Updated: March 10, 2026, 9:06 PM IST
| Mumbai
مشہور موسیقار اے آر رحمان کے بالی ووڈ میں مبینہ فرقہ وارانہ تعصب سے متعلق بیان پر اب گلوکار اور موسیقار سلیم مرچنٹ نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سلیم نے کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق ہندی فلم انڈسٹری میں اس نوعیت کا تعصب موجود نہیں ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا تھا جب رحمان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بعض اوقات انہیں کام کے مواقع کم ملنے کے پیچھے فرقہ وارانہ عوامل بھی ہو سکتے ہیں۔
اے آر رحمان اور سلیم مرچنٹ۔ تصویر: آئی این این
آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان کے بالی ووڈ میں مبینہ فرقہ وارانہ تعصب کے بیان پر موسیقار سلیم مرچنٹ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ ہندی فلم انڈسٹری میں اس طرح کا امتیاز پایا جاتا ہے۔ سلیم مرچنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق فلمی صنعت میں فنکاروں کے ساتھ فرقہ وارانہ بنیادوں پر سلوک نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ یہ سچ ہے۔ رحمان صاحب نے جو کچھ کہا ہے اس کے پورے احترام کے ساتھ، ہو سکتا ہے وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر ایسا کہہ رہے ہوں، لیکن میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: طاہر راج بھسین نے وکرم فڈنیس کی نئی فلم کی شوٹنگ مکمل کی
رامائن کی مثال
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے سلیم مرچنٹ نے آنے والی فلم ’’رامائن‘‘ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مسلم موسیقار کو ایک بڑی ہندو مذہبی داستان پر مبنی فلم کے لیے موسیقی دینے کا موقع مل رہا ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنعت میں فرقہ وارانہ رکاوٹیں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو موسیقار ہندوستانی سنیما کی سب سے بڑی فلموں میں سے ایک کر رہا ہے، جو ہندو مائیتھولوجی رامائن پر مبنی ہے، اگر وہ اس کا موسیقار ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ فرقہ وارانہ مسئلہ موجود ہے۔ لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے اور رحمان کے اپنے تجربات ہو سکتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’ستارے زمین پر‘‘ کی او ٹی ٹی ریلیز، ۹؍ ماہ کا انتظار ختم
تنازع کیسے شروع ہوا؟
یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب اے آر رحمان نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں ہندی فلم انڈسٹری میں پہلے کے مقابلے میں کم کام کی پیشکشیں مل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’’جو لوگ تخلیقی نہیں ہیں ان کے پاس اب فیصلے کرنے کا اختیار ہے، اور یہ ایک فرقہ وارانہ چیز بھی ہو سکتی ہے، لیکن یہ میرے سامنے نہیں ہوتی۔‘‘ رحمان نے مزید کہا کہ بعض اوقات انہیں غیر رسمی ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کسی پروجیکٹ کے لیے منتخب کیا گیا تھا، لیکن بعد میں موسیقی کی کمپنی کسی اور موسیقار کو لے آتی ہے۔
انہوں نے اس صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مجھے بتایا جاتا ہے کہ آپ کو اس پروجیکٹ کے لیے منتخب کیا گیا تھا، لیکن پھر میوزک کمپنی اپنے پانچ موسیقار لے آتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ٹھیک ہے، اس سے مجھے اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع مل جاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: وجے تریشا کےمعاشقے کی افواہوں پر وکرم بھٹ کا رد عمل
وضاحتی پیغام
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا اور فلمی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی جس کے بعد اے آر رحمان نے ایک وضاحتی پیغام بھی جاری کیا۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’’موسیقی ہمیشہ سے مختلف ثقافتوں کو جوڑنے، ان کا احترام کرنے اور انہیں منانے کا ذریعہ رہی ہے۔ ہندوستان میری تحریک، میرا استاد اور میرا گھر ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا مقصد کبھی کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا۔ کبھی کبھی ارادوں کو غلط سمجھا جا سکتا ہے، لیکن میرا مقصد ہمیشہ موسیقی کے ذریعے ترقی، احترام اور خدمت کرنا رہا ہے۔ میں نے کبھی کسی کو تکلیف پہنچانے کی خواہش نہیں کی۔‘‘