴ء): یہ مولانا آزاد کی اہم تقریروں اور خطبات کا مجموعہ ہے۔  

یہ بھی پڑھئے: کمرے میں پہنچ کر یاد نہیں رہتا کہ کس کام سےآئے تھے، کیوں؟

مولانا ابوالکلام آزاد کی مشہور کتابیں 
غبار خاطر (سن اشاعت:۱۹۴۶ء)
مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرۂ آفاق کتاب ’’غبارِ خاطر‘‘ ان کے علمی، ادبی اور فکری خیالات کا خوبصورت مجموعہ ہے۔ یہ خطوط دراصل احمد نگر کے قلعے میں قید(۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۵ء) کے دوران مولانا نے اپنے دوست مولانا حبیب الرحمن خان شیروانی کے نام لکھے تھے۔ اس کتاب میں فلسفہ، ادب، مذہب، موسیقی، فطرت اور زندگی کے مختلف موضوعات پر مولانا کے دل نشیں خیالات ملتے ہیں۔ 
ترجمان القرآن (سن اشاعت:۱۹۳۱ء)
مولانا آزاد کی مشہور تصنیف ’’ترجمان القرآن‘‘ قرآن مجید کی تفسیر اور تشریح پر مشتمل ایک اہم علمی و دینی کتاب ہے۔ اس میں مولانا نے قرآن کریم کے پیغام، تعلیمات اور بنیادی تصورات کو نہایت سادہ، مدلل اور دل نشیں انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب قرآنی علوم، اسلامی فکر اور مولانا کی گہری علمی بصیرت کو سمجھنے کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ جدید اشاعتوں میں یہ چار جلدوں پر مشتمل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ویب سائٹس کے ناموں کی دُنیا: کس ایکسٹینشن کا کیا معنی

مولانا ابوالکلام آزاد کے قائم کردہ تعلیمی ادارے
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن
اعلیٰ تعلیم کے فروغ، یونیورسٹیز کے درمیان تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے اور تحقیق کی حوصلہ افزائی کیلئے مولانا آزادنے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) قائم کیا تھا۔ اس کا باضابطہ افتتاح۲۸؍ دسمبر۱۹۵۳ء کوانہیں کے ہاتھوں عمل میں آیا تھا۔ نومبر۱۹۵۶ء میں پارلیمنٹ کے قانون کے تحت اسے قانونی حیثیت دی گئی۔ یہ ادارہ یونیورسٹیوں کی سرگرمیوں کی نگرانی بھی کرتا ہے۔ 
اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر (SPA)
اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر نئی دہلی کا ایک تعلیمی ادارہ ہے، جو فنِ تعمیر اورشہری منصوبہ بندی کے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرتا ہے۔ اس کی بنیاد ۱۹۵۵ءمیں مولانا آزاد کے دورِ وزارتِ تعلیم میں حکومتِ ہند نے اسکول آف ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ کے نام سے رکھی تھی۔ ۲۰۱۵ء میں اسے قومی اہمیت کے ادارے کا درجہ دیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK