Updated: April 08, 2026, 6:07 PM IST
| Mumbai
اسکرین ایوارڈز ۲۰۲۶ء کے دوران اسٹینڈ اپ کامیڈین ذاکر خان کے ایک بیان نے تنازع کھڑا کر دیا، جس میں انہوں نے فلم ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ کی کامیابی پر بالی ووڈ کے ’’جلنے‘‘ کا دعویٰ کیا۔ ان کا یہ کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا، جس کے بعد صارفین نے ان کے لب و لہجے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ فلمساز سدھارتھ آنند نے بھی ردعمل دیتے ہوئے بالی ووڈ کے کردار کا دفاع کیا۔
حال ہی میں منعقدہ اسکرین ایوارڈز ۲۰۲۶ء کے دوران اسٹینڈ اپ کامیڈین ذاکر خان کے ایک بیان نے فلمی حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دے دیا۔ تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے ذاکر خان نے دعویٰ کیا کہ بالی ووڈ فلم ’’دھرندھر: دی ریوینج‘‘ کی باکس آفس پر غیر معمولی کامیابی سے بالی ووڈ ’’جل‘‘ گیا ہےجس کے بعد ان کا بیان فوری طور پر وائرل ہو گیا۔ ذاکر خان نے اسٹیج پر کہا کہ ’’مبارکباد کے کتنے ہی پوسٹ آپ ڈال دیں، کتنی ہی اسٹوریز ڈال دیں، کتنے ہی انٹرویو میں آپ بول دیں کہ میری پسندیدہ فلم ہے، مگر سچ تو یہ ہے کہ ’’دھرندھر‘‘ (کی کامیابی) سے سب کی جلی تو ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بم فلم میں لیاری میں پھوٹا، مگر دھواں باندرہ اور جوہو سے اٹھا ہے۔‘‘ ان کے اس انداز بیان اور الفاظ کے انتخاب کو سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اس معاملے پر معروف ہدایت کار سدھارتھ آنند نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ ’’جوہو باندرہ والوں نےگزشتہ ۵۰؍ سال سے تمام آل ٹائم بلاک بسٹر دیئے ہیں۔‘‘ ان کے تعاون کو کم کرنے کیلئے آپ ’’حقیقی ڈفر‘‘ ہیں۔‘‘ ان کا یہ بیان بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے لگا اور صارفین کی بڑی تعداد نے اس پر تبصرے کیے۔
سدھارتھ آنند کے پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک صارف نے لکھا: ’’ہاہاہا!۱۰۰؍ فیصد سچ۔ یہ وہی جوہو باندرہ والے ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں تک اس صنعت کو چلایا اور لاکھوں لوگوں کو روزگار دیا جن میں یہ نئے ڈفرز بھی شامل ہیں۔‘‘ ایک اور صارف نے تنقیدی انداز میں کہا: ’’ویسے کون ان بیوقوفوں کو ایوارڈ شو کی میزبانی کے لیے مدعو کرتا ہے۔‘‘ جبکہ ایک تیسرے صارف نے تبصرہ کیا: ’’لارڈ سڈ! ان بیوقوفوں کو جگہ دکھا رہے ہیں ہیں جو نفرت پھیلاتے رہتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: انٹرنیٹ ڈراما میں دلچسپی نہیں: دھرندھر کی کامیابی پر خاموشی کے بعد دپیکا پڈوکون
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سدھارتھ آنند نے اس نوعیت کے کسی تنازع پر کھل کر اظہار خیال کیا ہو۔ اس سے قبل ۲۰۲۴ء میں جب تیلگو فلم پروڈیوسر ناگا وامسی نے فلم ’’پشپا ۲: دی رول‘‘ کی ہندی میں کامیابی کے بعد بالی ووڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، تو اس وقت بھی سدھارتھ آنند نے سخت ردعمل دیا تھا۔ سدھارتھ آنند، جو ’’پٹھان‘‘ اور ’’وار‘‘ جیسی کامیاب فلموں کی ہدایت کاری کر چکے ہیں، بالی ووڈ کے نمایاں فلم سازوں میں شمار ہوتے ہیں اور اکثر فلمی صنعت کے دفاع میں بیانات دیتے رہتے ہیں۔
تاحال ذاکر خان کی جانب سے سدھارتھ آنند کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سوشل میڈیا پر اس تنازعے پر بحث کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف حلقے اس پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔