• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۴؍ برسوں میں ملک میں ۱۱۱؍ اراکین اسمبلی و پارلیمان نے وفاداریاں بدلیں

Updated: September 27, 2026, 10:56 AM IST | New Delhi

۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان لوک سبھا کے ۲۶، راجیہ سبھا کے ۷؍ اور مختلف ریاستوں  کے ۷۸؍ اراکین اسمبلی نے پارٹیاں  بدلیں، ناگالینڈ سر فہرست۔

TMC`s Sushmita Dev also joined the BJP. Photo: INN
ٹی ایم سی کی سشمتا دیو بھی بی جےپی میں  شامل ہوئیں۔ تصویر: آئی این این

اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) اور نیشنل الیکشن واچ کے تجزیہ کے مطابق۲۰۲۲ء سے۲۰۲۶ءکے درمیان پارلیمنٹ یا ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات جیتنے کے بعد۱۱۱؍اراکین پارلیمان و اسمبلی نے اپنی سیاسی جماعتیں تبدیل کیں۔ اس کے مطابق۲۶؍ لوک سبھا اراکین، ۷؍راجیہ سبھا اراکین اور۷۸؍ اراکین اسمبلی نے پارٹیاں تبدیل کیں۔ 
ناگالینڈ میں سب سے زیادہ۳۲؍ ایسے معاملے سامنے آئے اور یہ تمام ارکان اسمبلی سے متعلق تھے۔ اے ڈی آر کے مطابق ان میں زیادہ تر معاملے حکمراں نیشنلسٹ ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی اور ناگا پیپلز فرنٹ کے درمیان سیاسی صف بندی سے متعلق تھے۔ اے ڈی آر کے تجزیہ میں این پی ایف نے سب سے زیادہ اراکین کو اپنی جانب راغب کیا۔ مجموعی طور پر این ڈی پی پی سے منتخب ہونے والے ۲۵؍ اراکین ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے پارٹیاں تبدیل کیں، جبکہ۳۲؍ اراکین این پی ایف میں شامل ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: شدید برہمی، وسیع احتجاج کی تیاری، گیانیش کیلئے بڑی مشکلات، کانگریس کمربستہ

مغربی بنگال میں ۲۰؍معاملے سامنے آئے اور یہ تمام لوک سبھا اراکین سے متعلق تھے۔ تجزیے کے مطابق یہ تمام اراکین آل انڈیا ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اور بعد میں نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا میں چلے گئے۔ ارکان پارلیمان نے این سی پی آئی میں انضمام کا دعویٰ کیا ہے اور یہ معاملہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے سامنے زیر غور ہے۔ تلنگانہ میں ۹؍معاملے سامنے آئے، جن میں تمام اراکین اسمبلی بھارت راشٹرا سمیتی سے منتخب ہوئے تھے۔ ریاست میں کانگریس پارٹی تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ شامل کرنے والی اہم جماعت رہی۔ گوا میں ۸؍معاملے سامنے آئے، جہاں کانگریس کے ارکان اسمبلی بی جے پی میں شامل ہوئے، جبکہ پنجاب میں بھی۸؍معاملے سامنے آئے، جن میں ۶؍راجیہ سبھا اراکین اور۲؍ اراکین اسمبلی شامل تھے۔ مہاراشٹر میں ۶؍ دل بدلیاں   سامنے آئیں اور یہ تمام لوک سبھا اراکین کی تھیں   جوشیوسینا (ادھو ) کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے شندے گروپ میں چلے گئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK