Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنیل پال نے سمے رائنا کو وزیرِ اعلیٰ فرنویس سے اعزاز ملنے پر سوال کئے

Updated: August 28, 2026, 5:02 PM IST | Mumbai

معروف کامیڈین سنیل پال نے اسٹینڈ اپ کامیڈین سمے رائنا کو مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ دیویندر فرنویس کی جانب سے اعزاز دیے جانے پر سخت سوالات کئے ہیں۔ پال نے اس فیصلے پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اعزاز سے نوجوان کامیڈینز کو غلط پیغام جا سکتا ہے۔

Samay Raina. And Devendra Fadnavis.Photo:INN
دیویندرفرنویس اور سمے رائنا۔ تصویر:آئی این این

معروف کامیڈین  سنیل پال  نے اسٹینڈ اپ کامیڈین  سمے رائنا کو مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ  دیویندر فرنویس کی جانب سے اعزاز دیے جانے پر سخت سوالات کئے ہیں۔ پال نے اس فیصلے پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اعزاز سے نوجوان کامیڈینز کو غلط پیغام جا سکتا ہے۔ سمے رائنا کو ۲۶؍اگست کو ممبئی میں مہاراشٹر سائبر کے ایک سائبر آگاہی پروگرام میں فرنویس نے اعزاز سے نوازا۔ یہ پروگرام سائبر کرائم سے متعلق آگاہی کے لیے بنائی گئی مختصر فلم’’ڈجیٹل اریسٹ ‘‘  اور مہاراشٹر سائبر اینتھم ۱۹۳۰ء سے متعلق تھا۔

یہ بھی پڑھئے:ایران: باقر قالیباب کی اسکاٹ بیسنٹ پر تنقید، کہا اپنےعوام کی ضروریات پر توجہ دیں

اس تقریب میں فلم اور تفریحی دنیا کی متعدد شخصیات بھی موجود تھیں، جن میں اشیش ودیارتھی، پنکج ترپاٹھی، شرد کیلکر، سونالی بیندرے، جاوید جعفری اور گلوکارہ سنیدھی چوہان شامل تھیں۔  سمے رائنا کے اعزاز کے ایک دن بعد سنیل پال نے ایک ویڈیو جاری کی اور اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ  ’’گھور کلیگ آ گیا ہے۔‘‘
انہوں نے بنیادی طور پر رائنا کے سابق کامیڈی شو’’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘‘ سے جڑے تنازع کا حوالہ دیا۔ پال نے اعتراض کیا کہ شو میں مبینہ طور پر شرکاء اور پینل کے اراکین کی جانب سے انتہائی نازیبا اور گالی گلوچ والی زبان استعمال کی جاتی تھی، ایسے میں رائنا کو سرکاری سطح پر اعزاز دینے سے عوام اور نوجوان فنکاروں کو کیا پیغام ملے گا۔  پال نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ کیا گالی گلوچ اور متنازع مواد کی وجہ سے بھی کسی کو اعزاز دیا جا سکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کامیڈین یہ تصور نہ کرنے لگیں کہ پہلے متنازع زبان استعمال کریں، پولیس کیس اور شہرت حاصل کریں اور پھر ایک دن اسی نظام سے اعزاز بھی مل جائے گا۔ 
سمے رائنا کا شو’’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘‘  فروری۲۰۲۵ء میں اس وقت شدید تنازع میں آگیا تھا جب ایک ایپی سوڈ میں یوٹیوبر اور پوڈکاسٹر  رنویر الہ آبادیا  کے نامناسب سوال نے بڑے پیمانے پر ردعمل پیدا کیا۔ اس کے بعد رائنا، الہ آبادیا اور شو سے وابستہ دیگر افراد کے خلاف شکایات اور ایف آئی آرز درج ہوئیں۔ مہاراشٹر سائبر نے بھی رائنا سے پوچھ گچھ کی۔ بعد میں رائنا نے شو کی تمام پرانی اقساط یوٹیوب سے ہٹا دی تھیں۔  
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود سمے رائنا نے بھی تقریب کے دوران مہاراشٹر سائبر کے ساتھ اپنے ماضی کے تعلق کو مزاحیہ انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے فرنویس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ  مہاراشٹر سائبر کے ساتھ ان کا تعلق کافی پرانا ہے ۔ انہوں نے سائبر ہیلپ لائن نمبر  ۱۹۳۰ء کا بھی مذاقاً ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ نمبر محفوظ کر رکھا ہے کیونکہ انہیں وہاں سے فون آتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مہاراشٹر سائبر کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے اپنے سابق تجربے کو ہی کامیڈی کا حصہ بنا دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:آشا بھوسلے کی آواز میں ریکارڈ ہوا آخری فلمی نغمہ ۸؍ ستمبر کو ریلیز ہوگا

سنیل پال کی تنقید کا مرکز صرف سمے رائنا نہیں بلکہ  اعزاز کے ذریعے جانے والے پیغام  پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کامیڈین کو متنازع زبان اور تنازعے کے بعد سرکاری سطح پر عزت ملتی ہے تو نوجوان فنکار اس سے کامیڈی کے بارے میں غلط سبق لے سکتے ہیں۔  دوسری جانب  سمے رائنا کو دیا گیا اعزاز ان کے  سائبر آگاہی مہم میں تعاون  کے حوالے سے تھا، نہ کہ ’’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘‘ کے متنازع مواد کے لیے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق رائنا نے سائبر آگاہی فلم اور اینتھم میں تعاون کیا تھا۔  فی الحال سمے رائنا کی جانب سے سنیل پال کی تازہ تنقید پر کوئی باقاعدہ جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK