• Sun, 06 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’جہاں پیسے کی بات ہوتی ہے، وہاں لوگ جذبات نہیں دیکھتے‘‘

Updated: September 06, 2026, 4:56 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ٹی وی، تھیٹر اور فلم اداکارہ شویتا ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ایک دوسرے سے بات چیت کرنا اور جڑے رہنا بہت ضروری ہے۔

TV, theatre and film actress Shweta Tripathi. Photo: INN
ٹی وی، تھیٹر اور فلم اداکارہ شویتا ترپاٹھی۔ تصویر:آئی این این

شویتا ترپاٹھی فلم اور ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ ہیں، جنہوں نے اپنی مضبوط اداکاری اور منفرد کرداروں کے ذریعے ہندی شوبز انڈسٹری میں نمایاں مقام بنایا ہے۔ ان کے والد سول سروس سے وابستہ رہے جبکہ والدہ ایک استانی تھیں۔ شویتا نے اپنی تعلیم دہلی میں مکمل کی اور بعد ازاں اداکاری کے شعبے میں قدم رکھا۔  انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز ٹیلی ویژن سے کیا تھا۔ وہ ابتدائی طور پر ڈزنی چینل کے مختلف پروگراموں میں نظر آئیں۔ بعد میں انہوں نے فلموں کا رخ کیا اور ۲۰۱۱ء میں فلم’ٹرپن‘ میں کام کیا۔ تاہم انہیں بڑے پیمانے پر پہچان ’مسان‘ سے ملی، جس میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔ شویتا ترپاٹھی کے کریئر کا سب سے مقبول کردار گولو گپتا ہے، جسے انہوں نے ویب سیریز ’مرزا پور‘ میں ادا کیا۔ اب اسی سیریز کی فلم ریلیز ہوچکی ہے۔ ان کے کرداروں میں اکثر مضبوط، حساس اور حقیقت کے قریب نظر آنے والی خواتین کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ شویتا ترپاٹھی نے اداکار اور ریپر چیتن شرما سے شادی کی ہے۔ شویتا کو خاص طور پر ایسی اداکارہ کے طور پر جانا جاتا ہے جو گلیمر کے بجائے کردار کی مضبوطی اور کہانی کے تقاضوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ فلموں کے ساتھ ساتھ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر ان کی مقبولیت نے انہیں نئی نسل کی نمایاں اداکاراؤں میں شامل کیا ہے۔ ان سے گفتگو یہاں پیش کی جارہی ہے:
 کردار وہی ہے، نام وہی ہے، شناخت وہی ہے، لیکن کہانی کچھ مختلف ہوگی، آپ کیلئے یہ تجربہ کتنا مختلف تھا؟
ج: دراصل یہی بات ہے۔ کردار وہی ہے لیکن جیسا کہ آپ نے کہا صورتحال مختلف ہے۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر ہم بھی کسی مختلف صورتحال میں ہوں تو اسی صورتحال اور حالات کے مطابق ہمارا رویہ بدل جاتا ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ دنیا’مرزا پور‘ کی ہی ہے، اسلئے آپ کو وہی ذائقہ ملے گا، وہی مزہ، وہی تفریح اور وہی سب کچھ ہوگا، لیکن بڑے پردے پر ہونے کی وجہ سے یہ سب کچھ اور بھی بڑا محسوس ہوگا۔ اگر آپ ہمارا البم بھی سنیں تو بہت اچھا ہوگا۔ ہمارا میوزک البم ضرور سنیے۔ اس میں تقریباً ۹؍ گانے ہیں۔ جب لوگ ہمیں پیغامات بھیج رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ انہوں نے ٹکٹ خرید لیے ہیں، تو بہت اچھا لگ رہا ہے۔ کچھ لوگ پانچ، چھ اور کچھ دس دس ٹکٹ خرید رہے ہیں۔ میں بھی کل اپنے دوستوں کے ساتھ خود فلم دیکھنے جا رہی ہوں۔ ہم کچھ لوگ مل کر ’مرزا پور‘ دیکھنے جائیں گے۔ ہمارے ڈائریکٹر گرمیت سنگھ نے بھی یہی بات کہی تھی۔ جب ’مرزا پور‘ کے پہلے سیزن کی ممبئی میں ایک فلم فیسٹیول کے دوران اسکریننگ ہوئی تھی تو ہم نے لوگوں کا ردعمل دیکھا۔ تب احساس ہوا کہ اگر یہ کہانی بڑے پردے پر آئے گی تو اس کی ایک الگ ہی کمیونٹی ویونگ ہوگی۔ سب لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھیں گے۔ ایک الگ احساس ہوگا۔ لوگ ساتھ بیٹھ کر تالیاں بجائیں گے، سیٹیاں بجائیں گے، جب انٹری میوزک بجے گا تو ناظرین کے اندر بھی جوش پیدا ہوگا۔ آپ کے اندر بھی وہی ’سواگ‘ آ جائے گا۔ یہی چیز بڑے پردے کے تجربے کو بہت مختلف بناتی ہے۔ سچ کہوں تو ابھی مجھے اپنے جذبات کو سمجھنے اور محسوس کرنے کا وقت ہی نہیں مل رہا، کیونکہ میں ایک ڈرامے پر بھی کام کر رہی ہوں اور اس کیلئے ریہرسل چل رہی ہے۔ اس کے علاوہ میں ایک مختصر فلم بھی پروڈیوس کر رہی ہوں، جو ۶؍ تاریخ کو ریلیز ہونے والی ہے۔ 
آپ نے پروڈیوسر بننے کی بات کی۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو یہ بھی آپ کی زندگی کے سفر میں ایک نئی شروعات ہے۔ ۱۰؍ سال پہلے آپ اداکاری کرتی تھیں، اسٹیج پر کام کرتی تھیں اور آج آپ پروڈیوسر بھی ہیں۔ یہ سفر کتنا مختلف ہے؟
ج: واہ، واقعی یہ کتنا مختلف ہے نا! ایک انسان تھیٹر میں بھی آتا ہے، فلموں میں بھی کام کرتا ہے، سیریز میں بھی آتا ہے اور پھر پروڈیوسر بھی بن جاتا ہے۔ پروڈکشن کی بات کریں تو میرے لیے یہ کوئی اچانک شروع ہونے والی بات نہیں تھی۔ میرے ذہن میں ہمیشہ سے یہ خیال تھا کہ مجھے ایسی کہانیوں اور ایسے لوگوں کو سپورٹ کرنا ہے جن کے کام پر مجھے یقین ہو۔ پروڈیوسر بننے میں مجھے سب سے زیادہ مزہ اس بات کا آتا ہے کہ آپ ایک میز پر بیٹھ کر ان لوگوں کو اکٹھا کر سکتے ہیں جن کے ساتھ آپ کام کرنا چاہتے ہیں اور جو آپ کے پروجیکٹ کے ساتھ انصاف کر سکتے ہیں۔ ایک طرح سے آپ کاسٹنگ بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر میں کسی کو سپورٹ کر سکتی ہوں تو میں ایسا ضرور کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے اس میں بہت مزہ آتا ہے، چاہے وہ تھیٹر ہو، شارٹ فلم ہو یا فیچر فلم۔ 
ایک خاتون پروڈیوسر کے طور پر کیا چیلنجز ہیں ؟ اکثر لڑکیوں یا خواتین سے انڈسٹری میں کچھ کاموں کی توقع ہی نہیں کی جاتی۔ آپ کا تجربہ کیا رہا ہے؟ 
ج:میں شاید اسے مشکل نہیں کہوں گی۔ اصل بات یہ ہے کہ جہاں پیسے کی بات ہوتی ہے، وہاں لوگ جذبات نہیں دیکھتے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ مجھے اپنے دل کو محفوظ رکھنا ہوگا کیونکہ یہاں بہت سے لوگ ہوں گے جو آپ کا دل توڑیں گے۔ کسی کو کوئی کام پسند نہیں آئے گا، کوئی دوسرے پروجیکٹ پر کام کر رہا ہوگا، کسی کے پاس کوئی اور وجہ ہوگی۔ بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے لوگ کسی پروجیکٹ کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ اس لیے اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے گھیرنا بہت ضروری ہے جو آپ کی حمایت کرتے ہوں۔ بدقسمتی سے یا خوش قسمتی سے، مجھے بچپن سے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا۔ ہمارے گھر کا ماحول بہت محفوظ اور حوصلہ افزا تھا۔ ہم دو بہنیں تھیں اور ہمارے گھر میں کبھی یہ محسوس نہیں کرایا گیا کہ زندگی میں کامیاب ہونے کیلئے لڑکے کی ضرورت ہے۔ کبھی ذات، مذہب، قد یا جسمانی ساخت جیسی چیزوں کو اہمیت نہیں دی گئی۔ اگر کسی چیز پر بات ہوتی تھی تو وہ تعلیم تھی۔ ہمیں ہمیشہ کہا جاتا تھا کہ پڑھائی بہت ضروری ہے اور جس سے بھی شادی کرو، وہ تعلیم یافتہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں تو کسی بھی صورتحال میں خود کما سکتے ہیں۔ یہی ہماری اقدار تھیں۔ کئی بار لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں جنہیں آپ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی وہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ ایسے میں آپ کو اپنے لیے آواز اٹھانا پڑتی ہے۔ 
لوگ ایک دوسرے سے دور ہورہے ہیں 
 میری کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ ایسی کہانیاں لوگوں تک پہنچاؤں جن میں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت اور جڑنے کی گنجائش ہو۔ آج کل لوگوں کے درمیان ایک دوسرے سے گفتگو کچھ کم ہوتی جا رہی ہے، حالانکہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ایک دوسرے سے بات کرنا اور جڑے رہنا بہت ضروری ہے۔ ایسی فلمیں ہونی چاہئیں جنہیں آپ سب مل کر دیکھ سکیں۔ ایسی کہانیاں جو کبھی آپ کے دل میں ’’مسان‘‘کے سرخ غبارے جیسا احساس پیدا کریں اور کبھی ’’گولو گپتا‘‘ کی طرح آپ کے دل کی دھڑکنیں تیز کردیں۔ مجھے لوگوں کے ساتھ بہت زیادہ بات چیت کرنی ہے، یہ میں نے ٹھان لیا ہے۔ 
حوصلہ افزائی کرنا بہت ضروری ہے 
نوجوان لوگ سیکھتے ہیں، آپ کو دیکھتے ہیں اور آپ سے متاثر ہوتے ہیں۔ میں نے بھی بہت سی چیزیں لوگوں سے سیکھی ہیں۔ میں اکثر دوسروں سے اپنے کرداروں، پرفارمنس اور کام کے حوالے سےگفتگو کرتی ہوں اور اس طرح اپنا احتساب کرتی ہوں۔ میں خود تھیٹر سے بہت کچھ سیکھتی ہوں۔ لوگ سپورٹ کرتے ہیں، آتے ہیں، یہ بہت اچھی چیز ہے۔ اپنے ناظرین سے کہناچاہوں گی کہ کوشش کو سراہنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر بار آپ کو کوئی چیز پسند آئے۔ کبھی آپ کہیں گے کہ یہ اچھی نہیں تھی، لیکن اس شخص کی کوشش کو حمایت کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا بھی اہم ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK