اسمتا پاٹل نے بہت کم عرصے میں بلند و بالا مقام حاصل کرلیاتھا

Updated: October 18, 2020, 11:20 AM IST | Agency

طدنیا میں ایسے بیشتر فنکار گزرے ہیں جو بہت کم وقت میں بہت زیادہ نام کمانے میں کامیاب رہے۔ ہندوستانی سنیماکی اسٹار اداکارہ اسمتا پاٹل کا شمار بھی انہی فنکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی بہترین اداکاری سے متوازی فلموں کے ساتھ ساتھ کمرشیل فلموں میں ناظرین کے بیچ اپنی خاص جگہ بنائی۔ ۳۱؍ سال کی مختصر سی عمر میں یہ اس جہان فانی سے رخصت ہوگئیں لیکن ان کا کام آج بھی زندہ ہے ۔ ۲۰؍ سال کی عمر میں یہ فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوئیں اور ۱۱؍ سال میں وہ سب کچھ حاصل کرلیا جسے دوسرے کئی عشروں میں بھی حاصل نہیں کرپاتے ہیں۔ ۱۷؍اکتوبر۱۹۵۵ءکو پونے شہر میں پیدا ہونے والی اسمتا پاٹل نے اپنی تعلیم مہاراشٹر سے مکمل کی۔ ان کے والد شیواجی رائے پاٹل مہاراشٹر حکومت میں وزیرتھے جبکہ ان کی والدہ سماجی کارکن تھیں۔ کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ مراٹھی ٹیلی ویژن میں بطور نیوز ریڈر کام کرنے لگی تھیں۔ اس دوران ان کی ملاقات معروف ڈائریکٹر اور ہدایت کار شیام بینگل سے ہوئی۔ وہ اُن دنوں اپنی فلم ’چرن داس چور‘ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔ شیام بینگل کو اسمتا پاٹل میں ایک ابھرتی ہوئی اداکارہ نظر آئی لہٰذا انہوں نے اپنی فلم ’چرن داس چور‘ میں اسمتا کو ایک چھوٹا سا کردار دیا۔ ’منتھن‘ اور ’بھومیکا‘میں اسمتا کے ساتھ نصیرالدین شاہ، شبانہ اعظمی ، امول پالیکر اور امریش پوری جیسے مشہور اداکار ساتھ تھے۔ فلم بھومیکا سے اسمتا پاٹل کا جو سفر شروع ہوا وہ چکر، نشانت، آکروش ، گدھ، البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے؟ اور مرچ مصالحہ جیسی فلموں تک جاری رہا۔۱۹۸۰ءمیں ریلیز فلم ’چکر‘ میں اسمتا پاٹل نے جھگی جھوپڑی میں رہنے والی خاتون کا کردار ادا کیا جس کیلئے انہیں دوسری مرتبہ قومی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا ۔۸۰ءکی دہائی میں اسمتا پاٹل نے کمرشیل فلموں کی طرف رخ کیا۔ اس دوران انہوں نے سپراسٹار امیتابھ بچن کے ساتھ ’نمک حلال‘ اور ’شکتی ‘ جیسی سپرہٹ فلموں میں کام کیا۔اس کے بعد اسمتا پاٹل نے کمرشیل فلموں میں بھی کامیابی حاصل کی۔ ۱۹۸۵ءمیں ہندوستانی سنیما میں انہیں شاندار اداکاری کی وجہ سے پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہندی فلموں کے علاوہ اسمتا نے مراٹھی، گجراتی، تیلگو، بنگلہ، کنڑ اور ملیالم فلموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔اس کے علاوہ اسمتا کو عظیم فلم ساز ستیہ جیت رے کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ منشی پریم چند کی کہانی پر مبنی ٹیلی فلم ’سدگتی‘ کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اپنی بہترین ادکاری سے دودہائیوں تک ناظرین کے دلوں پر راج کرنے والی ادکارہ اسمتا پاٹل نے محض۳۱؍ برس کی عمر میں ۱۳؍ دسمبر۱۹۸۶ءکو اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ ان کی موت کے بعد۱۹۸۸ءمیں ان کی فلم’ وارث‘ ریلیز ہوئی جو اسمتا پاٹل کے فلمی کریئر کی اہم فلموں میں سے ایک تھی۔ جس وقت ان کا انتقال ہوا، کئی فلمیں فلور پر تھیں۔ ان میں سے ۱۷؍ فلمیں ریلیز ہوئیں جبکہ کچھ فلمیں ریلیز بھی نہیں ہوسکیں۔ اپنے فلمی کریئر میں انہوں نے۲؍ مرتبہ نیشنل ایوارڈ حاصل کیا جبکہ انہیں ہندی اور مراٹھی فلموں کیلئے۳؍ بار فلم فیئر ایوارڈ کیلئے بھی منتخب کیاگیا

Smita Patil - Pic : INN
اسمتا پاٹل ۔ تصویر : آئی این این

دنیا میں ایسے بیشتر فنکار گزرے ہیں جو بہت کم وقت میں بہت زیادہ نام کمانے میں کامیاب رہے۔ ہندوستانی سنیماکی اسٹار اداکارہ  اسمتا پاٹل کا شمار بھی انہی فنکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی بہترین اداکاری سے متوازی فلموں کے ساتھ ساتھ کمرشیل فلموں میں ناظرین کے بیچ اپنی خاص جگہ بنائی۔ ۳۱؍ سال کی مختصر سی عمر میں یہ اس جہان فانی سے رخصت ہوگئیں لیکن ان کا کام آج بھی زندہ ہے ۔ ۲۰؍ سال کی عمر میں یہ فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوئیں اور ۱۱؍ سال میں وہ سب کچھ حاصل کرلیا جسے  دوسرے کئی عشروں میں بھی حاصل نہیں کرپاتے ہیں۔
 ۱۷؍اکتوبر۱۹۵۵ءکو پونے شہر میں پیدا ہونے والی  اسمتا پاٹل نے اپنی تعلیم مہاراشٹر سے مکمل کی۔ ان کے والد شیواجی رائے پاٹل مہاراشٹر حکومت میں وزیرتھے جبکہ ان کی والدہ سماجی کارکن تھیں۔ کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ مراٹھی ٹیلی ویژن میں بطور  نیوز ریڈر کام کرنے لگی تھیں۔ اس دوران ان کی ملاقات معروف ڈائریکٹر اور ہدایت کار شیام بینگل سے ہوئی۔ وہ اُن دنوں اپنی فلم ’چرن داس چور‘ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔ شیام بینگل کو  اسمتا پاٹل میں ایک ابھرتی ہوئی اداکارہ نظر آئی لہٰذا انہوں نے اپنی فلم ’چرن داس چور‘ میں اسمتا کو ایک چھوٹا سا کردار دیا۔
 ’منتھن‘ اور ’بھومیکا‘میں اسمتا کے ساتھ نصیرالدین شاہ، شبانہ اعظمی ، امول پالیکر اور امریش پوری  جیسے مشہور اداکار ساتھ تھے۔ فلم بھومیکا سے اسمتا پاٹل کا جو سفر شروع ہوا وہ چکر، نشانت، آکروش ، گدھ، البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے؟ اور مرچ مصالحہ جیسی فلموں تک جاری رہا۔۱۹۸۰ءمیں ریلیز فلم ’چکر‘ میں اسمتا پاٹل نے جھگی جھوپڑی میں رہنے والی خاتون کا کردار ادا کیا جس کیلئے انہیں  دوسری مرتبہ قومی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا ۔۸۰ءکی دہائی میں اسمتا پاٹل نے کمرشیل فلموں کی طرف رخ کیا۔ اس دوران انہوں نے سپراسٹار امیتابھ بچن کے ساتھ ’نمک حلال‘ اور ’شکتی ‘ جیسی سپرہٹ فلموں میں کام کیا۔اس کے بعد اسمتا پاٹل نے کمرشیل فلموں میں بھی کامیابی حاصل کی۔
 ۱۹۸۵ءمیں ہندوستانی سنیما میں انہیں شاندار اداکاری کی وجہ سے پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہندی فلموں کے علاوہ  اسمتا نے مراٹھی، گجراتی، تیلگو، بنگلہ، کنڑ اور ملیالم فلموں میں بھی  اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔اس کے علاوہ  اسمتا کو عظیم فلم ساز ستیہ جیت رے کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ منشی پریم چند کی کہانی پر مبنی ٹیلی فلم ’سدگتی‘ کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
 اپنی  بہترین ادکاری سے دودہائیوں تک ناظرین کے دلوں پر راج کرنے والی ادکارہ اسمتا پاٹل  نے محض۳۱؍ برس کی عمر  میں ۱۳؍ دسمبر۱۹۸۶ءکو اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ ان کی موت کے بعد۱۹۸۸ءمیں ان کی فلم’ وارث‘ ریلیز ہوئی جو اسمتا پاٹل کے فلمی کریئر کی اہم فلموں میں سے ایک تھی۔ جس وقت ان کا انتقال ہوا، کئی فلمیں فلور پر تھیں۔ ان میں سے ۱۷؍ فلمیں ریلیز ہوئیں جبکہ کچھ فلمیں ریلیز بھی نہیں ہوسکیں۔  اپنے فلمی کریئر میں انہوں نے۲؍ مرتبہ نیشنل ایوارڈ حاصل کیا جبکہ انہیں ہندی اور مراٹھی فلموں کیلئے۳؍ بار فلم فیئر ایوارڈ کیلئے بھی منتخب کیاگیا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK