Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا ورلڈ کپ : ارجنٹائنا نے اپنی خوش قسمت نیلی جرسی پہننے کی درخواست کر دی

Updated: July 15, 2026, 5:06 PM IST | Atlanta

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے سیمی فائنل میں بدھ کو ہونے والے سنسنی خیز مقابلے سے قبل ارجنٹائنا نے انگلینڈ کے خلاف اپنی گہری نیلی اوے جرسی پہننے کی درخواست کر دی ہے، جسے ارجنٹائنی شائقین اپنی ’خوش قسمت جرسی‘ تصور کرتے ہیں۔

Lionel Messi.Photo:X
لیونل میسی۔ تصویر:ایکس

 فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے سیمی فائنل میں بدھ کو ہونے والے سنسنی خیز مقابلے سے قبل ارجنٹائنا نے انگلینڈ کے خلاف اپنی گہری نیلی اوے جرسی   پہننے کی درخواست کر دی ہے، جسے ارجنٹائنی شائقین اپنی ’خوش قسمت جرسی‘ تصور کرتے ہیں۔یہ وہی جرسی ہے جسے  ڈیاگو میراڈونا  نے ۱۹۸۶ء کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کے خلاف پہنا تھا، جب انہوں نے متنازع ’’ہینڈ آف گاڈ‘‘ گول اور بعد میں ’’گول آف دی سنچری‘‘ قرار دیے جانے والے تاریخی گول کی بدولت ارجنٹائنا کو فتح دلائی تھی۔ موجودہ عالمی چیمپئن ارجنٹائنا نے اس بار بھی روایتی آسمانی نیلی اور سفید دھاری دار ہوم کٹ کے بجائے اپنی گہری نیلی اوے کٹ منتخب کی ہے، تاکہ ماضی کی اس تاریخی کامیابی سے نفسیاتی برتری حاصل کی جا سکے۔
 `ہینڈ آف گاڈ کی یادیں آج بھی تازہ
۱۹۸۶ء کے اس متنازع مقابلے میں میراڈونا نے ہاتھ سے گیند کو جال میں پہنچایا تھا، لیکن نہ ریفری اور نہ ہی لائنز مین اس خلاف ورزی کو دیکھ سکے۔ اس واقعہ نے گزشتہ چار دہائیوں سے فٹبال کی تاریخ میں ایک مستقل بحث کو جنم دے رکھا ہے۔ تاہم  انگلینڈ کے سابق گول کیپر  پیٹر شلٹن ، جو اس میچ میں گول پر موجود تھے، نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ اب اس واقعہ کو بھلا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا’’پورے اسٹیڈیم نے ہینڈ بال دیکھا تھا، سوائے ریفری اور لائنز مین کے۔ میں حقیقت جانتا ہوں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس معاملے کو ختم کر دیا جائے۔شلٹن نے بتایا کہ ارجنٹائنا کے دورے کے دوران وہاں کے عوام کی محبت نے بھی انہیں ماضی کی تلخیوں کو بھلانے میں مدد دی۔

یہ بھی پڑھئے:عتیقہ میر نے مرسڈیز ایف ون جونیئر ڈرائیورز کو پیچھے کیا، تاریخی پول پوزیشن حاصل کی


 انگلینڈ اپنی روایتی سفید جرسی میں میدان میں اترے گا
دوسری جانب انگلینڈ اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر سفید ہوم کٹ میں میدان میں اترنے کی تیاری کر رہا ہے۔ہیری کین کی قیادت میں انگلش ٹیم کو امید ہے کہ اس مرتبہ انہیں ۱۹۸۶ء کی طرح متنازع ریفری فیصلوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اگرچہ امریکی ریفری  اسماعیل الفتح  کی تقرری نے بعض انگلش شائقین کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ 
اسماعیل الفتح اس سے قبل لیونل میسی کے متعدد میجر لیگ ساکر (ایم ایل ایس) میچوں میں ریفری کے فرائض انجام دے چکے ہیں، جن میں وہ مقابلہ بھی شامل ہے جس میں میسی نے  انٹر میامی  کے ساتھ اپنی پہلی ٹرافی جیتی تھی۔
ارجنٹائنا پر ریفری فیصلوں سے فائدہ اٹھانے کے الزامات
ارجنٹائنا کے سیمی فائنل تک کے سفر کے دوران بھی ریفری کے فیصلوں پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ سوئزر لینڈ کے خلاف کوارٹر فائنل میں  ۱۔۳؍گول کی فتح کے بعد سوئس  ڈیفینڈر مانویل اکانجی  نے کہا’’ہر چھوٹا فیصلہ ہمارے خلاف گیا۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا یکطرفہ میچ کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ سوئزر لینڈ کے اسٹرائیکر بریل ایمبولو  کو وی اے آر جائزے کے بعد دوسرے پیلے کارڈ پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا، جس پر سوئس ٹیم اور کوچنگ اسٹاف نے شدید احتجاج کیا۔

یہ بھی پڑھئے:آئی ایف ایف ایم میں رانی مکھرجی کو اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا جائے گا


میدان سے باہر بھی نفسیاتی جنگ جاری
دونوں ٹیموں کے درمیان نفسیاتی جنگ بھی زوروں پر ہے۔ارجنٹائنی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ انگلینڈ کے مڈفیلڈر  جوڈ بیلنگھم  کندھے کی تکلیف سے دوچار ہیں، جبکہ انگلش شائقین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) سے تیار کردہ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر  کو سیمی فائنل کا ریفری دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو ۱۹۸۲ء کی  فاک لینڈ جنگ  کے تاریخی پس منظر کی طرف اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK