• Sat, 07 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومت کی لاڈلی بہن یوجنا کیلئے ۳۱؍ مارچ ای- کے وائی سی کرنے کا موقع

Updated: February 07, 2026, 1:21 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ریاستی وزیر برائے بہبودخواتین و اطفال ادیتی تٹکرے نے خواتین سے درخواست کی ہے کہ وہ ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۶ء سے قبل تک اپنا ’ای- کے وائی سی ‘ کر دیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ریاست کی کئی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے وزیراعلیٰ میری لاڈلی بہن یوجنا کیلئے درخواست دی تھی اور انہیں ماہانہ ۱۵۰۰؍  روپے مل بھی رہا تھا لیکن پھر حکومت کی جانب سے ’ ای- کے وائی سی ‘لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسکیم سے استفادہ کرنے والی کئی خواتین نے ای- کے وائی سی بھی کیا، اس کے باوجود ان کی رقم دوبارہ شروع نہیں کی گئی۔ اس لئے ریاستی وزیر برائے بہبودخواتین و اطفال ادیتی تٹکرے نے خواتین سے درخواست کی ہے کہ وہ ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۶ء سے قبل تک اپنا ’ای- کے وائی سی ‘ کر دیں۔ 
اس سلسلے میں ادیتی تٹکرے نے ’ایکس‘ پر لاڈلی بہنوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا ہےکہ ’’ایسی کئی شکایتیں موصول ہوئی ہیں کہ متعدد استفادہ کنندہ خواتین کے ذریعے ای-کے وائی سی کی کارروائی کے دوران غلط آپشن کا انتخاب کرنے کی وجہ سے اسکیم کے فوائد حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص طور پر ان تمام بہنوں کو جنہوں نے ای-کے وائی سی کرنے کے باوجود ابھی تک اس اسکیم کے فوائد حاصل نہیں کئے ہیں، انہیں اپنے’ ای-کے وائی سی ‘ کی معلومات درست کرنے کا ایک اور موقع دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی: رانی باغ کے فلاور فیسٹیول چلئے، تازگی کا بھرپور لطف لیجئے!

اس پس منظر میں ای-کے وائی سی کو درست کرنے کی سہولت آن لائن پورٹل کے ذریعے ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۶ءتک دستیاب کرائی گئی ہے۔ انہوں نے مزید یقین دلایا کہ ’’خواتین اور اطفال کی بہبودکے محکمے کا یہ مقصد ہے کہ تمام اہل استفادہ کنندگان کو اس اسکیم کا فائدہ ملنا چاہئے۔ اس لئے جن بہنوں کے ای-کے وائی سی کے عمل میں کچھ غلطی ہوئی ہے، ان سے عاجزانہ درخواست ہے کہ آخری تاریخ سے پہلے اسے درست کر لیں۔ ‘‘
واضح رہے کہ ای -کے وائی سی پُر کرنے میں رہنمائی کرنے کیلئےخواتین اور اطفال کی بہبود کے محکمے کی جانب سے ہیلپ لائن نمبر۱۸۱؍ بھی جاری کیا گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK