• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نغمہ نگار انجان کےگیت آج بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں

Updated: October 28, 2021, 11:16 AM IST | Agency | Mumbai

تقریبا ۳؍ دہائیوں سے اپنے نغموں سے فلمی دنیا کو شرابور کرنے والے نغمہ نگار انجان کے رومانی گیت آج بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں

Singer Anjaan.Picture:INN
نغمہ نگار انجان۔ تصویر: آئی این این

 تقریبا ۳؍ دہائیوں سے اپنے نغموں سے فلمی دنیا کو شرابور کرنے والے نغمہ نگار انجان کے رومانی گیت آج بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔۲۸؍ اکتوبر۱۹۳۰ء کو بنارس میں پیدا ہوئے انجان کو بچپن سے ہی شعروشاعري میں گہری دلچسپی تھی۔ اپنے اس شوق کو پورا کرنے کے لئے وہ بنارس میں منعقد ہونے و الے تمام مشاعروں اور شعری نشستوں کے پروگرام میں حصہ لیا کرتے تھے۔اگرچہ مشاعروں کے پروگرام میں بھی وہ اردو کا استعمال کم ہی کیا کرتے تھے۔ایک طرف جہاں ہندی فلموں میں اردو کا استعمال ایک `جذبہ كي طرح کیا جاتا تھا وہی انجان اپنے نغموں میں ہندی پر زیادہ زوردیا کرتے تھے۔
 نغمہ نگار کے طور پر  انہوں نے اپنے کریئر کا آغاز۱۹۵۳ء میں اداکار پریم ناتھ کی فلم ’گولكنڈا کے قیدی ‘سے کیا تھا۔اس فلم کیلئے سب سے پہلے انہوں نے’ لهر یہ ڈولے کوئل بولے ..اور `شہیدوں امر ہے تمہاری کہانی `نغمہ لکھا لیکن اس فلم کے ذریعے وہ کوئی خاص شناخت نہیں بنا پائے۔
 انجان نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ اس درمیان انھوں نے کئی چھوٹے بجٹ کی فلمیں بھی کیں جن سے انہیں کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا۔ اچانک ان کی ملاقات جی ایس کوہلی سے ہوئی جن کی موسیقی ہدایت میں انہوں فلم ’لمبے ہاتھ‘  کیلئے ’مت پوچھ میرا ہے میرا کون‘  نغمہ لکھا۔اس گانے کے ذریعے وہ کافی حد تک اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو ئے ۔ تقریباً ۱۰؍ برسوں تک ممبئی میں جدوجہد کرنے کے بعد۱۹۶۳ءمیں پنڈت روی شنکر کی موسیقی سے آراستہ پریم چند کے ناول گودان پر مبنی فلم ’گودان‘  میں انہوں نے ایک نغمہ لکھا  ’ چلی آج گوریا پیا کی نگریا ‘ کی کامیابی کے بعد انہوں نے  پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ نغمہ نگار انجان کو اس کے بعد کئی بہترین فلموں میں کام کرنے کے آفر ملے جن میں ’بہاریں پھر بھی آئیں گی، بندھن ،کب کیوں اور کہاں، امنگ ، رواج ، ایک ناری ایک برہمچاری، ہنگامہ جیسی کئی فلمیں شامل ہیں۔ انجان نےکئی بھوجپوری فلموں کیلئے بھی گیت لکھے ۔انجان کے فلمی کریئر پر اگر نظر ڈالیں تو سپر اسٹار امیتابھ بچن پر فلمائے گیت کافی مقبول ہوئے ۔ سال۱۹۷۶ء میں آئی فلم دو انجانے کا ’لک چھپ لک چھپ جاؤ نا ‘ نغمہ کی کامیابی کے بعد انجان نے امیتابھ بچن کیلئے بہت سے کامیاب گیت لکھے جن میں برسو ں پرانا یہ یارانا، خون پسینے کی ملے گی تو کھائیں گے ، روتے ہوئے آتے ہیں سب ، او ساتھی رے تیرے بنا بھی کیا جینا، کھئی کے پان بنارس والا جیسے کئی سدا بہار نغمے شامل ہیں۔
 امیتابھ کے علاوہ متھن چکرورتی کی فلموں کے لئے بھی انجان نے سپر ہٹ نغمات لکھ کر ان کی فلموں کو کامیاب بنایا ہے  جن  میں ڈسکو ڈانسر، ڈانس ڈانس ، قسم پیدا کرنے والے کی، کرشمہ قدرت کا، کمانڈو، ہم انتظار کریں گے ، داتا اور دلال وغیرہ فلمیں شامل ہیں۔مشہور  فلمساز اور ہدایت کار پرکاش مہرا کی فلموں کے لئے بھی انجان نے نغمات لکھ کر ان کی فلموں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ان سدا بہار گیتوں کی وجہ سے ہی پرکاش مہرا کی بیشتر فلمیں آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔   انجان کے پسندیدہ موسیقاروں  کے طور پر کلیان جی آنند جی کا نام سرفہرست آتا ہے ۔انجان نے اپنے تین دہائی سے بھی زیادہ طویل فلمی کریئر میں تقریباً۲۰۰؍فلموں کیلئے گانے لکھے۔تقریباً تین دہائیوں تک ہندی سنیما کو اپنےنغموں سے سنوارنے والے انجان۶۷؍ سال کی عمر میں۱۳؍ ستمبر۱۹۹۷ء کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے ۔ انجان کے بیٹے سمیر نے بطور نغمہ نگار فلم انڈسٹری میں اپنی خاص شناخت بنائی ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK