بالی ووڈ میں فنکاروں کے بچے اکثر بچپن ہی سے فلمی دنیا کی چمک دمک اور ستاروں کی محفلوں کے درمیان پرورش پاتے ہیں، لیکن سنیل شیٹی نے اپنے بچوں کو اس ماحول سے دور رکھنے کی پوری کوشش کی۔
EPAPER
Updated: November 07, 2026, 1:10 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
بالی ووڈ میں فنکاروں کے بچے اکثر بچپن ہی سے فلمی دنیا کی چمک دمک اور ستاروں کی محفلوں کے درمیان پرورش پاتے ہیں، لیکن سنیل شیٹی نے اپنے بچوں کو اس ماحول سے دور رکھنے کی پوری کوشش کی۔
بالی ووڈ میں فنکاروں کے بچے اکثر بچپن ہی سے فلمی دنیا کی چمک دمک اور ستاروں کی محفلوں کے درمیان پرورش پاتے ہیں، لیکن سنیل شیٹی نے اپنے بچوں کو اس ماحول سے دور رکھنے کی پوری کوشش کی۔ ان کی خواہش تھی کہ بیٹی عطیہ شیٹی اور بیٹے اَہان شیٹی کا بچپن دوسرے عام بچوں کی طرح گزرے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے گھر میں فلموں، ٹیلی ویژن اور فلمی رسائل کے حوالے سے کئی سخت اصول بنا رکھے تھے۔عطیہ شیٹی کے والد سنیل شیٹی بالی ووڈ کے معروف اداکار ہیں، جبکہ ان کی والدہ مانا شیٹی فیشن ڈیزائنر اور سماجی کارکن ہیں۔ فلمی دنیا سے قریبی تعلق ہونے کے باوجود مانا شیٹی نے بچوں کی پرورش فلمی ستاروں کی بستیوں جوہو اور باندرہ سے دور جنوبی ممبئی کے الٹاماؤنٹ روڈ علاقے میں کی۔ اس کے پیچھے مقصد یہی تھا کہ بچے فلمی دنیا کی شہرت اور چکاچوند سے متاثر ہوئے بغیر ایک عام زندگی گزار سکیں۔ سنیل شیٹی کے گھر میں یہ اصول تھا کہ بچے فلموں کی شوٹنگ دیکھنے کے لیے سیٹ پر نہیں جائیں گے۔ گھر میں فلمی رسائل بھی نہیں منگوائے جاتے تھے۔ سنیل نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بچے فلمی دنیا کی افواہوں، گوسپ اور منفی خبروں کے درمیان پرورش پائیں۔ یہی وجہ تھی کہ عطیہ اور اَہان کو اپنے والد کی فلموں کی شوٹنگ دیکھنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ بچوں کی تربیت میں سماجی خدمت کو بھی خاص اہمیت دی گئی۔ عطیہ جب تقریباً۱۰؍ سے ۱۲؍ برس کی تھیں تو اپنی والدہ اور نانی کے ساتھ سماجی تنظیم ’سیو دی چلڈرن انڈیا‘ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگیں۔ وہ خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کو پڑھانے اور ان کی مدد کرنے کے کام میں بھی شامل رہیں۔ اس طرح بچپن ہی سے ان کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا کیا گیا۔ سنیل شیٹی کا خیال تھا کہ فلمی دنیا میں کامیابی اور ناکامی کے ساتھ میڈیا کی تنقید اور مختلف طرح کی خبروں کا بچوں کی شخصیت پر منفی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: پیراگوئے کا بڑا ڈیجیٹل بینک دیوالیہ، ملک کی نصف آبادی اپنی رقم تک رسائی سےمحروم
وہ چاہتے تھے کہ ان کے بچے اپنے والد کی شہرت کے سہارے نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کے بل پر اپنی شناخت قائم کریں۔ ایک پوڈکاسٹ میں سنیل شیٹی نے اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے بھی دلچسپ بات بتائی تھی۔ انہوں نے انہیں ہندوستانی تعلیمی بورڈکے بجائے بین الاقوامی اور امریکی نظام تعلیم سے وابستہ اسکول میں پڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ بچوں کے اساتذہ اور اسکول کا عملہ غیر ملکی ہو، جنہیں ہندوستانی فلمی ستاروں کے بارے میں زیادہ معلومات نہ ہوں۔ اس طرح عطیہ اور اَہان کو اپنے والد کے مشہور اداکار ہونے کا کوئی اضافی دباؤ محسوس نہ ہو اور وہ اپنی الگ شناخت بنا سکیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بچپن سے فلمی دنیا سے دور رکھے جانے کے باوجود عطیہ نے بڑے ہوکر اداکاری کو ہی اپنا کریئر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ مزید پڑھائی کے لیے امریکہ کے شہر اٹلانٹا جانے والی تھیں اور وہاں ایک کالج میں داخلہ لینے کا ارادہ بھی تھا، لیکن ہوائی اڈے پر ان کا فیصلہ بدل گیا۔ انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ وہ فلموں میں کام کرنا چاہتی ہیں۔اس کے بعد عطیہ نیویارک چلی گئیں، جہاں انہوں نے نیویارک فلم اکیڈمی میں داخلہ لیا۔ وہاں انہوں نے فلم سازی اور لبرل آرٹس کی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ۲۰۱۵ءمیں سورج پنچولی کے ساتھ فلم ’ہیرو‘ کے ذریعے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔یوں سنیل شیٹی نے جس فلمی دنیا سے اپنے بچوں کو بچپن میں دور رکھنے کی کوشش کی تھی، اسی دنیا کو ان کی بیٹی نے آگے چل کر اپنے کریئر کے طور پر منتخب کرلیا۔