Updated: October 04, 2026, 6:04 PM IST
| Hyderabad
معروف فلم ساز سِنگیتَم شری نواس راؤ کے انتقال کی خبر کے بعد فلمی دنیا کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں میں بھی غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو نے ممتاز فلم ساز کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
سِنگیتَم شری نواس راؤ۔ تصویر:آئی این این
معروف فلم ساز سِنگیتَم شری نواس راؤ کے انتقال کی خبر کے بعد فلمی دنیا کے ساتھ ساتھ سیاسی حلقوں میں بھی غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو نے ممتاز فلم ساز کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایسا تخلیق کار قرار دیا جنہوں نے اپنی منفرد سوچ، نئے خیالات اور تجرباتی انداز کے ذریعے ہندوستانی اور تیلگو سنیما کو نئی سمت عطا کی۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ سے پہلے فیلڈنگ اور ڈیتھ اوورز میں گیندبازی بہتر کرنا ہوگی: گِل
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کہا کہ سِنگیتَم شری نواس راؤ کا انتقال تیلگو فلم صنعت اور ہندوستانی سنیما کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے مختلف موضوعات، منفرد کہانیوں اور نئے خیالات کے ذریعے سنیما کو مالا مال کیا۔ ان کی فلموں نے پردے پر مختلف نوعیت کی کہانیاں پیش کیں اور تیلگو سنیما کے لیے نئے راستے کھولے۔ریونت ریڈی نے کہا کہ سِنگیتَم شری نواس راؤ نے ہمیشہ تجربات کی حوصلہ افزائی کی اور اسی سوچ کے تحت کئی یادگار فلمیں تخلیق کیں۔ ان کے کام نے سنیما کی تاریخ پر ایسی گہری چھاپ چھوڑی ہے جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ فلم ساز کی حیثیت سے ان کی خدمات کے علاوہ مصنف، مفکر اور فنکار کے طور پر بھی ان کا کردار انتہائی اہم رہا۔ سنیما کے لیے ان کا جذبہ، لگن اور غیر معمولی وابستگی ہمیشہ یاد کی جائے گی۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ نے آنجہانی فلم ساز کے اہل خانہ، مداحوں اور سنیما سے محبت کرنے والوں کے ساتھ بھی دلی تعزیت کا اظہار کیا اور سوگوار خاندان کے لیے صبر کی دعا کی۔
آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو نے بھی سِنگیتَم شری نواسا راؤ کے انتقال کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیلور ضلع کے ادے گیری میں پیدا ہونے والے سِنگیتَم شری نواس راؤ نے اپنی صلاحیت اور منفرد کام کے بل پر فلمی دنیا میں الگ شناخت بنائی اور طویل عرصے تک اس شعبے کی رہنمائی کی۔ بڑے پردے پر ان کے پیش کیے گئے تجربات کو ناظرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔
چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ اگرچہ سِنگیتَم شری نواس راؤ جسمانی طور پر آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن وہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ انہوں نے آنجہانی کی روح کے سکون کے لیے دعا کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھئے:’’دِرِیشیَم ۳‘‘ نے دو دن میں ۱۰۰ ؍کروڑ روپے کا ہندسہ پار کرلیا
سابق نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو نے بھی سِنگیتَم شری نواسا راؤ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سِنگیتَم ان کے لیے ذاتی طور پر انتہائی قریبی شخصیت تھے اور جس احترام اور محبت کے ساتھ وہ ان سے ملتے تھے، اسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق سِنگیتَم جیسے لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ سنیما میں ان کا ہر قدم اپنی جگہ منفرد اور اہم تھا۔
وینکیا نائیڈو نے مزید کہا کہ سِنگیتَم شری نواسا راؤ نے نہ صرف ناظرین کی نبض کو سمجھا بلکہ اپنے دور سے ایک قدم آگے کی سوچ بھی رکھی۔ انہوں نے تقریباً چار نسلوں کے ناظرین کو اپنی فلموں کے ذریعے متاثر کیا۔ ان کے مطابق سِنگیتَم نے یہ ثابت کیا کہ عمر صرف ایک عدد ہے اور سوچ میں وقت کے ساتھ نئی تازگی برقرار رہنی چاہیے۔
سِنگیتَم شری نواس راؤ کے انتقال پر سیاسی اور فلمی شخصیات کی جانب سے پیش کیے جانے والے تعزیتی پیغامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستانی سنیما، خصوصاً تیلگو فلمی دنیا میں تخلیقی سوچ، تجربات اور اختراعی فلم سازی کے ذریعے ایک دیرپا مقام حاصل کیا۔ ان کی خدمات اور فلمی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک اہم مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔