چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) کے لیے آئی پی ایل۲۰۲۵ء کا سیزن انتہائی مایوس کن رہا تھا، جہاں ۱۴؍ میں سے صرف چار میچوں میں جیت کے نتیجے میں ٹیم پہلی بار پوائنٹس ٹیبل میں سب سے آخری نمبر پر رہی۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 8:04 PM IST | Chennai
چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) کے لیے آئی پی ایل۲۰۲۵ء کا سیزن انتہائی مایوس کن رہا تھا، جہاں ۱۴؍ میں سے صرف چار میچوں میں جیت کے نتیجے میں ٹیم پہلی بار پوائنٹس ٹیبل میں سب سے آخری نمبر پر رہی۔
چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) کے لیے آئی پی ایل۲۰۲۵ء کا سیزن انتہائی مایوس کن رہا تھا، جہاں ۱۴؍ میں سے صرف چار میچوں میں جیت کے نتیجے میں ٹیم پہلی بار پوائنٹس ٹیبل میں سب سے آخری نمبر پر رہی۔ اپنی تاریخ میں پہلی بار، دس بار فائنل کھیلنے والی یہ ٹیم لگاتار دو سیزن تک پلے آف میں جگہ بنانے میں ناکام رہی ہے۔ اگرچہ گزشتہ سیزن کے آخر میں آیوش مہاترے اور ڈیوالڈ بریوس کی شاندار بلے بازی نے مستقبل کے لیے امیدیں جگائی ہیں، اور اب سنجو سیمسن اور رتوراج گائیکواڈ کی موجودگی سے ٹاپ آرڈر کو استحکام ملا ہے، لیکن مڈل آرڈر میں اعتماد کی کمی اب بھی ۲۰۲۴ء اور ۲۰۲۵ء جیسی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
Superfans, are you ready? 🤩
— Chennai Super Kings (@ChennaiIPL) March 26, 2026
This summer, all you need is Yellove and #WhistlePodu for the Super Kings! 💛🥳#IPL2026 pic.twitter.com/FpUKEAu31X
روایتی طور پر تجربہ کار کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنے والی سی ایس کے نے دسمبر میں ہونے والی منی نیلامی میں نوجوان ہندوستانی بلے بازوں پر بڑا داؤ کھیلا۔ ٹیم نے ان کیپڈ کھلاڑیوں کارتک شرما (وکٹ کیپر) اور پرشانت ویر (آل راؤنڈر) کو۲ء۱۴؍ کروڑ روپے فی کھلاڑی کی بھاری رقم دے کر حاصل کیا۔ چھکے لگانے کی صلاحیت کے لیے مشہور ان دونوں کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر ۲۱؍ ٹی ۲۰؍ میچوں میں صرف۱۸؍ اننگز کھیلی ہیں، جہاں کارتک شرما (اسٹرائیک ریٹ۹۲ء۱۶۲ ) نے ۱۶؍چوکوں کے مقابلے میں ۲۸؍ چھکے لگائے ہیں، یعنی وہ اوسطاً ہر ساتویں گیند پر چھکا لگاتے ہیں۔ ان دونوں یا کسی ایک کی پلیئنگ الیون میں شمولیت شیوم دوبے کے کردار اور اپروچ کا تعین کرے گی، جو آئی پی ایل ۲۰۲۵ء میں ہندوستان کے لیے ان کی حالیہ کارکردگی کے بالکل برعکس تھی۔
یہ بھی پڑھئے:سیمسن کی کہانی اور دھونی کی عدم موجودگی؛ آر آر اور سی ایس کے میچ کا رخ طے کرے گی
شیوم دوبے ایک جدید ٹی ۲۰؍ ٹیم کے لیے دو اہم ترین خصوصیات رکھتے ہیں: درمیانی اوورز میں اسپنرز کے خلاف جارحانہ بلے بازی اور آخری لمحات میں میچ پر اثر انداز ہونا۔ انہوں نے گزشتہ چند برسوں میں ہندوستانی جرسی میں ان دونوں کرداروں کو بخوبی نبھایا ہے، جس کی بہترین مثال رواں ماہ ہونے والے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل اور فائنل کی اننگز ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل میرے بجٹ سے باہر تھا: ابھیشیک بچن
تاہم، سی ایس کے کے لیے گزشتہ سال ان کی کارکردگی گراف نیچے گرا۔ ۲۰۲۲ء سے۲۰۲۴ء کے درمیان آئی پی ایل میں ان کا اسٹرائیک ریٹ۶۱ء۱۵۹؍ تھا، جو ۲۰۲۵ء میں کم ہو کر۲۲ء۱۳۲؍ رہ گیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسپن کے خلاف ان کا اسٹرائیک ریٹ، جو ۲۰۲۳ء کے کامیاب سیزن میں ۴۷ء۱۷۶؍ تھا،۲۰۲۵ء میں صرف ۸ء۱۱۸؍رہ گیا۔ یہ اعداد و شمار ان کی تکنیکی خامیوں کے بجائے دوسرے اینڈ پر بلے بازوں کے عدم استحکام کی وجہ سے ان کی اپنی اپروچ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ تھے۔ گزشتہ دو سیزنز کے مقابلے میں وہ اسٹرائیک روٹیٹ کرنے پر زیادہ توجہ دیتے نظر آئے اور ان کے جارحانہ شاٹس کے تناسب میں کمی آئی۔ ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴ء میں وہ ہر پانچویں گیند پر باؤنڈری لگاتے تھے (۱۴ء۲۱؍ فیصد)، لیکن ۲۰۲۵ء میں یہ اوسط ہر آٹھویں گیند ( ۹۶ء۱۱؍فیصد) تک پہنچ گئی۔