پروجیکٹ کی مخالفت کرنے والے ماہی گیروں نے اپنے علاقوں میں ۵۰؍ فیصد پانی کٹوتی اور گزشتہ ۴؍ دنوں سے پانی سپلائی نہ ہونے کی شکایت کی ہے۔
EPAPER
Updated: October 28, 2026, 1:52 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
پروجیکٹ کی مخالفت کرنے والے ماہی گیروں نے اپنے علاقوں میں ۵۰؍ فیصد پانی کٹوتی اور گزشتہ ۴؍ دنوں سے پانی سپلائی نہ ہونے کی شکایت کی ہے۔
منوری، مڈھ، گورائی، ورسوا اور اُتن کے مکینوں نے چند روز قبل منوری میں سمندر کے پانی کو قابل استعمال بنانے کے پلانٹ کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔ اب ان کا الزام ہے کہ ان پر دباؤ ڈالنے کیلئے بی ایم سی ۴؍ روز سے انہیں پانی سپلائی نہیں کررہی ہے۔ ان کے مطابق ان کے علاقوں میں ۵۰؍ فیصد پانی کٹوتی کا نوٹس دکھایا گیا تھا لیکن گزشتہ چند روز سے پانی سپلائی ہی نہیں کیا جارہا۔ ممبئی واسیوں کی پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے جو ۲؍ پروجیکٹ سب سے پہلے مکمل ہونا ممکن ہے ان میں یہ پروجیکٹ بھی شامل ہے۔ منوری اور اطراف کے علاقوں میں رہائش پذیر ماہی گیر اس پروجیکٹ کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پلانٹ کی وجہ سے سمندری نباتات اور مچھلیوں کی افزائش پر منفی اثر پڑے گا، مچھلیوں کا شکار کرنا دشوار ہوجائے گا اور ان کا روزگار متاثر ہوگا۔یاد رہے کہ متذکرہ علاقوں کے افراد نے ۱۹؍ اکتوبر کو باندرہ میں واقع کلکٹر (مضافات) کے دفتر کے سامنے ’ڈی سیلینیشن پلانٹ‘ کی مخالفت میں مظاہرہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہرے کے چند روز بعد بی ایم سی کے مقامی وارڈ آفیسر نے انہیں نوٹس دکھایا تھا کہ ان کے علاقوں میں ۵۰؍ فیصد پانی کٹوتی کرنا ضروری ہے۔
منوری میں رہائش پذیر ایک شخص نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’ہمیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ہم پر دبائو ڈالنے اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کی مخالفت بند کرنے پر مجبور کرنے کیلئے ہمارے ساتھ ایسا برتائو کیا جارہا ہے کہ ہمارے علاقوں میں پانی سپلائی بند کردی گئی ہے۔پانی کٹوتی میں اضافہ اور پھر پانی بند کرکے پانی کی قلت کو بڑھا کر دکھایا جارہا ہے تاکہ لوگ ڈی سیلینیشن پلانٹ کو اہم مان کر اس پروجیکٹ کیلئے رضامند ہوجائیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکی سینیٹر نے ۹؍امریکی مسلمانوں کے قتل پر اسرائیل کی جوابدہی کا مطالبہ کیا
ایک دیگر شخص کے مطابق پانی بند ہونے سے کم و بیش ۲۵؍ ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں اور وہ دیگر ذرائع سے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
اس تعلق سے بی ایم سی کے ایک افسر نے کہا کہ ممبئی میں ۱۰؍ فیصد پانی کٹوتی کی جارہی ہے اور یہی کٹوتی بی ایم سی کے ’پی نارتھ‘ اور ’آرسینٹرل‘ وارڈ، جہاں کے علاقے واقع ہیں، میں بھی جاری ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی وجہ سے ان علاقوں میں پانی کم سپلائی ہورہا ہے یا بالکل سپلائی نہیں ہورہا تو یہ محدود علاقے کا مسئلہ ہے۔
۲؍ اہم پروجیکٹ
منوری میں ’ڈی سیلینیشن‘ (سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے) کا پلانٹ سمندر کنارے تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس پروجیکٹ سے یومیہ ۲۰۰؍ ملین لیٹر پانی مل سکے گا۔ اگر سب کچھ وقت پر ہوگیا تو اس پلانٹ سے دسمبر ۲۰۲۹ء سے پانی سپلائی شروع ہوسکے گی۔دوسرا پروجیکٹ گارگئی باندھ کی تعمیر ہے۔ اس پروجیکٹ سے یومیہ ۴۴۰؍ ملین لیٹر پانی ملنے کی امید ہے۔ اگر اس پر وقت پر کام شروع ہوکر متعینہ مدت میں تعمیر مکمل ہوگئی تو ۲۰۲۹ء کے مانسون سے اس سے پانی سپلائی ممکن ہوسکے گی۔
اگرچہ ڈی سیلینیشن پلانٹ اور گارگئی ڈیم سے ملنے والا مجموعی پانی بھی ممبئی واسیوں کی پانی کی حقیقی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ناکافی ہے لیکن یہ دونوں پروجیکٹ دیگر کسی بھی منصوبے سے پہلے مکمل کئے جاسکتے ہیں اور اس سے شہریوں کو بڑی حد تک راحت ملنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شہر میں فضائی آلودگی پرقابو پانےکےلئے شہری انتظامیہ کے اقدام
اپوزیشن کا کیاکہنا ہے؟
بی ایم سی میں اپوزیشن کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ اگر یہاں سے ملنے والے پانی کو ممبئی کے باغات کو پانی دینے، کھیل کے میدانوں، کوسٹل روڈ، سڑکوں کی تعمیر اور اس طرح کے دیگر کاموں اور ضرورتوں میں استعمال کیا جائے تو شہریوں کو جھیلوں سے سپلائی کیا جانے والا پینے کا پانی کافی مقدار میں دستیاب ہوسکے گا۔