Updated: June 05, 2026, 6:03 PM IST
| New Delhi
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے دہلی پہنچنے سے قبل اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ پر استقبال کے لیے جمع نہ ہوں بلکہ جنتر منتر پر مجوزہ پرامن احتجاج پر توجہ دیں۔ یہ مظاہرہ نیٹ یو جی، سی بی ایس ای اور دیگر امتحانی تنازعات کے پس منظر میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ دریں اثناء، دہلی ہائی کورٹ نے احتجاج روکنے کی درخواست پر فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے جبکہ مختلف طلبہ گروپوں اور بعض سیاسی حلقوں نے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دپکے۔ تصویر: ایکس
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دپکے، جو ۶؍ جون کو ہندوستان لوٹ رہے ہیں، نے اپنے حامیوں سے دہلی ایئرپورٹ پر جمع نہ ہونے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ تمام توانائیاں جنتر منتر پر ہونے والے مجوزہ احتجاج کے لیے محفوظ رکھیں۔ ایکس پر جاری اپنے تازہ پیغام میں دپکے نے کہا کہ ’’دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ چاہنے والوں کی جانب سے دہلی ایئرپورٹ پر ہمارے ساتھ شامل ہونے پر جو ردعمل ملا، وہ ہماری توقعات سے کہیں زیادہ تھا۔ اتنے لوگوں کا ایئرپورٹ پر جمع ہونا عوام اور سیکوریٹی فورسیز کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے، اس لیے براہِ کرم وہاں نہ آئیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں براہِ راست پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن جاؤں گا تاکہ جنتر منتر پر پرامن احتجاج کی اجازت حاصل کی جا سکے۔ ہم قانون کی پاسداری کرنے والے شہری ہیں اور ہمیں ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اب ۲۱؍ جون کو مقرر نیٹ امتحان کا پیپر لیک ہونے کا دعویٰ
۳۰؍ سالہ ابھیجیت دپکے نے پونے سے صحافت کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی سے تعلقاتِ عامہ میں ماسٹرز مکمل کی۔ وہ ۲۰۲۰ء سے ۲۰۲۳ء کے دوران عام آدمی پارٹی کی سوشل میڈیا اور انتخابی مہمات سے بھی وابستہ رہے تھے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے گزشتہ چند ہفتوں میں سوشل میڈیا پر غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس کی مہم کا مقصد امتحانی بے ضابطگیوں، بے روزگاری، ادارہ جاتی احتساب اور نوجوانوں کے مسائل کو قومی بحث کا حصہ بنانا ہے۔ حالیہ دنوں میں پارٹی نے تین ترجمان بھی مقرر کیے ہیں، جسے تحریک کو باقاعدہ سیاسی و تنظیمی شکل دینے کی پہلی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کا احتجاج روکنے کیلئے فوری سماعت سے انکار
دہلی ہائی کورٹ نے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے خلاف دائر مفادِ عامہ کی عرضی پر فوری سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ درخواست گزار نے ہجوم پر قابو پانے اور حفاظتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے مداخلت کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے معاملے کو فوری طور پر فہرست میں شامل کرنے سے گریز کیا۔ دوسری جانب مختلف طلبہ تنظیموں اور بعض سیاسی حلقوں نے اس احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ چھتیس گڑھ کی جماعت جنتا کانگریس چھتیس گڑھ (جے) نے بھی احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس سے اس تحریک کو مزید سیاسی توجہ حاصل ہوئی ہے۔
ادھر سی بی ایس ای آن اسکرین مارکنگ (OSM) نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کو اجاگر کرنے والے طالب علم سارتھک سدھانت نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی تحریکیں صرف سوشل میڈیا کی مقبولیت کے لیے نہیں بلکہ حقیقی اصلاحات کے لیے ہونی چاہئیں۔ انہوں نے دپکے اور ان کے حامیوں پر زور دیا کہ وہ عوامی غصے کو تعمیری اور مؤثر اقدامات میں تبدیل کریں۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۴؍ دن بعد معلوم ہوا کہ لڑکی نے نیٹ پیپر کے سبب خود کشی کی تھی
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نیٹ یو جی امتحان، پیپر لیک الزامات، دوبارہ امتحانات اور سی بی ایس ای سے متعلق تنازعات پر حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) اور مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) مختلف معاملات کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتیں اور طلبہ گروپ مسلسل جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دپکے نے اپنی واپسی سے قبل ایک اور پیغام میں کہا کہ ’’میں اپنی تقدیر کو آئینِ ہند کے حوالے کر رہا ہوں۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد کسی سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل اور تعلیمی نظام میں شفافیت کے لیے ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی شروعات مئی میں سپریم کورٹ کی ایک سماعت کے بعد ہوئی تھی، جس کے بعد اس نے طنزیہ سوشل میڈیا مہم سے آگے بڑھ کر ایک منظم نوجوان تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق تنظیم کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کروڑوں فالوورز موجود ہیں جبکہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر لاکھوں افراد دستخط کر چکے ہیں۔