Inquilab Logo Happiest Places to Work

شری دیوی شروع میں ہندی نہیں جانتی تھیں لیکن بعد میں ’لیڈی سپر اسٹار‘ کہلائیں

Updated: May 03, 2026, 2:54 PM IST | Anees Amrohi | Mumbai

ہندی فلموں میں ۷؍ سے زیادہ ایسی فلمیں ہیں جن میں شری دیوی نے ڈبل رول ادا کئے،اسی لیے فلمی دُنیا میں اُنہیں دہرے کرداروں کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے، ڈبل رول والی ایسی دو فلموں ’چالباز‘ اور ’لمحے‘ کیلئے انہیں بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ بھی ملے۔

Director Pankaj Parashar cast Sridevi in ​​a double role in the 1989 film `Chaalbaaz`. It also starred Sunny Deol, Rajinikanth, Anupam Kher, Annu Kapoor and Saeed Jaffrey in lead roles. The film was a huge success. Photo: INN
ہدایتکار پنکج پراشر نے ۱۹۸۹ء میں ریلیز ہوئی فلم ’چالباز‘ میں شری دیوی کو ڈبل رول کیلئے کاسٹ کیا تھا۔ اس میں ان کے ساتھ سنی دیول، رجنی کانت، انوپم کھیر، انو کپور اور سعید جعفری بھی مرکزی کردار میں تھے۔ اس فلم نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ تصویر: آئی این این

تمل ناڈو کے ایک گائوں میں۱۳؍اگست ۱۹۶۳ء کو شری دیوی کی پیدائش ہوئی تھی۔ ان کا اصلی نام شری اما ینگر ایپّن تھا۔ اُن کے والد پیشے سے وکیل تھے جبکہ والدہ ایک گھریلو خاتون تھیں جن کا تعلق آندھرا کے شہر تروپتی سے تھا۔ شری دیوی کی ایک چھوٹی بہن شری لتا  اور دو سوتیلے بھائی ستیش اور آنند بھی تھے جو شری دیوی کے والد کی پہلی بیوی سے تھے۔

چار برس کی عمر سے شری دیوی نے بطور چائلڈ آرٹسٹ تمل فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ بعد میں انہوں نے کنڑ، ملیالم اور تیلگو زبانوں میں بھی چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر کئی فلموں میں کام کیا۔ بچپن ہی سے سنیماسے جڑ جانے کی وجہ سے وہ اسکول میں باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کر سکیں۔بعد میں بطور مرکزی ہیروئن انہوں نے کئی زبان کی فلموں میں کام کیا اور شہرت و مقبولیت حاصل کی اورچیلنجنگ کردار نبھاتے  ہوئے کئی اہم ایوارڈ اپنے نام کئے ۔۱۳؍ برس کی عمر میں انہوں  نے ایک تمل فلم میں رجنی کانت کی سوتیلی ماں کا کردارنبھایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: انا اور رنجش کے سبب میرے اور شاہ رخ خان کے درمیان فاصلے آئے: ابھیجیت بھٹاچاریہ

بالی ووڈ میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر شری دیوی نے سب سے پہلے فلم ’رانی میرا نام‘ میں ایک کردار ادا کیا تھا جو ۱۹۷۲ء میںریلیز ہوئی تھی۔ اس کے بعد ۱۹۷۵ء کی فلم ’جولی‘ میں پہلی بار شری دیوی نے بطور ہیروئن کام کیا تھا۔ اس فلم میں جولی کا کردار اداکارہ لکشمی نے ادا کیا تھا اور شری دیوی نے جولی کی چھوٹی بہن کا رول نبھایا تھا۔

شری دیوی نے جب  ہندی فلموں میں کام شروع کیا تھا تو وہ  ہندی نہیں جانتی تھیں لیکن بعد میں وہ بالی ووڈ کی ’لیڈی سپر اسٹار‘ بنیں۔بالی ووڈ میں بطور مرکزی اداکارہ اُن کی پہلی فلم ’سولہواں ساون‘ تھی جو ۱۹۷۹ء میں ریلیز ہوئی تھی، مگر ان کو فلم ’صدمہ‘ سے شناخت ملی جو ۱۹۸۳ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ ہدایت کار بالو مہندر کی  یہ فلم ایک تمل فلم کی ’ری میک‘ تھی جس کے مرکزی کردار کیلئے بالو مہندر نے ڈمپل کپاڈیا کا انتخاب کیا تھا۔ اُس وقت ڈمپل  اپنی فلم ’ساگر‘ کی شوٹنگ میں مصروف تھیں لہٰذا وہ ’صدمہ‘کیلئے وقت نہیں دے پائیں۔ اس طرح یہ فلم شری دیوی کے حصے میں آئی جس میںکمل ہاسن ہیرو تھے۔ شری دیوی نے اس میں ایک ایسی لڑکی کا مشکل کردار ادا کیا تھا، جس کی یادداشت ایک حادثے کی وجہ سے کمزور ہو جاتی ہے اور اس کا ذہن ایک چار پانچ برس کی چھوٹی بچی کی طرح ہو جاتا ہے۔ فلم ’صدمہ‘ باکس آفس پر تو ناکام  رہی مگر شری دیوی کے کریئر کی بہترین فلموں میں سے ایک رہی۔

۱۹۸۳ء میں ہی اُن کی ایک اور فلم’ہمت والا‘ نمائش کیلئے پیش  ہوئی جو بہت کامیاب رہی تھی۔ اس فلم میں شری دیوی کے علاوہ جتیندر، وحیدہ رحمان، شکتی کپور، قادر خان اور امجد خان بھی تھے۔ اس فلم کے بعد شری دیوی  اور جتیندر کی جوڑی  کامیاب فلمی جوڑی مانی جانے لگی۔ اس جوڑی نے کل ۱۶؍ ہندی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا جن میں’’جانی دوست (۱۹۸۳ء)، جسٹس چودھری (۱۹۸۳ء)، موالی (۱۹۸۳ء)، عقلمند(۱۹۸۴ء)، سہاگن (۱۹۸۶ء)، گھر سنسار (۱۹۸۶ء)،  دھرم ادھیکاری (۱۹۸۶ء) اور اولاد ‘‘کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان میں سے ۱۱؍ فلموں نے کافی شہرت حاصل کی اور باکس آفس پر بھی کامیاب رہی۔ ان میں سے ایک فلم ’جانی دوست‘ کو جس وقت بنانے کی تیاری کی جا رہی تھی، تو اس میں جتیندر کے ساتھ شری دیوی اور جیا پردہ کو ایک ساتھ کاسٹ کیا گیا تھا۔ فلم کے ڈسٹری بیوٹر رمیش سپی نے اس موقع پر کہا کہ شری دیوی کو فلم سے ہٹا دینا چاہئے کیونکہ اگرسائوتھ کی ۲۔۲؍ اداکارائوں کو ہم لیں گے تو یہ ہندی کم اور سائوتھ کی فلم زیادہ لگے گی لیکن ہدایتکار کے راگھویندر رائو نے شری کے بجائے جیا پردہ کو فلم سے الگ کر دیا۔ جیا کی جگہ اس فلم میںپروین بابی کو کاسٹ کیا گیا جوبطور مرکزی کردار کے ان کی آخری فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم کے بعد وہ امریکہ چلی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: شہزادی ڈائنا کی خفیہ ریکارڈنگز پر نئی دستاویزی سیریز ۲۰۲۷ء میں ریلیز ہوگی

شری دیوی اپنی فلمی اور نجی زندگی کو بالکل الگ الگ رکھتی تھیں۔۱۹۸۴ء میں متھن چکرورتی اور شری دیوی کی فلم ’جاگ اُٹھا انسان‘ ریلیز ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی شوٹنگ کے دوران  دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے تھےاور پھر اس بات کا بھی چرچا ہونے لگا  تھاکہ  دونوں نے خفیہ طور پر شادی کر لی ہے۔اس طرح کی باتیں سن کر متھن  کی بیوی نے خودکشی کی دھمکی دے ڈالی تھی جس کے بعدمتھن نے ایک جھٹکے میں شری دیوی سے تعلقات ختم کر لئے۔

شری دیوی اور امیتابھ بچن۸۰ء کی دہائی کے دو بڑے سُپر اسٹار اداکار تھے۔  انہوں نے تین فلموں میںساتھ کام کیا تھا۔’انقلاب، آخری راستہ اور خدا گواہ‘۔ فلم’انقلاب‘ ۱۹۸۴ء میں ہدایتکار ٹی رامارائو کی پیشکش تھی جس میں امیتابھ اور شری دیوی نے پہلی بار ایک ساتھ اداکاری کی تھی۔ اس کے علاوہ کےبھاگیہ راج کی ہدایت میں دونوں کی ایک اور فلم’آخری راستہ‘ ۱۹۸۶ء میں  پیش کی گئی تھی، جس میں جیا پردہ، انوپم کھیر اور دلیپ تاہل نےمرکزی کردار میں تھے۔ ان کی تیسری فلم ’خدا گواہ‘ ۱۹۹۲ء میں  پیش کی گئی تھی، جس کے ہدایت کار مکل ایس آنند  تھے۔ اس کی شوٹنگ ہندوستان اور نیپال کے علاوہ افغانستان کے شہر کابل اور اس کے مضافات  میں ہوئی تھی۔

شری دیوی کی بیشتر فلموں کی ڈبنگ’ناز‘ نامی ایک آرٹسٹ  نے کی تھی مگر بعد میں ناز سے تعلقات خراب ہو جانے کی وجہ سے ’آخری راستہ‘ میں شری دیوی کو اداکارہ ریکھا نے اپنی آواز دی تھی۔ حالانکہ اس دوران’ہمت والا‘اور ’چاندنی‘ جیسی فلموں میں شری دیوی نےخود اپنی ہی آواز ڈب کی تھی۔

۱۹۸۶ء میں ریلیز ہوئی فلم ’نگینہ‘ میں شری دیوی الگ ہی روپ میں نظر آئی تھیں۔ہرمیش ملہوترہ کی اس فلم میں انہوں نے رجنی نام کی لڑکی اور ایک اچِھادھاری ناگن کا کردار ادا کیا تھا۔ فلم میں  ان کی بہترین اداکاری کو عوام و خواص دیکھتے ہی رہ گئے تھے۔ رشی کپور، امریش پوری، سشما سیٹھ، پریم چوپڑہ اور جگدیپ وغیرہ اس فلم کے دیگر ستارے تھے۔ اس فلم کے گیت آنند بخشی نے لکھے تھے، جنہیں موسیقار جوڑی لکشمی کانت پیارے لال نے اپنی دُھنوں پر سجایا تھا۔ اس فلم کے سبھی گانے اتنے مقبول ہوئے تھے کہ اس زمانے میں گھر گھر میں سنے جاتے تھے۔ یوں تو ناگ ناگن کی کہانیوں پر پہلے بھی کئی فلمیں بن چکی تھیں لیکن فلم’نگینہ‘ کو بہترین فلم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ٹائمس آف انڈیا نے اس فلم کو، ناگ ناگن کی کہانیوں پر بنی فلموں میں بہترین فلم بتایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’دی ڈیول ویرز پراڈا ۲‘‘ کی زبردست اوپننگ، پہلے دن ۵۰؍ ملین ڈالر کا کاروبار

فلمساز بونی کپور نے ہدایتکار شیکھر پور کے ساتھ ۱۹۸۷ء میں فلم ’مسٹر انڈیا‘ نمائش کیلئے پیش کی تھی۔ اس فلم کے مرکزی کرداروں میں انل کپور، شری دیوی، امریش پوری، انو کپور اور رمیش دیو وغیرہ نے اداکاری کی تھی۔ اسکرپٹ رائٹر جوڑی سلیم جاوید نے اس فلم کی کہانی اور منظرنامے لکھے تھے۔ بطور اسکرپٹ رائٹر جوڑی، یہ فلم سلیم خان اور جاوید اختر کی آخری فلم تھی۔ اس کے بعد دونوں نے کسی بھی فلم کی کہانی مشترکہ طور پر نہیں لکھی تھی۔ اس فلم میں جاوید اختر کے لکھے گانے تھے اور لکشمی کانت پیارے لال کی موسیقی تھی اور فلم کے سبھی گانے بھی مقبول ہوئے تھے۔ کامیابی کے لحاظ سے ’مسٹر انڈیا‘ سلور  جبلی ثابت ہوئی۔ ۱۹۹۶ء میں اداکار انل کپور اور سنجے کپور کے بڑے بھائی بونی کپور سے شری دیوی نے شادی کر لی۔

۱۹۸۹ء میں ہدایت کار یش چوپڑہ کی فلم’چاندنی‘ میں نبھایا گیا شری دیوی کا کردار اُس وقتکافی مقبول ہوا تھا۔ اس فلم کیلئے انہیں نیشنل ایوارڈ بھی پیش کیا گیا تھا۔

شری دیوی کی بڑی بڑی اور سحرانگیز آنکھوں کے سبھی دیوانے تھے۔ کچھ اہم فلموں میں انہوں نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر کام کرنے سے منع کر دیا تھا، جیسے۱۹۹۳ء میں ہدایت  کار عباس مستان کی جوڑی میں بننے والی فلم ’بازیگر‘، ۱۹۹۵ء میں ریلیز ہوئی ہدایتکار رام گوپال ورما کی فلم’رنگیلا‘، ہدایت کار روی چوپڑہ کی ۲۰۰۳ء میں ریلیز ہوئی فلم ’باغبان‘، اور اس کے علاوہ ہدایت کار آدتیہ چوپڑہ کی فلم’محبتیں‘ میں بھی انہوں نے اداکاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ہدایتکار پنکج پراشر نے ۱۹۸۹ء میں ریلیز ہوئی فلم ’چالباز‘ میں شری دیوی کو اداکارہ کے طور پر کاسٹ کیا تھا۔ اس میں  ان کے ساتھ سنی دیول، رجنی کانت، انوپم کھیر، انو کپور اور سعید جعفری بھی مرکزی کردارمیں تھے۔ اس فلم نے بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کیلئے شری دیوی کو فلم فیئر کا بہترین اداکارہ کا اعزاز بھی ملا تھا۔ اس فلم کے ایک مشہور گیت ’’نہ جانے کہاں سے آئی ہے‘‘ کی شوٹنگ مصنوعی بارش میں کی گئی تھی، جس کی وجہ سے شری دیوی کو ۱۰۳؍ڈگری بخار ہو گیا تھا۔

اداکار و ہدایتکار ستیش کوشک نے ۱۹۹۳ء میں اپنی فلم ’روپ کی رانی چوروں کا راجہ‘ کے مرکزی کردار کیلئے انل کپور کے مقابلے شری دیوی کو کاسٹ کیا تھا۔ شری دیوی نے اس فلم میں اداکاری کرکے نقاد اور فلم شائقین سے کافی شہرت حاصل کی تھی۔ یہ فلم اپنے زمانے کی سب سے مہنگی فلم تھی، اس کے باوجود باکس آفس پر بری طرح ناکام رہی تھی۔

بالی ووڈ کی ۷؍ سے زیادہ ایسی فلمیں ہیں جن میں شری دیوی نے ڈبل رول ادا کیے تھے۔اسی لیے فلمی دُنیا میں اُن کو دہرے کرداروں کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کے دہرے کرداروں والی فلموں میں پہلا نام ہدایتکار اُمیش مہرہ کی فلم ’گرو‘ کا آتا ہے۔یہ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی تھی۔ان کے ڈبل رول والی دوسری فلم ’بنجارن‘ تھی جو ۱۹۹۱ء میں نمائش کیلئے پیش کی گئی تھی۔  ان کے فلمی کریئر کی بہترین فلموں میں سے ایک فلم ’چالباز‘ تھی۔اس کے بعد ایک اور فلم ’گرودیو‘ میں بھی ونود مہرہ کی ہدایت میں شری دیوی نے دو کردار ادا کیے تھے جو ۱۹۹۳ء میںریلیز ہوئی تھی۔  اس سے قبل ۱۹۹۲ء میں سلور اسکرین پر ناظرین کیلئے پیش کی گئی سُپر ہٹ فلم ’خدا گواہ‘ میں شری دیوی نے ماں  اور بیٹی کے ڈبل رول ادا کیے تھے۔  ۱۹۹۱ء میں یش راج فلمز کے بینر تلے ریلیز ہونے والی فلم’لمحے‘ میں بھی انہوں نے ڈبل رول کیے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کمبھ میلہ گرل مونالیزا کی شکایت، ہدایت کار پر ہراسانی کے الزامات

انہوں نے اپنی ۵۰؍ سالہ فلمی زندگی میں ہندی کے ساتھ ہی تمل، تیلگو، کنڑ اور ملیالم زبانوں میں تین سو سے زیادہ فلموں میںکام کیا۔ ۱۹۸۰ء سے ۱۹۹۰ء کے درمیان وہ سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والی اسٹار رہیں۔حکومت کی طرف سے ۲۰۱۳ء میں  انہیں پدم شری اعزاز سے نوازا تھا۔

۲۴؍فروری ۲۰۱۸ء کو بونی کپور کے بھتیجے موہت مارواہ کی شادی کی تقاریب سلسلے میں شری دیوی بھی دبئی گئی ہوئی تھیں، جہاں اُن کا انتقال ہو گیا۔پہلے اُن کی موت کی وجہ  ہارٹ اٹیک بتائی گئی تھی، مگر فارینسک رپورٹ کے مطابق اُن کی موت پانی کے ٹب میں ڈوبنے سے ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK