Updated: July 15, 2026, 2:05 PM IST
| Dhaka
بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے مشیر کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کو واپس آ کر مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے، ‘ہم ان کا استقبال کریں گے’طارق رحمان کی قیادت والی بنگلہ دیش حکومت نے منگل (۱۴؍ جولائی) کو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی وطن واپسی کے منصوبوں پر ‘خیرمقدم’ کیا ہے۔
بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم سیخ حسینہ۔ تصویر: آئی این این
بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے مشیر طارق رحمان کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کو واپس آ کر مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے، ‘ہم ان کا استقبال کریں گے’طارق رحمان کی قیادت والی بنگلہ دیش حکومت نے منگل (۱۴؍ جولائی) کو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی وطن واپسی کے منصوبوں پر ‘خیرمقدم’ کیا ہے۔ وزیراعظم کے ایک مشیر نے کہا کہ انہیں قانونی عمل سے گزرنا چاہیے اور ‘دنیا کے بہترین وکلاء لانے چاہئیں۔ واضح رہے کہ یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب معزول بنگلہ دیشی لیڈر نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اشارہ دیا تھا کہ وہ اس سال کے آخر تک بنگلہ دیش واپس آ سکتی ہیں۔بعد ازاں میڈیا بریفنگ میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے اطلاعات و حکمت عملی کے مشیر زاہد الرحمٰن نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ حسینہ واپس آئیں اور عدالتی کارروائی کا سامنا کریں۔بزنس اسٹینڈرڈ کے مطابق زاہد نے کہا، ’’ہم انہیں واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر وہ واپس آتی ہیں تو ہم ان کا استقبال کریں گے، کیونکہ ہم انصاف کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ حکومت حسینہ کی حوالگی کے لیے کام کر رہی ہے اور چاہتی ہے کہ عدالتیں ان کی تقدیر کا فیصلہ کریں۔انہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ اگر ہم حوالگی کے ذریعے انہیں واپس لا سکتے ہیں تو یہی ہماری کوشش ہے۔
مزید برآں زاہد کا خیال ہے کہ حسینہ کی واپسی سے سیاسی دباؤ یا عدم استحکام پیدا نہیں ہوگا، اور انہیں بنگلہ دیش میں ان کی کوئی سیاسی مستقبل نظر نہیں آتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ضابطہ کار کے مسائل ان کی واپسی میں رکاوٹ نہیں بنیں گے، اور نئی دہلی ڈھاکہ سے مشاورت کے بعد ضروری انتظامات کر سکتی ہے۔‘‘
ذہن نشین رہے کہ ۷۸؍ سالہ حسینہ کو۵؍ اگست ۲۰۲۴ء کو طلباء کی پرتشدد تحریک کے بعد اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد ڈھاکہ چھوڑنے کے بعد سے وہ ہندوستان میں مقیم ہیں۔بنگلہ دیش کے بین الاقوامی جرائم ٹریبونل نے بعد میں حسینہ کو غیرحاضری میں سزائے موت سنائی، جب کہ انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم پایا گیا۔ان الزامات کا تعلق جولائی اور اگست ۲۰۲۴ء کے طلباء کی بغاوت کے دوران مظاہرینکےخلاف جان لیوا طاقت استعمال کرنے کے احکامات دینے میں ان کے کردار سے ہے۔تاہم حسینہ کی معزولی کے بعد، چیف مشیر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے مئی۲۰۲۵ء میں عوامی لیگ کو ملک کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت انتخابی مہم، سیاسی سرگرمیوں اور انتخابات میں حصہ لینے سے رسمی طور پر روک دیا۔