Updated: July 15, 2026, 4:42 PM IST
| New Delhi
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک اوراحتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کیلئے۱۶؍ جولائی کو ملک گیر ایک روزہ بھوک ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہسونم وانگچک کی مسلسل بگڑتی صحت کے باعث ملک بھر سے سیاسی لیڈروں، سماجی شخصیات اور فلمی ستارے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
سونم وانگچک کی صحت بگڑتی جارہی ہے۔ تصویر: آئی این این
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک اور نیٹ یو جی سمیت دیگر امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کیلئے۱۶؍ جولائی کو ملک گیر ایک روزہ بھوک ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال بدھ کو۱۸؍ویں دن میں داخل ہو گئی، جبکہ دہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کا احتجاج۲۵؍ویں دن جاری ہے۔ سونم وانگچک اور سی جے پی دونوں کا مطالبہ ہے کہ امتحانی بے ضابطگیوں کے الزامات کے پیشِ نظر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان استعفیٰ دیں۔ پارٹی نے اپنے بیان میں عوام سے اپیل کی کہ وہ احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔ پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’کل، ۱۶؍ جولائی کو سونم وانگچک اور ملک کے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کیلئے ایک روزہ اجتماعی بھوک ہڑتال میں شامل ہوں۔ دھرمندر پردھان کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ ‘‘
سونم وانگچک کی صحت تشویشناک
ادھر، سونم وانگچک کی صحت کے حوالے سے تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق، ۲۸؍ جون سے بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بعد وانگچک کا۸ء۹؍ کلوگرام سے زائد وزن کم ہو چکا ہے، ان کے جسم میں عضلات کی کمی شروع ہو گئی ہے اور وہ شدید جسمانی تکلیف کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کا بلڈ پریشر بھی کم ہو کر۱۰۵/۷۶؍رہ گیا ہے۔ صحت بگڑنے کے باوجود وانگچک نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے جب تک حکومت ان سے باضابطہ مذاکرات شروع نہیں کرتی۔
مختلف سیاسی لیڈروں کی اپیل
وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیشِ نظر ممتا بنرجی، اکھلیش یادو، ادھو ٹھاکرے، ششی تھرور اور اروند کیجریوال سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے ان سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسی دوران دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وانگچک کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے، انہیں ضروری طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ضرورت پڑنے پر زبردستی خوراک بھی دی جائے۔ قابلِ ذکر ہے کہ اسی ہفتے AISA کے کارکن دیپک، جو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر تھے، طبیعت بگڑنے کے بعد اسپتال میں داخل کرائے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: دہشت گردی نیٹ ورک کے معاملے میں اے ٹی ایس کی ۶۶؍ افراد سے پوچھ تاچھ
امتحانی اصلاحات کا پانچ نکاتی منشور
جنتر منتر پر احتجاج کی قیادت کرنے والی سی جے پی نے امتحانی نظام میں اصلاحات کیلئے پانچ نکاتی منشور بھی پیش کیا ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کی مہم کو مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے کے علاوہ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانی تنازع سے متعلق مبینہ خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے۔ احتجاج کو مزید وسعت دیتے ہوئے پارٹی نے۲۰؍ جولائی، یعنی پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن، ’’چلو سانسد‘‘ مارچ کا بھی اعلان کیا ہے اور حامیوں سے مسڈ کال مہم کے ذریعے رجسٹریشن کی اپیل کی ہے۔
یہ غصہ بدتمیزی نہیں بلکہ ایک نسل کی اذیت ہے: ششی تھرور
کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے احتجاج کرنے والے طلبہ اور سونم وانگچک کے ساتھ مذاکرات کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر پر نظر آنے والا غصہ دراصل اس نسل کی بے بسی اور مایوسی کا اظہار ہے جس کا اعتماد میرٹ پر مبنی نظام سے اٹھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں بھی طلبہ کے مطالبات اور وانگچک کے معاملے کو اٹھائیں گی۔
ادھو ٹھاکرے نے بھی کہا کہ یہ مسئلہ سیاست کا نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کا ہے، اور تمام جماعتوں بشمول راہل گاندھی کو اس تحریک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔
’’میرٹ ہی ہمارا سہارا تھا‘‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے کھلے خط میں ششی تھرور نے اپنی ذاتی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد ایک تنخواہ دار اخباری ملازم تھے جبکہ والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ انہوں نے لکھا کہ ان جیسے متوسط طبقے کے خاندانوں کیلئے اسکالرشپس، شفاف امتحانات اور ایماندارانہ نتائج ہی ترقی کا واحد راستہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ممبئی، کولکاتا اور دہلی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ یونیورسٹی میں اول آئے، انہیں آئی آئی ایم میں داخلہ ملا، لیکن انہوں نے امریکہ میں بین الاقوامی امور کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے اسکالرشپ قبول کی۔ انہوں نے لکھا:’’مجھے کچھ وراثت میں نہیں ملا، سب کچھ محنت اور امتحانات کے ذریعے حاصل کیا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: وانگ چک کی حالت ابتر، چوطرفہ حمایت
’’جب میرٹ کا نظام ٹوٹ جاتا ہے‘‘
ششی تھرور نے کہا کہ جب پرچے لیک ہوں، امتحانات منسوخ ہوں اور شفافیت ختم ہو جائے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان عام اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کو ہوتا ہے، جبکہ امیر طبقے کے پاس متبادل راستے موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ سے کہا:’’آپ کا غصہ بدتمیزی نہیں بلکہ اس نسل کی اذیت ہے جس نے سب کچھ درست کیا مگر پھر بھی دھوکہ کھایا۔ ‘‘
وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
ششی تھرور نے سونم وانگچک سے براہِ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں کیونکہ وہ پہلے ہی قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا’’ہندوستان کو آنے والے طویل سفر کیلئے آپ کی آواز کی ضرورت ہے۔ براہِ کرم اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں۔ ‘‘تھرور نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں سے مذاکرات کرے کیونکہ مکالمہ کمزوری نہیں بلکہ بالغ نظری کی علامت ہے۔
اکھلیش یادو کی حمایت
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی فون پر سونم وانگچک سے بات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور اپنی جماعت کی جانب سے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ انہوں نے وانگچک سے اپیل کی کہ وہ اپنی صحت بہتر بنانےکیلئے کچھ دن بھوک ہڑتال ختم کریں اور پھر نئی توانائی کے ساتھ تحریک جاری رکھیں۔ انہوں نے بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں عوامی اتحاد کی تحریک کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
ادھو ٹھاکرے اور شیو سینا (یو بی ٹی) کی حمایت
شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور پارٹی لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے بھی احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت کے ارکانِ پارلیمنٹ مانسون اجلاس میں اس معاملے کو اٹھائیں گے اور۲۰؍ جولائی کے پارلیمنٹ مارچ کی بھی حمایت کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ: کمال مولا مسجد میں مسلمانوں کونماز جمعہ کی اجازت
سوارا بھاسکر، سونی رازدان، نصیر الدین شاہ، ابھے دیول نے سونم وانگچک کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا
سوارا بھاسکر کی ملاقات
اداکارہ سوارا بھاسکر بھی منگل ۱۴؍جولائی کو جنتر منتر پہنچیں اور سونم وانگچک سے ملاقات کی۔ انہوں نے انسٹاگرام پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا:’’ہمارے تمام بچوں کے مستقبل کیلئے جدوجہد کرنے پر آپ کا شکریہ۔ ‘‘ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا:’’سونم وانگچک ہمارے بچوں کے مستقبل کیلئے لڑ رہے ہیں۔ میری مکمل یکجہتی اور تشکر ان کے ساتھ ہے۔ ‘‘سوارا بھاسکر شروع ہی سے سوشل میڈیا کے ذریعے اس احتجاج کی مسلسل حمایت کرتی آ رہی ہیں۔
سونی رازدان نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی
بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ سونی رازدان نے بھی ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حمایت میں آواز بلند کرتے ہوئے ان سے اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ وانگچک دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ پرچہ لیک معاملے اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال پر ہیں۔ بدھ کو انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے سونی رازدان نے لکھا:’’پیارے سونم وانگچک، ہم سب آپ کی صحت کیلئے دعاگو ہیں۔ براہِ کرم ہمیں اس طرح چھوڑ کر نہ جائیں۔ زندہ رہئے تاکہ ایک اور دن جدوجہد جاری رکھ سکیں۔ ہمارے ساتھ رہئے، آج ہی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیجیے۔ ‘‘انہوں نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں مزید لکھا:’’ہمیں آپ کی ضرورت ہے، براہِ کرم ہمیں چھوڑ کر نہ جائیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایودھیا: رام مندرچندہ چوری معاملے کے بعد ماہانہ عطیہ آن لائن شائع کرنے کا فیصلہ
اس سے قبل معروف اداکار نصیرالدین شاہ اور رتنا پاٹھک شاہ بھی سونم وانگچک سے ان کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کر چکے ہیں۔ اداکار ابھے دیول اور عمران خان نے بھی انسٹاگرام کے ذریعے وانگچک کی حمایت کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ یہ احتجاج۲۰؍ جون کو شروع ہوا تھا، جبکہ سونم وانگچک۲۸؍ جون کو اس تحریک میں شامل ہوئے اور تب سے مسلسل غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔