Updated: July 09, 2026, 4:06 PM IST
| Mumbai
دلجیت دوسانجھ کی فلم ’’ستلج‘‘ (سابقہ نام: پنجاب ۹۵) کے گرد تنازعات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ZEE5 سے فلم ہٹائے جانے کے بعد اب IMDb پر نظر آنے والی فلم کی ۵ء۹؍ ریٹنگ بھی اچانک غائب ہوگئی ہے، جبکہ دیگر نئی فلموں کی ریٹنگز معمول کے مطابق موجود ہیں۔ اس پیش رفت پر فلم ساز سنجے گپتا نے IMDb پر سوال اٹھائے ہیں، جبکہ فلم کے مصنف نیرین بھٹ نے بھی معاملے پر لاعلمی ظاہر کی ہے۔
انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی فلم ستلج کے گرد تنازعات میں ایک اور نیا موڑ آ گیا ہے۔ ZEE5 سے فلم ہٹائے جانے کے چند روز بعد اب فلم کی IMDb پر موجود ۵ء۹؍ ریٹنگ بھی اچانک غائب ہو گئی ہے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ بدھ کی سہ پہر جب IMDb پر فلموں کی ریٹنگز دیکھی گئیں تو ’’الفا‘‘ اور ’’ویلکم ٹو دی‘‘ جنگل سمیت دیگر حالیہ ریلیز کی ریٹنگز معمول کے مطابق موجود تھیں، تاہم ’’ستلج‘‘ کی پہلے سے نظر آنے والی ۵ء۹؍ ریٹنگ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ واضح رہے کہ IMDb کی جانب سے اس ریٹنگ کے غائب ہونے کی وجہ سے متعلق اب تک کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلم پہلے ہی اپنی ریلیز، سینسرشپ اور او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے باعث مسلسل خبروں میں ہے۔ ہدایت کار ہنی ٹریہن کی اس فلم کا نام پہلے ’’پنجاب ۹۵‘‘ تھا۔ فلم کو سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) کے ساتھ طویل تنازع کا سامنا کرنا پڑا، جہاں مبینہ طور پر ۱۲۷؍ کٹس تجویز کی گئی تھیں۔ فلم سازوں کا مؤقف تھا کہ وہ فلم کی اصل روح کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔ فلم گزشتہ ہفتے مختصر مدت کے لیے ZEE5 پر ریلیز ہوئی، لیکن صرف دو دن بعد اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد سینسرشپ اور اظہارِ رائے کی آزادی پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
IMDb ریٹنگ غائب ہونے پر معروف فلم ساز سنجے گپتا نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے ایسک پر لکھا کہ ’’کل تک اس کی ریٹنگ ۵ء۹؍ تھی، آج غائب ہے۔ ایسا نہیں کہ میں نے کبھی IMDb کی ریٹنگز پر یقین کیا ہو، لیکن اس سے ضرور ثابت ہوتا ہے کہ یہ نظام کتنا غیر شفاف ہے۔‘‘ ادھر فلم کے مصنف نیرین بھٹ نے بھی اس پیش رفت پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہندوستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’فلم کب آئی، کب ہٹ گئی، ہمیں خود معلوم نہیں چلا۔ اب IMDb ریٹنگ بھی غائب ہوگئی ہے۔ مسئلہ کیا تھا، کس کو اعتراض تھا، ہمیں کسی جانب سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جکارتہ: وزیر اعظم مودی کے ’’کچھ کچھ ہوتا ہے‘‘ کے ذکر پر کرن جوہر کا ردعمل
فلم کے مرکزی اداکار دلجیت دوسانجھ نے بھی فلم ہٹائے جانے کے بعد انسٹاگرام لائیو کے دوران کہا تھا کہ جن لوگوں نے فلم ڈاؤن لوڈ کر لی ہے وہ اسے دوسروں تک پہنچائیں، کیونکہ اب فلم کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں رہا۔ بعد ازاں ZEE5 نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے ناظرین سے اپیل کی کہ وہ فلم کے پائریٹڈ ورژن نہ دیکھیں اور نہ ہی شیئر کریں۔ پلیٹ فارم نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’موجودہ صورتحال کے پیش نظر ’’ستلج‘‘اگلے نوٹس تک ہندوستانی میں دستیاب نہیں ہوگی، تاہم ہم مناسب قانونی اور انتظامی عمل کے ذریعے فلم کو جلد از جلد دوبارہ اپنے پلیٹ فارم پر واپس لانے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘
فلم ’’ستلج‘‘ آنجہانی انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی جدوجہد پر مبنی ہے، جنہوں نے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں پنجاب میں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے معاملات کو منظرعام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ فلم میں دلجیت دوسانجھ کے علاوہ کنول جیت سنگھ، ارجن رامپال اور سویندر وکی نے بھی اہم کردار ادا کیے ہیں۔