فلم اور تھیٹر اداکار سنیل شرما کا کہنا ہےکہ شو بز انڈسٹری میں شناخت قائم کرنےکی کوشش کو میں جدوجہد نہیں سمجھتا۔ فلم ’دھرندھر‘ میں کام کرنے کے اپنےتجربے کو شاندار قرار دیا۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 6:31 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
فلم اور تھیٹر اداکار سنیل شرما کا کہنا ہےکہ شو بز انڈسٹری میں شناخت قائم کرنےکی کوشش کو میں جدوجہد نہیں سمجھتا۔ فلم ’دھرندھر‘ میں کام کرنے کے اپنےتجربے کو شاندار قرار دیا۔
سنیل شرما، جو اس وقت فلم ’دُھرندھر‘ میں نظر آ رہے ہیں، تفریحی صنعت کی مسلسل بدلتی ہوئی دنیا میں ثابت قدمی کی ایک بہترین مثال ہیں۔ مدھیہ پردیش کے شہر اُجین سے تعلق رکھنے والے شرما نے اپنے کریئر کا آغاز تھیٹر سے کیا تھا، جہاں انہوں نے ممبئی سمیت مختلف شہروں میں تجربہ کار فنکاروں کے ساتھ کام کر کے اداکاری سیکھی۔ معروف پرتھوی تھیٹر میں ان کے ابتدائی تجربے نے ان کی فنی حس کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وقت کے ساتھ شرما نے ٹیلی ویژن، تھیٹر اور فلموں پر مشتمل ایک متنوع کریئر بنایا۔ انہیں مذہبی ڈراموں جیسے’شری گنیش‘ میں بھگوان شیو کا کردار ادا کرنے پر خاصی پہچان ملی۔ روحانی اور تاریخی کرداروں کو نبھانے کی ان کی صلاحیت نے انہیں ’بھگوت‘ پر مبنی پروڈکشن میں بھگوان رام اور کرشن جیسے کردار ادا کرنے کا موقع بھی دیا۔ ارون گوول، پونیت اِسر اور بندو دارا سنگھ جیسے معروف فنکاروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے، شرما نے اپنی ایک منفرد پہچان بنائی۔ انہوں نے ہندی فلموں میں کام کرنے سے پہلے جنوبی ہند کی انڈسٹری میں کام کیا ہے۔ وہ تیلگو انڈسٹری کے معروف فنکاروں کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔ نمائندہ انقلاب نے ان سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیاجارہا ہے:
فلم ’دُھرندھر‘ میں کس طرح موقع ملا؟
ج:ایک اداکارہونے کے ناطے ہمیں مختلف پروڈکشن ہاؤس میں جانا ہوتاہے۔ میں بھی مکیش چھابڑا کے یہاں گیا تھا جہاں ایک کیریکٹر کیلئے انہوں نے میرا لُک ٹیسٹ لیا۔ یہ ٹیسٹ دینے کے بعد میں اُجین چلا گیا۔ ایک ماہ گزرنے کے بعد جب میں مکیش چھابڑا کے دفتر دوبارہ گیا تو ان کے اسسٹنٹ پنکج روتیلا نے کہاکہ وہ رول تو چلا گیا۔ اُس وقت میری داڑھی اتنی بڑھی ہوئی نہیں تھی۔ مکیش چھابڑا وہیں تھے، انہوں نے کہاکہ دوسرے کیریکٹر کیلئے ان کا لُک ٹیسٹ لو۔ دوسرا لُک ٹیسٹ اچھا رہا، اسلئے وہ رول مجھے مل گیا۔ اُس وقت میں جنوبی ہند کی فلم ’روز گارڈن‘ میں کام کررہا تھا۔ میں نے اپنے ویڈیوز ان کو بھیجے، تو وہ بھی ان کو پسند آئے۔ مکیش چھابڑا نے کہاکہ آپ فلم کیلئے فائنل ہوگئے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کس کی فلم ہے اور ہدایتکار کون ہے تو انہوں نے بتایا کہ آدتیہ دھر کی فلم ہے اوراس میں سبھی بڑے اداکار ہیں۔ میں نے مکیش چھابڑا سے کہا کہ مجھے یہ فلم اب ہرحال میں کرنی ہے۔ خیرپروڈکشن ہاؤس سےساری چیزیں مثبت انداز انجام پائیں اور میں اس کامیاب فلم کا حصہ بنا۔
کیاآ پ کو یادیگر ساتھیوں کو یقین تھا کہ یہ فلم اتنی کامیاب ہوگی؟
ج:فلم کےسیٹ پر جانے کے بعد دیکھا کہ سبھی لوگ پٹھانی میں نظرآرہے ہیں۔ اس وقت اتنا اندازہ نہیں ہوالیکن جب شوٹنگ شروع ہوئی اور پتہ چلا کہ آدتیہ دھر’اُڑی ‘ کے ۵؍سال بعد کوئی فلم بنا رہے ہیں تو زبردست فلم بنارہےہیں۔ ان کی کاسٹ کو دیکھ کر سمجھ آگیا تھا کہ یہ فلم بہت بڑی ثابت ہونے والی تھی کیونکہ وہ اس فلم کو بنانے کیلئے بہت زیادہ وقت لے رہےتھے۔ میں نے شوٹنگ کے دوران بہت اچھے سے کام کیا اور تقریباً ۳۵؍دنوں تک سبھی اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔ میرے لئے دلچسپ بات یہ تھی کہ جو کردار ابتدا میں صرف ۶؍ سے ۷؍ دن کا تھا، وہ بڑھ کر تقریباً ۳۵؍ دن کا ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: آئی پی ایل میرے بجٹ سے باہر تھا: ابھیشیک بچن
آپ نے جنوبی ہندمیں بھی کام کیا ہے، اس کا تجربہ کیسا رہا ہے؟
ج:میرے کریئر کا ایک اہم موڑ جنوبی ہندکی فلم انڈسٹری، خاص طور پر تیلگو سنیما میں کام کرنے سے آیا۔ میں نے وہاں کئی بڑے ناموں کے ساتھ کام کیا ہے۔ اس کےساتھ ہی میں نے ’گوتمی پتر ساتکر‘جیسی فلموں میں کام کیا تھا، جس میں میں ہیرو تھا۔ میں بالاکرشنا جیسے لیجنڈری فنکاروں سے وابستہ پروجیکٹس کا بھی حصہ رہا۔ میں نے ’ہیڈ کانسٹیبل وینکٹ راویا‘نامی فلم میں منفی کردار بھی ادا کیاہے۔ مجھے ’سندراکانڈہ ‘ اور’رادھا گوپالم‘ نامی تیلگو فلموں سے بھی اچھی خاصی پہچان ملی ہے۔ میری سب سے زیادہ پسند کی جانے والی فلم’تتھا گت بدھ ‘ ہے جس میں نے بدھ کا کرداراداکیا تھا، اس کی وجہ سے مجھے بہت شہرت ملی تھی۔ اس فلم میں میرے کام کی بہت زیادہ پزیرائی ہوئی تھی۔
جنوبی ہند اور ہندی فلم انڈسٹری میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
ج:جنوبی ہند اور ہندی فلم دونوں فلمی صنعتوں میں کام کرنے کے بعدمجھے کافی تجربہ ملا ہے۔ میں نے دونوں جگہ چند اہم فرق بھی دیکھے ہیں۔ میرے خیال میں جنوبی ہندوستانی سنیما میں بڑے پیمانے کی کہانیوں پر زور دیا جاتا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی نظم و ضبط اور باوقار ورک کلچر بھی برقرار رکھا جاتا ہے۔ میں نے رجنی کانت اور امیتابھ بچن جیسے لیجنڈز کے ساتھ بھی کام کیاہے۔ ان کے ساتھ کام کرنے کے تجربات نے بھی میرے پیشہ ورانہ رویے کوتصور کو متاثر کیا۔
سنا ہے کہ آپ کو کورونا کے دوران کافی دقتیں پیش آئی تھیں؟
ج: کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن لگا تو میں اُجین چلا گیا اور وہاں لاک ڈاؤن ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ اُن دنوں کوئی پیشکش نہیں آرہی تھی، اسلئےمیں نے اپنا خاندانی کاروبار سنبھال لیا تھا۔ اس دوران انڈسٹری کے اُصول بھی بدل گئے تھے اور آڈیشن دینے کیلئے آفس جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ میں نے بھی خود کو وقت کے ساتھ ڈھال لیا اور اپنے ویڈیو ز بناکر پروڈکشن ہاؤسیز کو بھیجنا شروع کردیا۔ اس طرح میں نے چیلنجز کا سامنا کیا اور خود کو نئے روپ میں ڈھال لیا۔ اُن دنوں میں جب بھی ممبئی آتا تو دو چار پروڈکشن ہاؤس کے چکر ضرور لگالیا کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: رنویر اور شاہ رخ نے وہ کارنامہ انجام دیا جو سلمان عید کے موقع پر انجام نہیں دے سکے
انڈسٹری میں شناخت قائم کرنے کیلئے کتنی جدوجہد کرنی پڑی؟
ج:میں اپنی کوشش کو جدوجہد تو نہیں کہوں گا کیونکہ میں اپنی پسند کے رول کیلئے نہیں بھاگ رہا تھا۔ میں نے یہ طے کیا تھا کہ مجھے ایکٹنگ کرنی ہے اور وہ میں کرکے رہوں گا۔ اس کے بعد میں کام پانے کی کوشش کرتا رہا۔ کووڈ کے وقت تھوڑی پریشانی ضرور ہوئی تھی کیونکہ میں نے شروعات تیلگو سے کی تھی۔ اُن ۵؍ برسوں میں بہت ساری چیزیں بدل گئی تھیں۔ بہرحال میں نے اپنی کوشش کے ذریعہ وہ تمام روابط دوبارہ قائم کئے۔
اداکاری کے شعبے میں آپ نے کس طرح قدم رکھا تھا؟
ج:میں نے اُجین ہی سے تھیٹر کرنا شروع کردیا تھا۔ وہاں مقامی سطح پر بہت اچھے تھیٹرس گروپ ہیں جو مختلف شہروں کا دورہ بھی کرتے رہتے تھے۔ جب ممبئی آیا تو میں نے یہاں ورکشاپس میں شرکت کی تھی۔ ورکشاپس میں شرکت کرنے کا واحد مقصد یہ تھا کہ خود کو اداکار ی کی دنیا میں اپ ڈیٹ رکھوں کیونکہ اداکاری کی سب کی اپنی اپنی تھیوری ہوتی ہے لیکن میرا ماننا ہے کہ تھیوری کچھ بھی ہو جو چیزکیمرے کے سامنے ہوتی ہے، وہی حتمی ہوتی ہے۔
فلم ’دُھرندھر‘ میں کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا؟
ج: فلم ’دُھرندھر‘میں کام کرنے کا تجربہ شاندار تھا کیونکہ سبھی بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اکشے کھنہ کے ساتھ کام کرنے کا طریقہ سمجھ آیا۔ وہ کیمرے کے سامنے اتنے بہتر انداز میں اداکاری کس طرح کرتے ہیں، یہ بات سمجھ میں آگئی۔ اپنی حصے کی شوٹنگ کرنے کے بعد وہ خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھ جاتے اور بہت ہی پُر سکون رہتے تھے۔ کسی سے زیادہ بات چیت نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح رنویر سنگھ بھی بہت انکساری سے ملتے تھے۔ وہ اپنا پن ظاہر کرتے تھے۔ ایک ایکشن شاٹ کے دوران انہیں چوٹ لگ گئی تھی لیکن وہ اسے بھول کر فوراً شوٹنگ میں مصروف ہوگئے تھے۔ بہرحال ایسی اسٹار کاسٹ کے ساتھ کام کرکے بہت مزہ آیا۔
اس کی کامیابی کے بعد آپ اورکس پروجیکٹ میں مصروف ہیں؟
ج: میں مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئےبہت خوش ہوں۔ میں اپنے آنے والے پروجیکٹس کیلئے بہت پرجوش ہوں۔ ان میں کشمیر کے پس منظر میں بننے والی تیلگو فلم ’روز گارڈن‘ ہے۔ یہ فلم جلد ہی ریلیز ہونے والی تھی لیکن فلم ’دُھرندھر‘ کی وجہ سے اس ریلیز ملتوی کردی گئی۔ میں ایس ایس راجامولی اور سندیپ ریڈی وانگا جیسے معروف ہدایتکاروں کے ساتھ کام کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہوں۔ میں نئے اداکاروں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کامیابی کیلئے محنت، لگن اور قربانی ضروری ہے۔ نوجوانوں کیلئے میرا مشورہ ہےکہ وہ اپنے فن کے ساتھ ایماندار رہیں اور ہر موقع کو جذبے اور حوصلے کے ساتھ قبول کریں۔