روس نے یکم اپریل سے پیٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی توانائی منڈی میں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 29, 2026, 7:06 PM IST | Moscow
روس نے یکم اپریل سے پیٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی توانائی منڈی میں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
روس نے یکم اپریل سے پیٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی توانائی منڈی میں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پابندی ابتدائی طور پر ۳۱؍جولائی ۲۰۲۶ ءتک نافذ رہنے کا امکان ہے، اس فیصلے سے وہ ممالک زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جو روسی ریفائنڈ پیٹرول پر انحصار کرتے ہیں، جن میں چین، ترکی، برازیل اور افریقہ کے کئی ممالک شامل ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث روس نے اپنے بفر اسٹاک کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اس اقدام کا مقصد ملکی ضروریات کو ترجیح دینا اور عوام و صنعتوں کو سستے ایندھن کی فراہمی یقینی بنانا ہے تاکہ مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے:سیمسن کی کہانی اور دھونی کی عدم موجودگی؛ آر آر اور سی ایس کے میچ کا رخ طے کرے گی
روس کے نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک کے مطابق یہ فیصلہ خاص طور پر گھریلو صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، ملک میں زرعی سیزن اور ریفائنریز کی طے شدہ دیکھ بھال کے دوران پیٹرول کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کے باعث برآمدات محدود کرنا ضروری سمجھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل میرے بجٹ سے باہر تھا: ابھیشیک بچن
واضح رہے کہ روس دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی برآمدی پالیسی میں تبدیلی کا براہ راست اثر عالمی منڈی پر پڑتا ہے، اس پابندی کا اطلاق یوریشین اکنامک یونین کے رکن ممالک اور ان ممالک پر نہیں ہو گا جن کے ساتھ روس کے خصوصی معاہدے موجود ہیں۔