فلمی دنیا میں گلوکار کی آواز صرف گانا گانے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اسے پردے پر نظر آنے والے اداکار کی شخصیت اور انداز سے بھی میل کھانا پڑتا ہے۔ یہی خوبی عظیم گلوکار ایس پی بالاسبرامنیم میں بھی تھی۔
EPAPER
Updated: September 27, 2026, 11:28 AM IST | Mumbai
فلمی دنیا میں گلوکار کی آواز صرف گانا گانے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اسے پردے پر نظر آنے والے اداکار کی شخصیت اور انداز سے بھی میل کھانا پڑتا ہے۔ یہی خوبی عظیم گلوکار ایس پی بالاسبرامنیم میں بھی تھی۔
فلمی دنیا میں گلوکار کی آواز صرف گانا گانے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اسے پردے پر نظر آنے والے اداکار کی شخصیت اور انداز سے بھی میل کھانا پڑتا ہے۔ یہی خوبی عظیم گلوکار ایس پی بالاسبرامنیم میں بھی تھی۔ وہ جس اداکار کے لیے گاتے، اس کی شخصیت اور کردار کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی آواز کے اتار چڑھاؤ اور انداز میں تبدیلی لے آتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مختلف اداکاروں کے لیے ان کی آواز الگ رنگ میں سنائی دیتی تھی۔ ایس پی بالاسبرامنیم نے اپنے تقریباً ۵؍دہائیوں پر محیط کریئر میں ہزاروں گانے گائے اور ۱۶؍ زبانوں میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ اگرچہ جنوبی ہند کے کئی بڑے اداکاروں کے لیے انہوں نے گیت گائے، لیکن ہندی فلموں میں سلمان خان کے لیے ان کی آواز کو خاص مقبولیت حاصل ہوئی۔ ۱۹۸۹ءمیں سورج بڑجاتیا کی فلم ’میں نے پیار کیا‘ ریلیز ہوئی تو سلمان خان ایک نئے رومانوی ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔ فلم کے گانوں میں ایس پی بالاسبرامنیم کی آواز نے سلمان کی اسکرین امیج کو ایک الگ پہچان دی۔ ’دل دیوانہ‘ کی مقبولیت نےدونوں کی آواز اور اداکاری کے اس امتزاج کو گھرگھر پہنچا دیا۔ اس کے بعد ’ساجن‘، ’ہم آپ کے ہیں کون‘ اور۹۰ءکی دہائی کی کئی دوسری فلموں میں بھی ایس پی بی نےسلمان کے لیے گانے گائے۔ ’پہلا پہلا پیار ہے‘ جیسے گانوں نے سلمان کی رومانوی ہیرو والی شناخت کو مزید مضبوط کیا۔ ایس پی بالاسبرامنیم صرف سلمان خان ہی کے لیے اپنی آواز کا انداز نہیں بدلتے تھے، کمل ہاسن کیلئے گاتے وقت ان کی آواز میں ایک الگ کیفیت محسوس ہوتی تھی۔