• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھاراوی دھوبی گھاٹ بریج کے انہدام کی زبردست مخالفت

Updated: September 17, 2026, 2:00 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Dharavi

عملہ لوٹنے پرمجبور۔مقامی لوگوں اور دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران نے دوٹوک انداز میں کہا: پہلےآمد و رفت کیلئے متبادل انتظام کیا جائے پھر انہدامی کارروائی کی جائے۔

Local residents are opposing the demolition of the Dharavi Dhobi Ghat bridge. Police personnel are also visible. Photo: Inquilab.
مقامی افراد دھاراوی دھوبی گھاٹ بریج توڑنے کی مخالفت کررہے ہیں ۔ پولیس اہلکار بھی نظر آرہے ہیں۔ تصویر: انقلاب

یہاں کے دھوبی گھاٹ علاقے میں واقع فٹ اووربریج کو بدھ ۱۶؍ستمبر کی صبح توڑنے کیلئے بی ایم سی اور ریلوے عملہ بھاری پولیس بندوبست میں پہنچا مگر مقامی لوگوں کی شدید مخالفت کے سبب بغیر کارروائی کئے اسے لوٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔  مقامی لوگوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پہلے لوگوں کی آمدو رفت کے لئے متبادل نظم کیا جائے پھربریج توڑا جائے ورنہ آخر لوگ آئیںگے جائیں گے کیسے؟اس دوران مقامی لوگوں کے ساتھ دھاراوی بچاؤآندولن کے ذمہ داران بھی جائے وقوع پر پہنچ گئے اور انہوںنے بریج کے انہدام کی زبردست مخالفت کرتے ہوئے نعرے  لگائے اور مائیکرو فون پربھی لوگوں کو اس کے خلاف متحد رہنے کی اپیل کی۔

سائن بریج بند کئےجانے کے بعد یہ بریج کافی اہم ہے 

دھوبی گھاٹ بریج کافی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مشرق  و مغرب کے علاقوں کو جوڑتا ہے۔تعمیرنو کے لئے سائن بریج ۲؍ سال قبل بند کئے جانے کے بعد سے اس بریج کا مقامی لوگ بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ اسکول اور کالج جانے والے طلبہ اور سائن اسپتال جانے کے لئے مریض اوران کے اہل خانہ اس کا استعمال کرتے ہیں، گرو تیغ بہادر اسٹیشن بھی اس سے قریب ہے جس سے یہاں کے مسافر بھی اس کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر یہ بھی توڑ دیاجاتا ہے اور سائن بریج شروع نہیں کیا جاتا ہے تو پھرلوگ یہاں قید ہوکر رہ جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:ٹیپو سلطان کی تصویر کا معاملہ: ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو حلف نامہ داخل کرنے کاحکم دیا

’’یہ اڈانی کی چال ہے کہ لوگ خود ہی بھاگنے پر مجبور ہوں ‘‘

دھاراوی بچاؤ آندولن کےفعال رکن اور احتجاج میں پیش پیش رہنے والے پال رافیل نے نمائندۂ انقلاب کو بتایاکہ ’’ جیسے ہی ہم لوگو ںکو اطلاع ملی، وہاں پہنچ گئے اور انہدامی کارروائی کی مخالفت شروع کی جس کے نتیجے میںانہدامی دستہ کولوٹنا پڑا۔‘‘  ان کایہ بھی کہنا ہے کہ’’ یہاں کے لوگوں کا مطالبہ بالکل درست ہے کہ بریج کو چوڑا کرنا ہے، ریلوے ٹریک بڑھانا ہے یہ سب اپنی جگہ مگریہاںرہنےوالوں کےلئے دوسرا کون ساراستہ ہوگا جبکہ سائن بریج پہلے بند کیا جاچکا ہے۔ ‘‘

پال رافیل نے مزید کہا کہ ’’یہ سب اڈانی کی چال ہے کہ ایسا طریقہ اپنا ؤ کہ لوگ خود بخود دھاراوی چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں مگر ہم سب بھی اپنا حق لینا جانتے ہیںاور دھاراوی واسی بیدارہوچکے ہیں، اس کی نگرانی بھی کی جائے گی تاکہ رات کے اندھیرے میںانہدامی کارروائی نہ کی جائے جیسا کہ شب میںمسجد توڑی گئی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:جرنگے کی طبیعت بگڑی، منصوبہ تبدیل کرنے کا امکان

’’محض پریشا ن کرنا مقصد ہے‘‘

کامریڈ نصیرالحق نے بتایاکہ’’ جان بوجھ کر محض مکینوں کو پریشان کرنے کیلئے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے ورنہ ابھی اس کے توڑنے کی ضرورت ہی نہیںہے۔ اگر اس بریج کوچوڑا کرنا ہے تو ہم لوگوں کایہی کہنا ہےکہ پہلے دوسرا بریج بنایا جائے تاکہ لوگوں کو آمد و رفت میں پریشانی نہ ہو پھراسے توڑا جائے۔ ‘‘احتجاج کے وقت موجود محمدایوب نے بتایا کہ ’’پولیس کی موجودگی کے باوجود مکینوں نے پُرزور احتجاج کیا اورعملے کو لوٹنا پڑا ۔‘‘

ریلوے نے کیا کہا؟

سینٹرل ریلوے کے ایک سینئر افسر سے اس بابت پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ’’ اس بریج کوچوڑا کرنا ہے اور نئی پٹری بچھانے کا کام شروع کیا جانا ہے۔ یہاںایم ایم آرڈی اے نے ۵۷۰؍ مکینوں کو پہلے ہی متبادل رہائش بھی فراہم کرادی ہے اس لئے اسے توڑنا ہے۔ ‘‘

انقلاب نے جب اس افسر سے یہ پوچھا کہ ابھی سائن اسٹیشن والا بریج تعمیر نہیں ہوا ہے، اگر اس بریج کو بھی توڑ دیا گیاتو کیا یہ بریج محض ۵۷۰؍ مکین ہی استعمال کیا کرتے تھے ۔اسکول ، کالج اورسائن اسپتال لوگ کس طرح جائیںگے توان کے پاس کوئی معقول جواب نہیں تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK