۳؍مسافر فوت ہوئے۔ ان میں سے ۲؍کی موت کے تعلق سے اب بھی وضاحت نہیںکی گئی۔ پٹری پار کرنے کے سبب طالب علم کی موت کی وجہ سے اس کےمتعلقین کسی معاوضے کا بھی حق دار قرار نہیں دیا گیا۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 2:00 PM IST | Saeed Ahmed Khan | CSMT
۳؍مسافر فوت ہوئے۔ ان میں سے ۲؍کی موت کے تعلق سے اب بھی وضاحت نہیںکی گئی۔ پٹری پار کرنے کے سبب طالب علم کی موت کی وجہ سے اس کےمتعلقین کسی معاوضے کا بھی حق دار قرار نہیں دیا گیا۔
پیر ۲۶؍اکتوبر کو سینٹرل ریلوے میں دو الگ الگ واقعات کے سبب لاکھوں مسافروں کو ہونے والی زبردست پریشانی کی اصل وجہ جاننے کے لئے ریلوے انتظامیہ کو رپورٹ کا انتظارہے ۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی جانچ میںمصروف ہے۔ اس دوران ۳؍مسافر فوت ہوئےتھے۔ ان میں سے ۲؍کی موت کے تعلق سے ا ب بھی وضاحت نہیں کی گئی ہے جبکہ پٹری پار کرنےکے دوران طالب علم کی موت کے سبب اہل خانہ کو کسی معاوضے کا حق دار قرار نہیں دیا گیا۔ یاد رہے کہ پیر کی صبح کانجورمارگ اسٹیشن کے پاس سگنلنگ سسٹم میں آگ لگنے اور ملنڈ سے تھانے کے درمیان اوورہیڈ تار میں خرابی کی وجہ سے ٹرین سروس بری طرح متاثر ہوئی تھی اور ۸۰ سے زائد لوکل سروسیزمنسوخ کی گئی تھیںجبکہ ٹرینیں ٹھپ ہونے اورکافی تاخیر سے چلنے کے سبب لاکھوں مسافر پریشان ہوگئے تھے۔ ہزاروں مسافر ٹرینوں سےکود کر پٹریوں پر پیدل چلنے پر مجبور ہوئےتھے۔
۳؍اموات کس کی ہوئیں؟
ملنڈ کا رہنے والا ۲۱؍ سالہ بی کام کا طالب علم، ساحل تھیٹے، بھانڈوپ اسٹیشن پر ٹرینیں بند ہونے کے دوران پلیٹ فارم تبدیل کرنے کے لئے پٹری عبور کر رہا تھا کہ اسی اثناء میں ایک تیز رفتار اے سی لوکل ٹرین کی زد میں آ کر فوت ہو گیا۔اسی طرح دیگر ۲؍ لاشیں گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی )کو گھاٹ کوپر اور وکھرولی اسٹیشنوں کے درمیان پٹریوں پر ملیں۔ ان کی شناخت راہل راج بھر (۲۵) اور کھربان راج بھر (۴۰) کے طور پر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تھانے میں آج سے ہر ہفتے بدھ کو پانی سپلائی بند رہے گی، ٹی ایم سی کا اعلان
ریلوے پولیس کی تحقیقات
ریلوے پولیس اس کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا ان دونوں کی موت بھی پٹریوں پر چلنے کے دوران ٹرین کی زد میں آنے سے ہوئی یا ٹرین سے گرے تھے یاپھرکوئی اوروجہ تھی؟
دوسرے دن بھی ٹرین خدمات متاثر ہوئیں
منگل کو بھی سینٹرل ریلوے میںصبح کے وقت فاسٹ لائن کی ٹرینیں متاثر ہوئیں۔ اس کی وجہ سے مسافروں کوپریشانی کاسامنا کرنا پڑا۔ سینٹرل ریلو ے کےسینئر پی آر او پاٹل نے نمائندۂ انقلاب کے استفسار پربتایا کہ ’’ پیر کےدن جو واقعات پیش آئے ،اعلیٰ سطحی کمیٹی اس کی جانچ کررہی ہے ،رپورٹ آنے پرصحیح اندازہ ہوگاکہ کیا وجہ تھی۔ جہاں تک تین اموات کامعاملہ ہے توایک طالب علم ساحل پٹری پار کرتےوقت فوت ہوگیا تھا جبکہ دو اور مسافروں کی لاشیں جی آر پی کو ملی ہیں مگر ان کے تعلق سے اب تک یہ واضح نہیںہوسکا ہےکہ موت کا اصل سبب کیا تھا۔‘‘ انہوں نے منگل کوفاسٹ لائن کی ٹرینیں کچھ تاخیر سےچلنے کےتعلق سے کہاکہ ’’ اس کاپیر کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے، ممکن ہے کہ کوئی اور مسئلہ رہا ہو۔ ویسے بھی اتنےبڑے نیٹ ورک میںکچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔‘‘