• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ تیز رفتار عدالتی شنوائی بنیادی حق ہے‘‘

Updated: November 07, 2026, 1:35 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، یہ واضح کیا کہ ضمانت کے معاملہ میں یواے پی اے اور پی ایم ایل اے جیسے خصوصی قوانین پر آئین کو ترجیح حاصل ہوگی۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ  تیز رفتار عدالتی شنوائی آئین  کے تحت  بنیادی حق ہے او ر  یو اے پی اے، پی ایم ایل اے، این ڈی پی ایس اور دیگر خصوصی قوانین پر آئین کو ترجیح حاصل ہوگی۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ یو اے پی اے جیسے قانون   کے تحت ماخوذ کئے گئے عمر خالد اور شرجیل امام اُسی سپریم کورٹ سے ضمانت  سے محروم کرکے لوٹائے گئے ہیں حالانکہ ۶؍ سال کی قیدکے باوجود یواے پی اے کے تحت ان کے مقدموں کی سماعت تک شروع نہیں ہوئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر میں چھوٹ گئے ووٹرس کو ایک اور موقع

جسٹس اُجل بھوئیں اور جسٹس اے ایس چندروکر کی بنچ نے کہاکہ اگر آئینی دفعات اور این ڈی پی ایس، یو اے پی اے اور پی ایم ایل اے جیسے خصوصی قوانین کے درمیان تضاد یا ٹکراؤ ہو تو آئین کو بالادستی حاصل ہوگی۔ کورٹ نے کہا کہ تیز رفتار شنوائی بنیادی حق ہے جس کی کسی بھی قانون کے تحت خلاف ورزی نہیں ہوسکتی اور  اس کی بنیاد پر ضمانت  دی جاسکتی ہے۔ ۲؍ رکنی بنچ نے یہ حکم اپنے ہی سابقہ فیصلے کو بدلتے ہوئے سنایا ۔ مذکورہ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ این ڈی پی ایس جیسے خصوصی قوانین   کے معاملوں  میں آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ کے تحت دیئے گئے تیزرفتار شنوائی کے حق کو مذکورہ قانون کے سیکشن ۳۷؍ کے تحت طے کی گئی حدود میں دیکھا جائے گا۔ جسٹس اُجل بھوئیں اور جسٹس اے ایس چندروکر نے واضح کیا کہ بنیادی حقوق کے ساتھ اتنی آسانی  سے خصوصی قوانین کے نام پر چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاسکتی۔ بنچ نے کہا کہ ’’اول تو آرٹیکل ۲۱؍ کے تحت فراہم کئے گئے حقوق صرف آئینی حقوق نہیں ہیں بلکہ  بنیادی حقوق بھی ہیں۔ آرٹیکل ۲۱؍  کے تحت زندگی اور آزادی کا حق ہمارے آئینی عدالتی نظام کی بنیاد ہے۔ ان قوانین کے ساتھ اتنی آسانی   سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاسکتی،خصوصی قوانین کے  تحت  بھی نہیں۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK