• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی یومِ سیاحت: سفر ایک ایسا استاد ہے جو کلاس روم سے باہر نکل کر سبق دیتا ہے

Updated: September 27, 2026, 2:02 PM IST | Usaid Ashhar | Mumbai

ہر سال ۲۷؍ ستمبر کو پوری دنیا میں ’عالمی یوم سیاحت‘ (World Tourism Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوام ِ متحدہ کے ادارے UN Tourism (سابقہ نام UNWTO) کی جانب سے ۱۹۸۰ء سے منایا جا رہا ہے۔ ’عالمی یوم سیاحت‘ منانے کا مقصد لوگوں کو سیاحت کی اہمیت اور اس کے فوائد سے آگاہ کرنا ہے۔

Tourism also provides insight into the local history. Photo: INN
سیاحت کے ذریعہ وہاں کی تاریخ کے بارے میں آگاہی بھی ہوتی ہے۔ تصویر: آئی این این

ہر سال ۲۷؍ ستمبر کو پوری دنیا میں ’عالمی یوم سیاحت‘ (World Tourism Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوام ِ متحدہ کے ادارے UN Tourism (سابقہ نام UNWTO) کی جانب سے ۱۹۸۰ء سے منایا جا رہا ہے۔ ’عالمی یوم سیاحت‘ منانے کا مقصد لوگوں کو سیاحت کی اہمیت اور اس کے فوائد سے آگاہ کرنا ہے۔ 
نہایت سادہ الفاظ میں کہا جائے تو سیاحت کا مطلب ہے اپنے گھر سے نکل کر کسی دوسری جگہ جانا، چاہے وہ اپنے ہی ملک کا کوئی شہر ہو یا کوئی دوسرا ملک۔ سیاحت کے مختلف مقاصد ہوسکتے ہیں۔ کچھ لوگ صرف تفریح اور گھومنے کیلئے سفر کرتے ہیں، کچھ لوگ نئی چیزیں دیکھنے اور سیکھنے کے شوق میں، کچھ افراد مہم جوئی کی تلاش میں پہاڑوں اور دریاؤں کا رُخ کرتے ہیں اور کچھ لوگ صرف یہ دیکھنے نکلتے ہیں کہ دُنیا کے دوسرے حصوں میں لوگ کیسے رہتے ہیں، کیا کھاتے ہیں اور کن روایات پر عمل کرتے ہیں۔ 
سیاحت کی اہمیت صرف تفریح تک محدود نہیں۔ جب ہم سفر کرتے ہیں تو دراصل ہم ایک زندہ کتاب پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ کسی نئے شہر یا ملک میں جا کر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگوں کی ثقافت کیا ہے، ان کی زبان کیسی ہے، ان کے رسم و رواج کیا ہیں اور ان کا طرزِ زندگی ہم سے کس طرح مختلف یا ملتا جلتا ہے۔ مثال کے طور پر، جاپان جا کر آپ کو معلوم ہوگا کہ وہاں کے لوگ نظم و ضبط کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اس طرح سیاحت کی وجہ سے ہمیں کتابوں میں پڑھی ہوئی باتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور یہ تجربہ ہمارے ذہن کو وسیع کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیپال سانحہ کو محض ایک قدرتی آفت سمجھ کر آگے بڑھ جانا بڑی غلطی ہوگی

سیاحت کسی بھی ملک کی معیشت کیلئے ایک بہت بڑا سہارا بھی ہے۔ جب سیاح کسی جگہ جاتے ہیں تو وہ ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں، مقامی ریستورانوں میں کھانا کھاتے ہیں، ٹیکسی اور گائیڈز کی خدمات لیتے ہیں اور یادگار کے طور پر مقامی سامان خریدتے ہیں۔ سیاحت کی وجہ سے ان پیشوں سے جڑے ہزاروں افراد کو روزگار ملتا ہے اور چھوٹے کاروبار بھی پھلتے پھولتے ہیں۔ تھائی لینڈ، مالدیپ جیسے کئی ممالک کی معیشت میں سیاحت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ 
اب سوال یہ ہے کہ آیا آپ جیسے نوجوانوں کو بھی سیاحت کرنی چاہئے یا صرف پڑھائی پر توجہ دینی چاہئے؟ میرا خیال ہے کہ طلبہ کو، جب بھی موقع ملے، پڑھائی کے اوقات سے تھوڑا وقت نکال کر سیاحت ضرور کرنی چاہئے۔ سفر ایک ایسا استاد ہے جو کلاس روم کی دیواروں سے باہر نکل کر سبق دیتا ہے۔ کتابوں میں پڑھا ہوا جغرافیہ یا تاریخ کا علم اس وقت زیادہ دلچسپ اور یادگار بن جاتا ہے جب ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ سفر کرنے سے خود اعتمادی بڑھتی ہے، نئے لوگوں سے بات چیت کرنے کا ہنر آتا ہے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً اگر ہم کسی نئی جگہ پر راستہ بھول جائیں تو خود ہی راستہ ڈھونڈنا سیکھنا پڑتا ہے۔ اس عمر میں کیا گیا سفر، چاہے وہ کسی قریبی شہر کا ہو یا کسی دور دراز ملک کا، ایک ایسا تجربہ بن جاتا ہے جو زندگی بھر ساتھ رہتا ہے اور یہ ہماری شخصیت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ لیکن سفر کرتے وقت یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ہم یہاں مہمان ہیں، مالک نہیں۔ اسی لئے ’ذمہ دار سیاحت‘ بہت اہم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جہاں بھی جائیں، وہاں کی قدرتی خوبصورتی کو نقصان نہ پہنچائیں اور وہاں کچرا نہ پھیلائیں۔ اس کے ساتھ ہی، مقامی لوگوں کی ثقافت اور روایات کا احترام کریں، ان کے لباس اور رسم و رواج کا مذاق نہ اڑائیں بلکہ ان سے سیکھنے کی کوشش کریں۔ اس مقام پر اچھی یادیں اور اچھی تصویریں بنائیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK