سجیت نے اپنے کریئرکاآغاز ۱۹۶۰ء کی دہائی میں کیا جب انہوں نے ۱۹۶۵ء کی ’ایک سال پہلے‘ اور ۱۹۶۶ء کی لال بنگلہ نامی سسپنس فلموں میں اہم کردار ادا کئے۔ انہوں نے راجیش کھنہ کے ساتھ کئی فلموں میں کام کیا۔
EPAPER
Updated: February 07, 2026, 11:37 AM IST | Mumbai
سجیت نے اپنے کریئرکاآغاز ۱۹۶۰ء کی دہائی میں کیا جب انہوں نے ۱۹۶۵ء کی ’ایک سال پہلے‘ اور ۱۹۶۶ء کی لال بنگلہ نامی سسپنس فلموں میں اہم کردار ادا کئے۔ انہوں نے راجیش کھنہ کے ساتھ کئی فلموں میں کام کیا۔
ہندی فلمی دنیا میں کچھ اداکار ایسے ہوتے ہیں جو ہیرو بننے کی دوڑ میں شامل ہی نہیں ہوتے، اس کے باوجود فلم کے ڈھانچے میں ان کی موجودگی ناگزیر بن جاتی ہے۔ سجیت کمار کا شمار بھی انہی اداکاروں میں ہوتا ہے۔ وہ نہ تو رومانوی ہیرو تھے اور نہ ہی اسٹائل کے نمائشی علمبردار، مگر جب بھی اسکرین پر آئے، اپنی مضبوط شخصیت، گمبھیر آواز اور نپی تلی اداکاری سے منظر کو سنجیدگی عطا کر دی۔ سوجیٹ کمار مشہور اداکارکے ساتھ پروڈیوسر بھی تھے، جنہیں خاص طور پر ہندی اور بھوجپوری سنیما میں لیڈ ہیرو اور ولن دونوں کے کرداروں کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی زندگی وکالت سے فلمی دنیا تک کے سفر اور بھوجپوری فلموں کو نئی زندگی دینے کی جدوجہد کی داستان ہے۔
سوجیت کمار کا اصل نام شمشیر بہادر سنگھ تھا اور ان کی پیدائش ۷؍ فروری ۱۹۳۴ءکو بنارس میں ہوئی۔ تعلیم کے دوران وہ ڈراموں میں حصہ لیتے رہے، جہاں ڈائریکٹر فنی مجومدار کی نظر ان پر پڑی اور انہیں اداکاری کی طرف راغب کیا۔ وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے ۱۵۰؍ سے زیادہ ہندی اور کم از کم ۲۰؍بھوجپوری فلموں کیلئے بھی کام کیا۔
ان کا سب سے زیادہ قابل ذکر رول فلم آرادھنا میں نظر آیا جہاں وہ راجیش کھنہ کے ساتھ جیپ میں بیٹھ کر جیپ چلاتے ہوئے ماؤتھ آرگن بجارہے ہیں جبکہ راجیش ٹرین میں بیٹھی شرمیلا ٹیگور کو لبھانے کی کوشش کرتے نظر آرہے ہیں۔
سجیت نے۱۹۸۰ء کی دہائی سے ۲۰۰۰ء کے بیچ سجیت نے فلم پروڈکشن کے میدان میں نمایاں کام کیا۔ اس کی ایک اور کامیابی یہ بھی ہے کہ ان کی جاپان کی گیم بنانے والی کمپنی سیگا نے ان کی شخصیت پر مبنی ایک کردار شینوبی تخلیق کیا تھا جو بہت مشہور ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: سنیل دت جب انٹرویو لینے پہنچے تو نرگس نے کہا: میرے پاس دس منٹ ہیں
سجیت نے اپنے کریئرکاآغاز ۱۹۶۰ء کی دہائی میں کیا جب انہوں نے ۱۹۶۵ء کی ’ایک سال پہلے‘ اور ۱۹۶۶ء کی لال بنگلہ نامی سسپنس فلموں میں اہم کردار ادا کئے۔ انہوں نے راجیش کھنہ کے ساتھ کئی فلموں میں کام کیا جن میں آرادھنا، اتفاق، آن ملو سجنا، ہاتھی میرے ساتھی، امر پریم، میرے جیون ساتھی، روٹی، محبوبہ، اوتار، آخر کیوں اور امرت جیسی فلمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے رامانند ساگر کی آنکھیں (۱۹۶۸ء)، نیا راستہ (۱۹۷۰ء)، جگنو (۱۹۷۳ء)، ہمراہی (۱۹۷۴ء)، چرس (۱۹۷۶ء)، دھرم ویر (۱۹۷۷ء)، دیو آنند کی دیس پردیس، دی برننگ ٹرین، کام چور، کرانتی ویر اور ترنگا جیسی فلموں میں بھی اہم کردار ادا کئے۔
۷۰۔ ۱۹۶۰ءکی دہائی میں جب بھوجپوری فلموں کا زوال آ رہا تھا، سوجیٹ نےبدیسیا، لوہا سنگھ، دنگل(بھوجپوری کی پہلی کلر فلم)، پان کھائے سئیاں ہمار اورچمپا چمیلی جیسی بلاک بسٹر فلمیں دیں، جو انہیں بھوجپوری کا پہلا سپر اسٹار بنانے کا باعث بنیں۔
۱۹۹۰ءکی دہائی میں انہوں نےاداکاری چھوڑ پروڈکشن کی طرف رخ کیا، جہاں جہنی چوہدری کی’درار‘ اور سنی دیول کی’چیمپئن‘ بنائیں جنہوں نے فلم فیئر ایوارڈز جیتے۔ ان کی آخری فلم ’کرانتی ویر‘ تھی جس میں انہوں نےپولیس کمشنر کا کردار کیا۔ ۵؍فروری۲۰۱۰ءکو ۷۶؍ سال کی عمر میں کینسر سے ممبئی میں انتقال ہوگیا۔
سُجیت کمار کو شاید بڑے ایوارڈز یا شہ سرخیوں میں زیادہ جگہ نہ ملی ہو، مگر فلمی دنیا میں ان کا احترام مسلم تھا۔ ہدایت کار جانتے تھے کہ اگر فلم میں مضبوط سائیڈ کردار درکار ہے، تو سجیت کمار ایک محفوظ انتخاب ہیں۔ وہ کردار کو نہ نگلتے تھے، نہ اسے کمزور کرتے تھےبس اسے درست جگہ پر رکھ دیتے تھے۔