ممبئی کے معروف تعلیمی ادارے صابو صدیق میں ایک مشاعرہ تھا جہاں مشہورفلم ساز اے آر کاردار بھی موجود تھے، شکیل کا کلام سنتے ہی انہوں نے انہیں فلموں میں نغمہ نگاری کی پیشکش کردی تھی۔
EPAPER
Updated: August 31, 2025, 12:24 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai
ممبئی کے معروف تعلیمی ادارے صابو صدیق میں ایک مشاعرہ تھا جہاں مشہورفلم ساز اے آر کاردار بھی موجود تھے، شکیل کا کلام سنتے ہی انہوں نے انہیں فلموں میں نغمہ نگاری کی پیشکش کردی تھی۔
اُس زمانے میں جب فلموں سے وابستہ ہونا معیوب سمجھا جاتا تھا، ایک مذہبی قسم کے خاندان کے ایک مولوی اور ایک مسجد کے پیش امام کے گھر شکیل بدایونی کی پیدائش ہوئی۔ بدایوں (اُتر پردیش) میں سوختہ خاندان کے ایک بزرگ تھے، جن کا نام تھا منشی ہدایت اللہ۔ ان کے دو صاحبزادے تھے، ایک کا نام منشی حضور احمد تھا اور دوسرے مولوی جمیل احمد قادری سوختہؔ۔ جمیل احمد قادری کے یہاں ۳؍اگست ۱۹۱۶ء کو ایک لڑکے کا جنم ہوا تو اُس کا نام شکیل احمد رکھا گیا۔ اِسی بچے کا تاریخی نام غفار احمد بھی نکالا گیا۔ یہی شکیل احمد بڑے ہوکر شکیل بدایونی کے نام سے مشہور ہوئے۔
شکیل بدایونی کے والد ممبئی میں خوجہ سنی مسجد کے پیش امام تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم خاندانی روایات کے مطابق اردو، فارسی اور عربی میں بھی شروع ہوئی۔ انہوں نے ایک دو سال باپ کے پاس رہ کر ممبئی کے مختلف اسکولوں میں بھی پڑھائی جاری رکھی مگر بعد میں ۱۹۳۶ء میں ہائی اسکول کا امتحان اسلامیہ ہائی اسکول، بدایوں کے طالب علم کی حیثیت سے الٰہ آباد بورڈ سے پاس کیا۔
شکیل بدایونی کی شادی یکم اکتوبر ۱۹۳۶ء کو سلمیٰ پروین سے ہوئی۔ اُس وقت شکیل کی عمر صرف ۲۰؍سال تھی۔ شکیل بدایونی کا ذوق شاعرانہ اور مزاج عاشقانہ تھا لہٰذا یہ لگام بھی اسفند تخئیل کی دوڑ کو نہ روک سکی اور حضرت مولانا ضیا القادری کی زیر تربیت شاعری کا جنون سر چڑھتا رہا۔ شکیل کی ۵؍ اولادیں ہوئیں۔ دو لڑکے اور تین لڑکیاں۔ ان کی سب سے بڑی لڑکی رضیہ شکیل کراچی میں ہیں اور صفیہ شکیل ممبئی میں ہیں۔ سب سے چھوٹی بیٹی نجمہ شکیل خود شکیل بدایونی کے انتقال کے کچھ ہی عرصہ بعد خدا کو پیاری ہو گئی تھیں۔ اُن کے دو لڑکے جاوید شکیل اور طارق شکیل ممبئی ہی میں رہ کر اپنا اپنا کاروبار سنبھالتے ہیں۔
مولانا ضیا القادری شکیل بدایونی کے والد کے بے حد عزیز اور قریبی دوست تھے اور انہی کے پڑوس میں رہتے تھے۔ بہت سے لوگ ان کو شکیل کے والد کا سگا بھائی ہی تصور کرتے تھے۔ شکیل انہیں سے مشورۂ سخن کرتے تھے۔ ابتدائی غزلوں پر مولانا کی اصلاحیں بہت کام آئیں اور شکیل کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ مولانا خود بھی پائے کے شاعر تھے اور ان کے پاس شعرا، ادباء اور علماء کا مجمع لگا رہتا تھا۔ شکیل کی ادبی شاعری میں انقلاب اس وقت آیا جب وہ علم و فن کے مرکز، بدایوں کو چھوڑکر علی گڑھ پہنچے۔ یہ ۱۹۳۶ء کا زمانہ تھا اور شکیل ’ ڈے اسکالر‘ کی حیثیت سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مقیم تھے۔ یہاں انہیں ہر مکتبۂ خیال کے ادباء، شعراء اور علماء سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ جگرؔ مراد آبادی سے ملنے اور اُن کی فکر و نظر سے فیض یاب ہونے کا موقع بھی یہیں حاصل ہوا۔ جگر صاحب سے ان کی قربت بڑھتی گئی، جس سے ان کا ذوق تغزل اور نکھر گیا اور وہ اسی میدان کے مرد بن گئے۔
ان کی شاعری میں زندگی اور محبت کا تصور بہت سادہ، پاکیزہ اور خوبصورت ہے۔ اس تصور میں ان کی رومانیت جلوہ گر ہے۔ ۱۹۴۲ء میں علی گڑھ سے بی اے کرکے شکیلؔ بدایونی دہلی آگئے اور حکومت کے محکمۂ سپلائی میں ملازمت اختیار کر لی۔ یہاں آکر شکیلؔ کو ادبی مشاغل کا اور وسیع میدان ملا۔ دہلی میں ان دنوں امرناتھ ساحرؔ، بیخودؔ، سائلؔ، زار اورامنؔ جیسے بزرگ شعراء تھے تو دوسری طرف جوشؔ، مجازؔ، تاثیرؔ، فیضؔ اور جعفریؔ جیسے جدید شاعری کے علمبرداروں کی نبرد آزمائی کا میدان بھی تھا۔ انہوں نے اپنے لئے قدیم اور جدید شاعری کے درمیان ایک نئی راہ نکالی، جس میں بیک وقت پراناپن بھی تھا اور نیاپن بھی۔ قدیم اور جدید شاعری کے امتزاج نے شکیلؔ کو انفرادیت بخشی اور وہ بہت جلد مقبول ہو گئے۔ دہلی میں ان کا پہلا مجموعۂ کلام ’راعنائیاں ‘ شائع ہوا۔ بعد ازاں ۱۹۴۶ء تک ان کا شمار مشہور شعرا میں ہونے لگا۔ اس دوران وہ متواتر دہلی اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔
شاعری اور نوکری دو متضاد چیزیں ہیں مگر ان دونوں تضادات کو ایک ساتھ لے کر ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۶ء تک شکیل بدایونی حکومت کے محکمہ سپلائی میں کام کرتے رہے۔ وہاں وقت کی پابندی تھی اور شکیل کے مزاج میں آزادی کا رنگ تھا۔ وہاں افسروں کی سختیاں تھیں اور شکیل کی فطرت میں خودداری کا عنصر تھا، وہاں میز اور فائلوں کا انبار تھا اور شکیل کی طبیعت تخلیقِ فن کی طرف مائل تھی۔ غرض شکیل کی روح کو ایسے ماحول کی تلاش تھی جہاں پابندی بھی نہ ہو، عزت بھی ملے اور پیسہ بھی۔ اسی درمیان ۱۹۴۶ء میں پہلی بار شکیل ممبئی کے بائیکلہ میں صابو صدیق انسٹی ٹیوٹ کی دعوت پر مشاعرہ پڑھنے آئے۔ اسی مشاعرہ میں جگر مرادآبادی، ماہرالقادری اور نوح ناروی جیسے شاعر بھی موجود تھے اور مجروحؔ سلطانپوری اور خمار بارہ بنکوی بھی تھے۔ اسی مشاعرے میں مشہور فلمساز وہدایتکار اے آر کاردار صاحب بھی موجود تھے۔ کاردار صاحب کا ذوق بہت اچھا تھا۔ انہوں نے وہیں پر شکیل کو کلام پڑھتے ہوئے سنا۔ حالانکہ ان کی شہرت اس وقت تک دہلی اور لاہور کے علاوہ ممبئی کے ادبی حلقوں تک بھی پہنچ چکی تھی۔ کاردار صاحب اس مشاعرے میں شکیل کے کلام سے بہت متاثر ہوئے۔ مشاعرے کے بعد کاردار صاحب نے ان سے ملاقات کی اور فلموں میں نغمہ نگاری کی پیشکش کی جو انہوں نے منظور کر لی۔ اگلے ہی دن سارے معاملات طے ہو گئے اور شکیل نے دہلی آکر سرکاری ملازمت کو خیرباد کہہ دیا۔ اس طرح شکیل بدایونی اگست ۱۹۴۶ء میں مستقل طور پر ممبئی آگئے اور اسی ممبئی میں، جہاں اُن کے والد پیش امام رہ چکے تھے، انہوں نے فلمی نغمہ نگاری کے میدان میں پیر پھیلانے شروع کر دیئے۔
ممبئی میں جلد ہی کاردار اسٹوڈیو میں ان کی دوستی ملک کے مشہور موسیقار نوشاد علی سے ہو گئی، اور پھر رفتہ رفتہ یہ دوستی ہمیشہ کا ساتھ بن گئی۔ شکیل بدایونی نے سب سے پہلے کاردار صاحب کی فلم ’درد‘ کے نغمے لکھے۔ ان کا پہلا فلمی نغمہ تھا۔
ہم درد کا افسانہ دنیا کو سنا دیں گے
ہر دل میں محبت کی اک آگ لگا دیں گے
پہلی فلم ’درد‘ کے گانوں نے شکیل کو فلمی دنیا میں بام شہرت تک پہنچا دیا تھا۔ اس کے بعد جس طرح نوشاد صاحب موسیقار اعظم کہلائے، اسی طرح شکیل نے بھی بلندی اور شہرت حاصل کی۔
فلموں میں حضرت آرزوؔ لکھنوی نے معیاری اور ادبی گیتوں کے لکھنے کی بنیاد ڈالی تھی۔ اُن کے بعد جن شعراء نے اس معیار کو فروغ دیا، ان میں شکیل بدایونی کا نام سرفہرست ہے۔
بنیادی طور پر شکیلؔ غزل گو شاعر ہیں۔ اردو اور فارسی کی کلاسیکی شاعری سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ وہ روایت پرست نہیں بلکہ روایت پسند تھے۔ اسی روایت پسندی سے ان کے فلمی نغموں میں ماضی کا صحیح احساس پیدا ہوا۔ ظاہر ہے جب تک یہ احساس پیدا نہ ہو، زندگی کی قدروں اور جذبہ و احساس کے ارتقاء اور تسلسل کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ ان کا کلاسیکی رجحان، جمالیاتی اور رومانی مزاج کو سہارا دیتا ہے، احتیاط کا شعور پیدا کرتا ہے۔ ان کے فلمی نغموں کا ایک رومانی کردار ہے جو روایات کے پس منظر میں ابھرکر کلاسیکی رجحان اور جدید نغمہ سرائی کے فن کو سمجھتا ہے۔ شکیل حسن وعشق کے نغمے رسمی طور پر نہیں سناتے، تخئیل اور جذبے کی ہم آہنگی سے حسن وعشق کے تجربوں میں نئی وسعتیں پیدا کرتے ہیں۔
شکیل نہایت سادہ سی طبیعت کے مالک تھے۔ وہ فلمی دنیا کی چمک دمک سے بھی زیادہ متاثر نہ ہوئے تھے۔ ایک نہایت شریف قسم کی شخصیت کے طور پر انہوں نے فلمی دنیا میں بڑی عزت اور احترام سے بھرپور زندگی گزاری۔ ان کی شرافت اور سادگی کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے، جو یہاں بیان کرنا ضروری ہے۔
ایک بار کا ذکر ہے کہ بیگم اختر بمبئی سے لکھنؤ کیلئے ٹرین سے روانہ ہونے والی تھیں، اچانک وی ٹی اسٹیشن پر شکیل اُن سے ملنے آگئے اور چلتے وقت انہوں نے ایک پرچی پر اپنی غزل لکھ کر بیگم اختر کو دے دی۔ سرسری طور پر دیکھ کر اور بعد میں پڑھنے کے خیال سے انہوں نے پرچہ اپنے بٹوے میں رکھ لیا۔ اُسی ٹرین کے ڈبے میں بیگم اختر نے شکیل بدایونی کی غزل کی دھن بنائی اور گنگنائی، جو آگے چل کر دونوں کی پہچان بن گئی۔ لکھنو پہنچ کر جب بیگم اختر نے پہلی بار یہ غزل آل انڈیا ریڈیو سے پڑھی تو پورے برصغیر میں سریلی غزل گائیکی کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ غزل تھی:
اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا
فلمی دُنیا میں ایک شاندار مقام حاصل کرنے کے ساتھ ہی شکیل نے دنیائے ادب میں بھی اپنا وہی مقام بنائے رکھا اور وہ ادبی حلقوں میں بھی اتنے ہی مقبول رہے، جتنے فلمی حلقوں میں۔ ان کی بعض غزلیں جو ادبی حیثیت رکھتی ہیں، ان کے فلمی گیتوں سے بھی زیادہ ملک بھر میں مقبول ہو چکی ہیں۔ ممبئی کے مشاعرے شکیل کے بغیر سُونے معلوم ہوتے تھے اور شکیل کو بھی مشاعروں کے بغیر چین نہیں آتا تھا۔
شکیل جس قدر رومانی فلمی نغمہ نگار ہیں، اتنے ہی انقلابی اور سیاسی بھی، لیکن وہ انقلاب اور سیاست کی بات بھی ساغر ومینا اور گل و بلبل کی معرفت کرتے ہیں۔ انسانیت اور وطن پرستی کا دَرد اُن کے سینے میں ہر وقت ایک ہوک سی پیدا کئے رہتا ہے۔ یاد کیجئے فلم ’لیڈر‘ میں شکیل کا وہ نغمہ:
اپنی آزادی کو ہم ہرگز مٹا سکتے نہیں
شکیل بدایونی ہر قسم کی سچویشن پر گیت لکھنے میں مہارت رکھتے تھے۔ یاد کیجیے فلم ’گنگا جمنا‘ کے تمام نغمے انہوں نے بھوجپوری زبان کی چاشنی میں لپیٹ کر نہایت عمدہ طریقے سے پیش کئے ہیں۔ فلم’مغل اعظم‘ کے نغمے شکیل نے ہی لکھے تھے جس کا تقریباً ہر گانا مقبول ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ’مغل اعظم‘ کا نغمہ ’’جب پیار کیا تو ڈرنا کیا‘‘ سب سے زیادہ بار سنے گئے نغموں میں سے ایک ہے۔ فلم کی کہانی کے مطابق سچویشن پر گیت لکھنا اور بنی بنائی دُھن پر الفاظ کا جال بچھانا اپنے آپ میں ایک مشکل فن ہے۔ ان تمام مشکلات کے ساتھ شکیل بدایونی نے فلمی نغموں میں بھی ادبی معیار کو برقرار رکھا ہے اور یہ بات کیفیؔ اعظمی، ساحرؔ لدھیانوی، مجروحؔ سلطانپوری اور شکیلؔ بدایونی جیسے صرف چند ہی فلمی نغمہ نگار کر پائے ہیں۔ ۱۹۶۱ء میں فلم ’چودھویں کا چاند‘ کے نغمے پر پہلی بار شکیل کو فلم فیئر ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ان کے چار شعری مجموعے’’رعنائیاں، صنم و حرم، شبستان اور رنگینیاں ‘‘ منظرعام پر آئے ہیں۔ انہوں نے کل ملاکر ۸۹؍فلموں کے نغمے قلمبند کئے۔
شکیل بدایونی ۲۰؍اپریل ۱۹۷۰ء کو شام کے ۴؍ بجے حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اس جہانِ فانی سے رُخصت ہوئے اور اُسی رات باندرہ ممبئی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔