اداکارامیتابھ بچن نے کئی یادگار فلمیں پیش کی ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امیتابھ بچن نے ایک مشہور گیت کی دھن خود لیجنڈ اداکار شمی کپور کے ساتھ مل کر تیار کی تھی، جسے بعد میں یش چوپڑا کی کلاسک فلم ’سلسلہ‘میں استعمال کیا گیا۔
EPAPER
Updated: July 25, 2026, 10:22 AM IST | Mumbai
اداکارامیتابھ بچن نے کئی یادگار فلمیں پیش کی ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امیتابھ بچن نے ایک مشہور گیت کی دھن خود لیجنڈ اداکار شمی کپور کے ساتھ مل کر تیار کی تھی، جسے بعد میں یش چوپڑا کی کلاسک فلم ’سلسلہ‘میں استعمال کیا گیا۔
اداکارامیتابھ بچن نے کئی یادگار فلمیں پیش کی ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ امیتابھ بچن نے ایک مشہور گیت کی دھن خود لیجنڈ اداکار شمی کپور کے ساتھ مل کر تیار کی تھی، جسے بعد میں یش چوپڑا کی کلاسک فلم ’سلسلہ‘میں استعمال کیا گیا۔فلم ’سلسلہ‘کا مقبول گیت ’نیلا آسماں سو گیا‘لتا منگیشکر اور امیتابھ بچن، دونوں کی آوازوں میں الگ الگ ورژن میں سنا جا چکا ہے، مگر اس گیت کی دھن کی دلچسپ کہانی بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔اس واقعے کا ذکر’راج شری ان پلگڈ‘کے ایک پروگرام میں کیا گیا تھا، جہاں شمی کپور نے خود امیتابھ بچن کے ساتھ اپنی دوستی کے کئی دلچسپ قصے سنائے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ فلم’ضمیر‘کی شوٹنگ کے دوران دونوں اکثر ایک ساتھ وقت گزارتے تھے۔ شوٹنگ ختم ہونے کے بعد وہ ایک ہی ہوٹل میں قیام کرتے تھے اور موسیقی کی محفلیں بھی سجتی تھیں۔شمی کپور نے اس یاد کو تازہ کرتے ہوئے کہا تھا’’ہم سب ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ شوٹنگ کے بعد امیتابھ بچن اکثر اپنا گٹار لے آتے تھے۔ پھر ہم دونوں کبھی گاتے اور کبھی دھنیں گنگناتے رہتے۔ ایک شام ہم نے مل کر ایک خوبصورت دھن ترتیب دی۔اس کے بعد میں نے ایک پہاڑی دھن چھیڑی اور امیتابھ گٹار پر میرا ساتھ دیتے رہے۔‘‘شمی کپور نے مزید بتایا کہ کئی برس بعد، جب امیتابھ بچن ۱۹۸۱ءمیںفلم ’سلسلہ‘کی شوٹنگ کر رہے تھے، تو اچانک ان کا فون آیا۔ امیتابھ نے بڑی شائستگی سے اس دھن کو استعمال کرنے کی اجازت مانگی۔شمی کپور کے مطابق ’’ایک دن امیتابھ کا فون آیا۔ انہوں نے کہا،’شمی جی، کیا میں اس دھن کو استعمال کر سکتا ہوں؟‘ سچ پوچھیں تو میں تو یہ بھی بھول چکا تھا کہ ہم نے’ضمیر‘کے دوران کوئی دھن بنائی تھی۔ میں نے فوراً کہا، ’ارے ہاں، ضرور، کیوں نہیں۔‘ اسی دھن پر بعد میں فلم ’سلسلہ‘کا گیت ’نیلا آسماں سو گیا‘ تیار کیا گیا۔‘‘بعد میں اس گیت کے بول جاوید اختر نے لکھے ، اس طرح یہ گیت تیار ہوا جو آج بھی پسند کیا جاتا ہے۔