نائب وزیر اعلیٰ اور اقلیتی امور کی وزیر سونیترا پوار کومکتوب دے کر رکن اسمبلی رئیس شیخ کا مطالبہ، کہا : ریاستی حکومت اس معاملے پرسنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 2:19 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
نائب وزیر اعلیٰ اور اقلیتی امور کی وزیر سونیترا پوار کومکتوب دے کر رکن اسمبلی رئیس شیخ کا مطالبہ، کہا : ریاستی حکومت اس معاملے پرسنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔
سماجوادی پارٹی کے لیڈر اور بھیونڈی مشرق کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار جو اقلیتی امور کی وزیربھی ہیں، کو مکتوب دے کر مطالبہ کیاہے کہ اقلیتی طبقے خصوصاً مسلم نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کی تربیت دینے اور رہنمائی کرنے کیلئے ریاست کے سبھی ۶؍ ریوینیو زون میں ’انٹرپرینیورشپ اینڈ بزنس انکیوبیشن سینٹرز‘ شروع کئے جائیں۔ انہوں نے اپنے لیٹر میں یہ بھی وضاحت کی ہے کہ مسلمانوں میں تعلیمی سلسلہ منقطع کرنے کا فیصد کافی ہے اس لئے ریاستی حکومت کی جانب سے انہیں برسر روزگار اور چھوٹے پیمانے پر کاروباری کرنے کیلئے تربیت اور رہنمائی کرنا چاہئے جس طرح دیگر غریب طبقوں کو کی جارہی ہے۔ رئیس شیخ نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اس عوامی اور اہم مطالبے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے جلد از جلد مناسب اور مثبت کارروائی کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے:الاسکا: نوجوان۶۲؍ گھنٹے سمندر میں رہنے کے بعد بچ گیا،سارا وقت دعا کرتا رہا
خط میں کیا کہا گیا ہے ؟
نائب وزیر اعلیٰ کو لکھے گئے خط میں رئیس شیخ نے درج ذیل حقائق کو اجاگر کیا ہے:
ریاست مہاراشٹرا میں اقلیتوں کی کل آبادی کا۲۰؍ فیصد ہے جس میں مسلم سماج کی آبادی کا تناسب۵۴ء۱۱؍ فیصد ہے۔
انتہائی ناگفتہ بہ معاشی حالات اور غربت کی وجہ سے مسلم سماج کے طلبہ دسویں اور بارہویں جماعت کے بعد تعلیمی سلسلہ منقطع کر دیتے ہیں اور ان کے ڈراپ آؤٹ کی شرح ۳۰؍ فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم نوجوانوں میں سے بمشکل۱۰؍ فیصد طلبہ ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔
ان طلبہ اور نوجوانوں کو ہنر مندی کی تربیت فراہم کرنا اور اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ریاست میں دیگر پسماندہ اور مختلف طبقات کے نوجوانوں کیلئے ’بارٹی‘، ’مہاجیوتی‘اور’سارتھی‘ جیسے تحقیقی و تربیتی ادارے کامیابی سے کام کر رہے ہیں جو ان برادریوں کے نوجوانوں کو ہنر مندی اور روزگار کے بہترین مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس، اقلیتی برادری کیلئے قائم کیا گیا ادارہ ’مارٹی‘فنڈز کی شدید قلت کے باعث طلبہ کو تربیت فراہم کرنے میں اب تک پوری طرح ناکام اور غیر فعال رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’بھکاری‘ بننے والے رکن اسمبلی نے سموسہ اور بریانی دینے والوں کی عزت افزائی کی
مطالبات
(۱)مسلمانوں کی موجودہ حالات کے پیشِ نظر، اقلیتی نوجوانوں اور خواتین کو ہنر مندی کی تربیت دینے اور نئے تجارتی مواقع فراہم کرنے کیلئے’اقلیتی انٹرپرینیورشپ اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز‘قائم کرنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ اقلیتی برادری کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست کے تمام ۶؍ریوینیو ڈویژن میں ایسے مراکز فوری طور پر قائم کئے جائیں۔ (۲)ان مراکز کو مزید موثر بنانے کیلئے مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن اہم ترین شراکت دار کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہ کارپوریشن نوجوانوں کو مختلف قرض کی اسکیموں سے جوڑنے، مالی امداد فراہم کرنے، تجارتی پروجیکٹ کی رپورٹس تیار کرنے اور ان کا جائزہ لینے کے معاملات کو سنبھال سکتی ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے یہ مراکز قائم کئے جاتے ہیں تو ہر ریوینیو ڈویژن میں ہر سال ایک ہزار سے زائد اقلیتی نوجوان اور خواتین اپنے مائیکرو اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔(۳)یہ مراکز ریاست میں ہنر مندی میں ترقی اور تجارتی تعاون میں سنگِ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔