Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’منفی کردار ادا کرنے والے اداکار اپنی فنکاری کا بہتر مظاہرہ کرتے ہیں‘‘

Updated: May 31, 2026, 2:35 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

’’مہادیو اینڈ سنز‘‘ میں موگرا کا رول نبھانے والی ثانیہ کھیرا کا کہنا ہے کہ ’’میں ہر طرح کے کردار ادا کرنے میں یقین رکھتی ہوں لیکن منفی کردار بہتر انداز میں ادا کرتی ہوں۔‘‘

Saniya Khera. Photo: Social Media
ثانیہ کھیرا۔ تصویر: سوشل میڈیا

پنجاب سے تعلق رکھنے والی اداکارہ ثانیہ کھیرا اس وقت ’مہادیو اینڈ سنز ‘ نامی شومیں موگرا کا کردار ادا کررہی ہیں۔ حال ہی میں ان کے شو نے ۱۰۰؍ ایپی سوڈ مکمل کئے ہیں۔ ان کے پچھلے شو ’شہزادی ہے تو دل کی ‘ کی طرح ان کا یہ کردار بھی منفی ہے۔ ثانیہ نے ممبئی آنے سے پہلے پنجاب میں مقامی زبان میں بھی کچھ شوز کئے تھے اور اپنی والدہ کے کہنے پر انہوںنے ممبئی کا رخ کیا تھا۔ اس شو سے قبل انہوں نے ’پریم لیلا‘ میں ایشوریہ کا کردار نبھایا تھا۔ اپنے کریئرمیں ثانیہ نے ’جنونیت‘،’توسے نینا ملائیکے‘،’ من اتی سندر ‘ اور ’ایک لڑکی کو دیکھا تو ‘نامی شوز میں بھی منفی کردار نبھایا ہے۔ ثانیہ منفرد کردار نبھانے میں یقین رکھتی ہیں اور وہ اپنے کردار کے ساتھ تجربات کرتی رہتی ہیں۔ ثانیہ کھیرا کی پسندیدہ اداکارہ سری دیوی ہیں اور وہ ان سے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ نمائندہ انقلاب نے اداکارہ ثانیہ کھیرا سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
س: ٹی وی اداکاروں کیلئے ۱۰۰؍ ایپی سوڈ مکمل کرنا کتنا بڑا اعزاز ہوتا ہے؟
 ج: آج کل جو شوز چل رہے ہیں وہ بہت کم ایپی سوڈز پر ختم ہو جاتے ہیں، اس لیے ۱۰۰؍ ایپی سوڈ مکمل ہونا بہت بڑی بات ہے اور یہ اعزاز بھی ہے۔ میں خدا کی بہت شکر گزار ہوں اور خود کو خوش نصیب سمجھ رہی ہوں۔یہ میرے اکیلے کی محنت نہیںہے بلکہ سبھی لوگوں کی تگ و دو کا نتیجہ ہے۔ اچھا لگتا ہے کہ میرے شو ’’مہا دیو اینڈ سنز‘‘ کے ۱۰۰؍ ایپی سوڈ مکمل ہو گئے ہیں۔ میں چاہوں گی کہ آگے چل کر یہ ۲۰۰؍ اور ۳۰۰؍ ایپی سوڈ بھی پورے کرے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ناظرین کی طرف سے ٹی آر پی کیسے بڑھتی ہے۔ ۱۰۰؍ایپی سوڈ مکمل ہونا واقعی ایک بڑی بات ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راج کھوسلہ، ہندی سنیما کے سنہری دور کا ایک عظیم فلم ساز

س: اپنے کردار کے بارے میں بتائیں ؟
ج: میں ناظرین کو یہ بتانا چاہوں گی کہ موگرا کا کردار بہت حساب کتاب والا، چالاک اورحکمت عملی کے تحت کام کرنے والا ہے جبکہ خاندان کے باقی لوگ بہت پیارے، خیال رکھنے والے اور میٹھے ہیں۔ وہ آپ کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ آپ گھر کی بڑی بہو ہیں، اس لیے سبھی کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔موگرا کا پس منظر بہت غریب ہے۔ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی ماں ایک گاؤں سے ہے اور وہ صرف امیر خاندان میں اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے انہوں نے موگرا کی شادی اپنی حیثیت سے بڑے خاندان میں کی ہے ۔انہوں نے موگرا کی شادی کیلئے اس کے ہی سسرال والوں سے خرچ کے لیے ۱۰؍ لاکھ روپے مانگے تھے۔ ابھی شو میں موگرا کا داخلہ ہوا ہے اور کھیل شروع ہو گیا ہے۔ آگے کیا ہوگا، وہ دیکھتے ہیں۔ ناظرین کو میراکرداربے حد پسند آ رہا ہے۔
س: آپ اتنی گرمی میں شوٹنگ کیسے کرتی ہیں؟ ایک اداکار کیلئے ایسی کڑی دھوپ میں اتنی محنت کرنا کیسا ہے؟
ج: جی، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میرا پچھلا شو حیدرآباد میں شروع ہوا تھا اور پوری شوٹنگ جنوب میں ہی ہوئی تھی۔ یہ شو بھی جنوبی ہند کے ایک شو کاری میک ہے، لیکن اس کی شوٹنگ اس وقت ممبئی میں ہو رہی ہے۔ ممبئی کا موسم سب جانتے ہیں، یہاں تقریباً پورا سال ایک جیسا موسم نہیں رہتا ہے۔مئی میں یہاں بہت زیادہ گرمی ہوتی ہے اور اس موسم میں ہی شوٹنگ کررہےہیں۔ زیادہ تر انڈور شوٹس ہوتے ہیں، لیکن کبھی کبھی آؤٹ ڈور بھی ہوتے ہیں۔ گرمی تو ہوتی ہے، مگر حیدرآباد جتنی نہیں۔ حیدرآباد کے مقابلے میں یہاں کم گرمی ہے۔
س: آپ کواس طرح کے منفی کردار ادا کرنے میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوتا؟
 ج: نہیں، مجھے منفی کردار نبھانا واقعی بہت پسند ہے۔ میں مستقبل میں بھی منفی کردار اور فلمیں کرنا چاہوں گی کیونکہ میں نے جتنے بھی پروجیکٹس کیے ہیں، میں نے محسوس کیا ہے کہ لوگ منفی کرداروں کو زیادہ نوٹس کرتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ ہم تو ایک طرح سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں کہ ایسے شرپسند لوگوں سے دور رہیں۔ اگرچہ کچھ دیہاتی لوگ ہماری اداکاری کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں، جیسا کہ میں نے آپ کو پچھلی بار ایک واقعہ بتایا تھا۔ گاؤں کے لوگ اکثر سمجھتے ہیں کہ جو وہ دیکھ رہے ہیں وہی حقیقت ہے، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ آج کی نوجوان نسل بہت سمجھدار ہے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف شوٹنگ ہے۔ ڈجیٹل دنیا کی وجہ سے سب کچھ لوگوں کو پتا چل جاتا ہے۔ لیکن اب بھی کچھ دیہاتی اسے حقیقت مان جاتے ہیں۔ مجھے منفی کردار اس لیے پسند ہیں کیونکہ ان میںاداکاری کا زیادہ موقع ملتاہے ۔ ہم دوسروں کو یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ ایسے شاطرلوگوں سے بچنا چاہیے کیونکہ ایسے افراد ہر گھر اور ہر صورتحال میں ہوتے ہیں۔
س: کیا موگرا کے کردار میں آگے کوئی تبدیلی آئے گی؟
 ج: ابھی تو موگرا کے کردار نے شومیں داخلہ لیا ہے اوراس کی شروعات ہے۔ سسرال میں یہ داخل ہوئی ہے۔ آگے کیا ہوگا، دیکھتے ہیں۔ اس نے اپنا کھیل شروع کر دیا ہے اور اس میں سب کچھ دلچسپ ہونے والا ہے کیونکہ وہ گھر کی بڑی بہو ہے۔ سبھی کو اس سے بہت توقعات ہیں کہ وہ بہت شریف اورسبھی کا خیال رکھنے والی ہے لیکن موگرا تھوڑی پیسے کی لالچی، لوبھی اور چالاک ہے۔ وہ اپنے سسرال والوں کے سامنے الگ ہے اور دیورانیوں کے سامنے الگ برتاؤ کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عالیہ بھٹ کی ’’الفا‘‘ایک بار پھر ری شیڈول، اب ۳؍ جولائی کو ریلیز ہوگی

س: کوئی ایسا نیگیٹو کردار ہے جو آپ کو بہت پسند ہو؟
 ج: سری دیوی جی ہیں۔ میرے خیال میں ان کے جیسا کوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ ایک لیجنڈ اداکارہ تھیں۔وہ ہر قسم کا کردار ادا کر سکتی تھیں، یہاں تک کہ ویلن کا کردار بھی۔
 س: آج کل ورٹیکلز کا دور ہے تو آپ اس کے بارے میں کیا کہیں گی؟ اس میں بھی منفی کردار کرنا چاہیں گی یا مثبت؟
ج: ایسا نہیں ہے کہ میں صرف منفی کردار ہی کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے مثبت کردار بھی اتنے ہی پسند ہیں، لیکن اگر اداکاری کی بات کروں تو نگیٹیو رول زیادہ پسند ہیں۔ لوگ انہیں بہت برا بھلا بھی کہتے ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ جب کوئی کردار لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتاہے تو اس کا مطلب ہے کہ شائقین نے اسے پسند کیا ہے۔ ورٹیکلزکے بارے میں میں یہ کہوں گی کہ آج کل ان کی دنیا بالکل الگ ہو گئی ہے۔ شروع میں لگتا تھا کہ یہ صرف ایک دو مہینے چلیں گے لیکن بعد میں بہت اچھے ورٹیکلزبھی آنے لگے۔ میں نے بھی اب تک ۲۔۳؍ ورٹیکلز میں کام کیا ہے اور ان کی اپنی الگ دنیا بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سلمان خان کے ہرن شکار تنازع پر بننے والی فلم ’’کالا ہرن‘‘ کا پوسٹر جاری

س: کیا آپ ٹی وی شوز میں کام کرنا جاری رکھنا چاہیں گی؟
 ج: جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ میں مختلف پروجیکٹس پر کام کرنا چاہوں گی۔ دیکھتے ہیں آگے قسمت میں کیا لکھا ہے۔ فی الحال تو شو چل رہا ہے۔ مستقبل میں میں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر بھی کام کرنا چاہوں گی۔ میں مختلف کردار ادا کرنا چاہتی ہوں اور ایسے کردار نبھانا چاہتی ہوں جنہیں لوگ پسند کریں۔ میں اچھے کرداروں اور تخلیقی لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK