بندوسرا ڈیم سے پانی کی فراہمی۸؍ ایم ایل ڈی سے گھٹ کر۴؍ ایم ایل ڈی رہ گئی، کئی علاقوں میں۱۸؍دن کے وقفے سے پانی ملنے کا امکان۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 1:36 PM IST | ZA Khan | Beed
بندوسرا ڈیم سے پانی کی فراہمی۸؍ ایم ایل ڈی سے گھٹ کر۴؍ ایم ایل ڈی رہ گئی، کئی علاقوں میں۱۸؍دن کے وقفے سے پانی ملنے کا امکان۔
بیڑ شہر میں پانی کا سنگین بحران پیدا ہوگیا ہے۔ شہر کی آبی ضروریات پوری کرنے والے بندوسرا ڈیم میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہونے کے باعث وہاں سے ہونے والی پانی کی فراہمی نصف رہ گئی ہے۔ پہلے جہاں ڈیم سے روزانہ۸؍ ایم ایل ڈی پانی حاصل ہوتا تھا، اب یہ مقدار گھٹ کر صرف۴؍ایم ایل ڈی رہ گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں شہر میں پہلے۱۰؍ دن کے وقفے سے ہونے والی پانی کی سپلائی اب۱۲؍ سے۱۵؍دن کے وقفے سے ہونے کا امکان ہے۔بیڑ شہر کو ماجل گاؤں بیک واٹر سے۲۴؍ ایم ایل ڈی اور بندوسرا ڈیم سے۸؍ ایم ایل ڈی، اس طرح مجموعی طور پر۳۲؍ ایم ایل ڈی پانی فراہم کیا جاتا تھا۔ تاہم، کم بارش اور بخارات کی شکل میں پانی اڑنے کی شرح میں اضافے کے باعث بندوسرا ڈیم سے حاصل ہونے والا پانی۸؍ ایم ایل ڈی سے کم ہوکر۴؍ایم ایل ڈی رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دواؤں میں لوٹ مار پر سپریم کورٹ برہم، حکومت کی بھی سرزنش
بندوسرا ڈیم سے سبھاش روڈ، پیٹھ بیڑ، کارنجہ، بل بھیم چوک اور مونڈھا علاقے میں پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اب ان علاقوں میں بھی پانی کی سپلائی کا وقفہ۱۰؍ دن سے بڑھ کر تقریباً۱۲؍ دن ہونے والا ہے۔دوسری جانب ماجل گاؤں بیک واٹر پر انحصار کرنے والے علاقوں جن میں سوراجیہ نگر، ڈھانڈے نگر، پنچ شیل نگر، شیواجی نگر، سنت نام دیو نگر، آدرش نگر، امبیکا چوک، دھانورا روڈ، شاہو نگر اور شندے نگر شامل ہیں، یہاں۱۵؍ سے ۱۸؍ دن کے وقفے سے پانی ملنے کا امکان ہے۔بیڑ میونسپل کونسل کے واٹر سپلائی انجینئر پرمود مانے کے مطابق، ڈیم کے ایک حصے کے قریب جمع گاد نکالنے کی وجہ سے فی الحال شہر کو۴؍ایم ایل ڈی پانی فراہم کرنا ہی ممکن ہو رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بندوسرا ڈیم میں موجود آبی ذخیرہ صرف دسمبر کے آخر یا جنوری تک ہی کارآمد رہ سکتا ہے۔ اس کے بعد بندوسرا ڈیم سے پانی کی فراہمی مکمل طور پر بند ہوجائے گی اور پورا بیڑ شہر ماجل گاؤں بیک واٹر پر منحصر ہوجائے گا۔انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے مرکزی پائپ لائن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے غیر قانونی نل کنکشن حاصل کیا یا پانی ضائع کیا تو اس کے خلاف براہِ راست مقدمہ درج کیا جائے گا۔