سوڈان کی ریاست نیل ابیض میں۲۰۲۶ء کے آغاز سے اب تک تقریباً۵۰؍ ہزار افراد بے گھرہوچکے ہیں،جبکہ سوڈانی فوج، آر ایس ایف اور اتحادی ایس پی ایل ایم-این فورسیزکے درمیان مسلح جھڑپیں جاری ہیں۔
EPAPER
Updated: May 14, 2026, 12:02 PM IST | Khartoum
سوڈان کی ریاست نیل ابیض میں۲۰۲۶ء کے آغاز سے اب تک تقریباً۵۰؍ ہزار افراد بے گھرہوچکے ہیں،جبکہ سوڈانی فوج، آر ایس ایف اور اتحادی ایس پی ایل ایم-این فورسیزکے درمیان مسلح جھڑپیں جاری ہیں۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) نے منگل کو بتایا کہ سوڈان کی ریاست نیل ابیض میں جاری جھڑپوں کے باعث۲۰۲۶ء کے آغاز سے اب تک تقریباً۵۰؍ ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ایک بیان میں تنظیم نے کہا کہ۱۱؍ جنوری سے۴؍ مئی کے درمیان جنوب مشرقی ریاست سے تخمیناً ۴۹۵۱۲؍افراد (یعنی ۹۸۹۹؍خاندان) بے گھر ہوئے۔آئی او ایم کے مطابق، کرمک سے ۲۸۰۲۰؍باؤ سے۱۸۷۲۲؍ اور گیسان سے۱۱۸۵۵؍ افراد بے گھر ہوئے۔تنظیم نے مزید بتایا کہ بے گھر افراد ریاست نیل ابیض کے سات مقامات پر منتقل ہوئے، جن میں ریاستی دارالحکومت دمازین بھی شامل ہے، جہاں۲۵۶۳۰؍ بے گھر افراد پہنچے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تقریباً نصف علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیاہے‘‘
آئی او ایم نے کہا کہ نئے بے گھر ہونے والوں میں سے 78 فیصد غیر رسمی پناہ گاہوں میں پناہ گزین ہیں، جبکہ۱۳؍ فیصد اسکولوں اور دیگر عوامی عمارتوں میں رہ رہے ہیں اور۹؍ فیصد میزبان خاندانوں کے ساتھ ہیں۔واضح رہے کہ ریاست نیل ابیض میں سوڈانی فوج، ریپڈ سپورٹ فورسیز (آر ایس ایف) اور سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ-نارتھ (ایس پی ایل ایم-این) کے درمیان مسلسل جھڑپیں ہو رہی ہیں، جو۲۰۱۱ء سے جنوبی کورڈوفان اور نیل ابیض میں علاقائی خود مختاری کے لیے حکومت کے خلاف لڑ رہی ہے۔دریں اثناءاپریل ۲۰۲۳ء سے، آر ایس ایف اور سوڈانی فوج کے درمیان نیم فوجی دستے کو فوج میں ضم کرنے پر اختلافات کے باعث جنگ جاری ہے۔جس کے نتیجے میںدنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک پیدا ہوگیاہے، جس میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور سوڈان بھر میں تقریباًایک کروڑ ۳۰؍ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔