Updated: July 09, 2026, 6:04 PM IST
| Mumbai
دلجیت دوسانجھ کی فلم ’’ستلج‘‘ کو ZEE5 سے ہٹائے جانے کے بعد اداکار سویندر وکی نے کہا ہے کہ پنجاب بھر میں لوگ فلم کی کمیونٹی اسکریننگ کا اہتمام کر رہے ہیں اور اسے ’’سیوا‘‘ کی طرح دوسروں تک پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، متعدد افراد نے فلم کو پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے سے پہلے ڈاؤن لوڈ کر لیا تھا اور اب وہ پروجیکٹر کے ذریعے دیہات، گوردواروں اور عوامی مقامات پر اس کی نمائش کر رہے ہیں۔
دلجیت دوسانجھ، سویندر وکی اور ارجن رامپال۔ تصویر: ایکس
فلم ’’ستلج‘‘ کو اسٹریمنگ پلیٹ فارم ZEE5 سے اچانک ہٹائے جانے کے بعد اس میں اہم کردار ادا کرنے والے اداکار سویندر وکی نے کہا ہے کہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں لوگ فلم کو ایک ’’سیوا‘‘ کے طور پر دوسروں تک پہنچا رہے ہیں اور اس کی کمیونٹی اسکریننگ کا اہتمام کر رہے ہیں۔ این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سویندر وکی نے کہا کہ برسوں کے انتظار کے بعد فلم کی ریلیز نے پوری ٹیم کو خوشی دی تھی، لیکن صرف دو روز بعد اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جانا سب کے لیے ایک اور بڑا صدمہ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب فلم ZEE5 سے غائب ہوئی تو یہ ہمارے لیے ایک اور بڑا دھچکا تھا۔ اتنے سالوں کے انتظار کے بعد آخرکار فلم ریلیز ہوئی تھی اور پھر اچانک ہٹا دی گئی۔ ہم سب خوش تھے کہ لوگ آخرکار اسے دیکھ رہے تھے۔ میں نے ہدایت کار ہنی ٹریہن سے بھی بات کی، لیکن اس وقت کوئی کچھ نہیں کر سکا۔ وہ پوری صورتحال میں غیر معمولی طور پر پُرسکون رہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’ستلج‘‘کی IMDb ریٹنگ اچانک غائب، تنازع مزید گہرا؛ سنجے گپتا نے سوال اٹھائے
سویندر وکی نے بتایا کہ فلم کو پلیٹ فارم سے ہٹانے سے پہلے متعدد افراد نے اسے ڈاؤن لوڈ کر لیا تھا اور اب وہ اسے دوسروں کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’لوگ اسے سیوا کی طرح لے رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے فلم کو ہٹائے جانے سے پہلے ڈاؤن لوڈ کر لیا تھا اور اب وہ اسے دوسروں تک پہنچا رہے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ لوگ پروجیکٹر لے کر پنجاب کے مختلف دیہاتوں میں جا رہے ہیں اور وہاں اسکریننگ کا اہتمام کر رہے ہیں۔ جس طرح لوگ گروپورب کے موقع پر لنگر یا سبیل کی سیوا کرتے ہیں، اسی جذبے کے ساتھ وہ اس فلم کو بھی لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ بات واقعی میرے دل کو چھو گئی۔‘‘ اداکار کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب شرومنی اکالی دل (SAD) کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی اس فلم کو پنجاب کے ہر گاؤں اور ہر علاقے میں دکھانے کا اہتمام کرے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے دیکھ سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: دلجیت دوسانجھ نے ’’ستلج‘‘ بلامعاوضہ کی، فلم عوام تک پہنچانا مقصد تھا: ہنی ٹریہن
فلم، جس کا ابتدائی عنوان’’پنجاب ۹۵‘‘ تھا، سینسر بورڈ کے ساتھ تین سال سے زائد عرصے تک جاری تنازع اور تاخیر کے بعد ۳؍ جولائی کو ZEE5 پر اپنے غیر کٹے ہوئے ورژن میں ریلیز ہوئی تھی۔ تاہم، صرف دو دن بعد۵؍ جولائی کو اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ فلم کے ہٹائے جانے کے بعد پنجاب کے مختلف علاقوں میں بعض سکھ مذہبی تنظیموں، سماجی گروپوں اور مقامی کمیونٹیز نے گوردواروں، دیہاتوں اور عوامی مقامات پر اس کی اجتماعی نمائش شروع کر دی ہے۔ دوسری جانب، معاملہ سیاسی سطح پر بھی زیر بحث ہے۔ پنجاب بی جے پی نے منگل کو کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات نے فلم کو ZEE5 سے ہٹانے کے فیصلے اور اس سے متعلق تمام حالات کا جائزہ لینے کے لیے تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
یہ بھی پڑھئے: فلم’’ستلج‘‘ پر حکومتی کارروائی تیز، مرکز نے مواد کے جائزہ کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی
ہدایت کار ہنی ٹریہن کی فلم ’’ستلج‘‘ میں دلجیت دوسانجھ نے معروف انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کا کردار ادا کیا ہے، جنہوں نے ۱۹۸۴ء سے ۱۹۹۴ء کے دوران پنجاب میں ہزاروں نامعلوم لاشوں کی آخری رسومات اور مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات کی تھیں۔ جسونت سنگھ کھالڑا کو ۱۹۹۵ء میں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا، جس کے بعد وہ کبھی واپس نہیں آئے۔ بعد میں ۲۰۰۵ء میں پنجاب پولیس کے چار اہلکاروں کو ان کے اغوا اور قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی، جبکہ ۲۰۰۷ء میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے ان کی سات سالہ سزا کو بڑھا کر عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ فلم کی ریلیز، اس کا اچانک ہٹایا جانا، عوامی ردعمل، کمیونٹی اسکریننگ اور حکومتی جائزہ، یہ تمام پیش رفت ’’ستلج‘‘ کو حالیہ دنوں کی سب سے زیادہ زیرِ بحث ہندوستانی فلموں میں شامل کر چکی ہیں۔