Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر بی آئی نے یکم اپریل سے ’ٹو فیکٹر‘ تصدیق لازمی قرار دیا

Updated: March 29, 2026, 8:04 PM IST | Mumbai

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے یکم اپریل ۲۰۲۶ء سے دو عنصری یا ٹو فیکٹر تصدیق کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس سےیو پی آئی اور کارڈ کی ادائیگی پہلے سے زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔

RBI Office.Photo:INN
آربی آئی کا دفتر۔ تصویر:آئی این این

 ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے یکم اپریل ۲۰۲۶ء سے دو عنصری یا ٹو فیکٹر تصدیق کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس سےیو پی آئی  اور کارڈ کی ادائیگی پہلے سے زیادہ محفوظ ہو جائے گی۔مرکزی بینک نے تمام ڈجیٹل ادائیگیوں بشمول یو پی آئی، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز  اور موبائل والیٹس کے لیے دو عنصری تصدیق کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لین دین مکمل کرنے کے لیے صرف او ٹی پی  کافی نہیں ہوگا۔ صارفین کو اب تصدیق کی کم از کم دو پرتوں کے ساتھ ایک او ٹی پی  درج کرنے کی ضرورت ہوگی، جیسے کہ پی آئی این (پن)، پاس ورڈ، بائیو میٹرک تصدیق، یا ٹوکن۔
یہ اقدام آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے کیسز کی روشنی میں سامنے آیا ہے، بشمول فشنگ اور سم سویپ اسکیمز، جہاں  او ٹی پی پر مبنی سسٹمز غیر محفوظ ثابت ہوئے ہیں۔ سیکوریٹی کی ایک اضافی تہہ شامل کرکے،آر بی آئی  کا مقصد غیر مجاز لین دین کے امکانات کو کم کرنا اور ڈجیٹل ادائیگی کے نظام پر اعتماد بڑھانا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ادائیگی کی تکمیل کا وقت تھوڑا طویل ہو سکتا ہے، خاص طور پر نئے آلات یا زیادہ قیمت والے لین دین کے لیے۔ تاہم، بھروسہ مند آلات پر معمول کے لین دین کے نسبتاً ہموار رہنے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سیمسن کی کہانی اور دھونی کی عدم موجودگی؛ آر آر اور سی ایس کے میچ کا رخ طے کرے گی


یہ نظام خطرے پر مبنی نقطہ نظر بھی اپنائے گا، جہاں  سیکوریٹی  چیک کی سطح کا انحصار لین دین کی نوعیت اور طرز عمل پر ہوگا۔نئے قوانین کا ایک اور اہم پہلو بینکوں اور ادائیگی کے پلیٹ فارمز کے لیے جوابدہی میں اضافہ ہے۔مالیاتی اداروں کو صارفین کو معاوضہ دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اگر ان کے سسٹم میں خرابی کی وجہ سے کوئی فراڈ ہوتا ہے۔ اس سے شکایات کے تیز تر حل کو یقینی بنانے اور بینکوں کو اپنے سیکوریٹی انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے کی ترغیب دینے کی امید ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل میرے بجٹ سے باہر تھا: ابھیشیک بچن


آر بی آئی نے یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ اسی طرح کی تصدیق کے معیار بین الاقوامی لین دین پر لاگو ہوں گے، بشمول سرحد پار کارڈ کی ادائیگی۔اکتوبر ۲۰۲۶ء تک ان قوانین کا مکمل نفاذ متوقع ہے۔ہندوستان میں ڈجیٹل ادائیگیوں کی تیز رفتار ترقی کو دیکھتے ہوئے، مرکزی بینک کے نئے اقدام کا مقصد سہولت اور سیکوریٹی کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اضافی تصدیق کا عمل تکلیف دہ معلوم ہو سکتا ہے، لیکن اس سے فریب دہی کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرنے اور لاکھوں صارفین کے لیے روزانہ کی لین دین کو زیادہ محفوظ بنانے کی امید ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK