Updated: May 02, 2026, 3:56 PM IST
| New Delhi
’’کمبھ میلہ گرل‘‘ کے نام سے معروف مونا لیزا بھوسلے نے پوکسو ایکٹ کے تحت فلم ساز سنوج مشرا اور دیگر کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ معاملہ ایک علیحدہ شادی تنازع سے بھی جڑا ہوا بتایا جا رہا ہے۔
مونا لیزا۔ تصویر: آئی این این
’’کمبھ میلہ گرل‘‘ کے طور پر شہرت حاصل کرنے والی مونا لیزا بھوسلے ایک بار پھر خبروں میں آ گئی ہیں، اس بار ایک سنگین قانونی معاملے کے باعث۔ انہوں نے پوکسو ایکٹ کے تحت فلم ڈائریکٹر سنوج مشرا ، وی ایچ پی سے وابستہ ایڈوکیٹ انیل ویلائل سمیت چار افراد کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ یہ ایف آئی آر ۲۹؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو ایرناکولم سینٹرل پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، کیس پوکسو کے تحت درج کیا گیا ہے، جو نابالغوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ایک سخت قانون ہے۔ اس ایکٹ کے تحت درج مقدمات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ان کی تفتیش کے لیے مخصوص قانونی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تحریک آزادی میں حصہ لینے کیلئے بی بی سی کی نوکری چھوڑ کر بلراج ساہنی ہندوستان آگئے تھے
ایک پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے مونا لیزا نے الزام لگایا کہ فلم ’’منی پور کی ڈائری‘‘ کی شوٹنگ کے دوران ہدایت کار سنوج مشرا نے انہیں متعدد بار نامناسب طریقے سے چھوا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہدایت کار نے مجھے تقریباً ۱۰؍ بار نامناسب انداز میں چھوا۔ جب میں نے یہ بات اپنے گھر والوں کو بتائی تو انہوں نے میرا ساتھ نہیں دیا۔‘‘ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ایڈوکیٹ انیل ویلائل نے انہیں سوشل میڈیا پر بدنام کرنے کی کوشش کی۔ اس کیس کے سلسلے میں وہ عدالت میں پیش ہوئیں جہاں ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ مبینہ واقعات مدھیہ پردیش میں پیش آئے، اس لیے کیس کو وہاں کی پولیس کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: موشمی چٹرجی نے ہر کردار کو پوری شدت کے ساتھ نبھایا
یہ معاملہ صرف مبینہ ہراسانی تک محدود نہیں بلکہ ایک ذاتی تنازع سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مونا لیزا کی فرمان نامی شخص کے ساتھ شادی بھی تنازع کا سبب بنی ہوئی ہے۔ ان کے اہل خانہ نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ شادی کے وقت وہ نابالغ تھیں، جبکہ مونالیزا نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ۱۸؍ سال کی ہیں اور اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ اس تنازع نے سوشل میڈیا پر بھی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں بعض افراد نے اس معاملے کو ’’لو جہاد‘‘ جیسے حساس بیانیے سے جوڑنے کی کوشش کی، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھئے: آمدنی کے معاملے میں بالی ووڈ کی سب سے بڑی ہٹ فلم کون سی ہے؟
قانونی ماہرین کے مطابق پوکسو ایک سخت قانون ہے جو ۱۸؍ سال سے کم عمر بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت نہ صرف جرم کی تعریف واضح کی گئی ہے بلکہ متاثرہ کے تحفظ، شناخت کی رازداری اور بچوں کے موافق عدالتی کارروائی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔ فی الحال پولیس نے کیس درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شواہد اور بیانات کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی کی جائے گی۔