سنی دیول اپنی اداکاری سے شائقین کے دلوں میں خاص مقام بنانے میں کامیاب رہے

Updated: October 19, 2021, 12:26 PM IST | Agency | Mumbai

سنی نے ۱۹۸۳ء میں اپنے کریئر کی شروعات اپنے والد کی بنائی فلم بے تاب سے کی تھی جو سپر ہٹ ثابت ہوئی تھی

Sunny Deol. Picture:INN
سنی دیول ۔ تصویر: آئی این این

مشہور اداکار سنی دیول کا شمار ان منتخب اداکاروں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے تقریباً تین دہائیوں سے اپنی مثبت اداکاری  سے شائقین کے دلوں میں ایک خاص مقام بنارکھا ہے۔سنی دیول  کی پیدائش ۱۹؍ اکتوبر ۱۹۵۶ء کوسہنیوال،پنجاب کے ایک گاؤں میں ہوئی تھی۔ اداکاری کا ہنر انہیں وارثت میں ملا۔ گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ سے سنی دیول اکثر اپنے والد دھرمیندر کے ساتھ شوٹنگ  دیکھنے جایا کرتے تھے، اس وجہ سے ان کا بھی رجحان  فلموں کی جانب ہوگیا اور وہ بھی اداکار بننے کا خواب دیکھنے لگے۔
 سنی نے اپنی ابتدائی تعلیم ممبئی سے مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے انگلینڈ کے مشہور اولڈ بوائے تھیٹر میں اداکاری کی تعلیم حاصل کی۔سنی نے اپنے کریئر کی شروعات اپنے والد کی بنائی فلم بے تاب سے کی تھی۔۱۹۸۳ءمیں راہل رویل کی ہدایت میں بنی یہ فلم سپر ہٹ  ثابت ہوئی  تھی۔ فلم بے تاب کی کامیابی کے بعد سنی دیول کو سوہنی مہیوال، منزل منزل، سنی جیسی فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا لیکن ان میں سے کوئی فلم ٹکٹ کھڑکی پر کامیاب نہیں ہوسکی۔۱۹۸۵ء  میں سنی دیول کو ایک بار پھر سے راہل رویل کی ہدایت میں بنی فلم’ارجن‘میں کام کرنے کا موقع ملا جو ان کے کریئر کی ایک اور سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم میں سنی نے ایک ایسے نوجوان کا کردار ادا کیا جو سیاست کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔ فلم کی کامیابی کے ساتھ ہی سنی دیول ایک بار پھر سے فلم انڈسٹری میں اپنی کھوئی ہوئی شناخت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ فلم ارجن کی کامیابی کے بعد سنی کی شبیہ اینگری ینگ مین اسٹار کے طورپر بن گئی۔اس فلم کے بعد پروڈیوسر، ہدایت کاروں نے زیادہ فلموں میں سنی دیول کی اسی شبیہ کو پیش کیا۔ان فلموں میں سلطنت،ڈکیت، یتیم، انتقام، پال کی دنیا جیسی فلمیں شامل ہیں۔ ۱۹۹۰ء  میں ریلیز ہوئی فلم  ’گھائل‘ سنی کے کریئر کی اہم فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔فلم میں اپنی بہترین اداکاری  کے لئے سنی دیول کو بہترین اداکار کے طوپر فلم فیئر کے ایوارڈ کے ساتھ ہی قومی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔۱۹۹۱ ءمیں ریلیز ہوئی فلم ’نرسمہا‘سنی کے کرئیر کی سپرہٹ فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ این چندرا کی ہدایت میں بنی اس فلم میں سنی دیول کا کردار پوری طرح گرے شیڈ لئے ہوئے تھا باوجود اس کے ان کی اداکاری شائقین کو پسند آئی اور فلم سپر ہٹ ہو گئی۔ ۱۹۹۳ء کی فلم ’دامنی‘سنی کے فلمی کریئر کی ایک اور اہم فلم ثابت ہوئی۔یوں تو یہ پوری فلم مین اکشی ششادری کے ارد گرد گھومتی ہے لیکن سنی نے اپنی بہترین اداکاری سے شائقین کا دل جیت لیا۔ اس فلم کےلئے وہ بہترین اداکار کے قومی ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ سے نوازے گئے۔ ۱۹۹۳ء سے۱۹۹۶ء کے دوران سنی کی کئی فلمیں جلوہ گر ہوئیں لیکن کامیاب نہیں ہوسکیں۔ ۱۹۹۷ء  میں ریلیز  ہوئی فلم ’’بارڈر‘‘اور ’ضدی‘ کی کامیابی کے بعد سنی ایک بار پھراپنی موجودگی درج کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ بارڈر میں انہوں نے  مہاویر چکر پانے والے میجر کلدیپ سنگھ کے کردارمیں جان ڈال دی تھی۔ ۱۹۹۹ءمیں سنی دیول  نے فلم ’دل لگی‘ کے ذریعہ فلم سازی اور ہدایت کاری کے میدان میں قدم رکھا۔۲۰۰۱ء  میں ریلیز ہوئی فلم’غدر ایک پریم کتھا‘ان کے فلمی کریئر کی بہتر فلم ثابت ہوئی۔ حب الوطنی کے جذبے  سے بھرپور یہ فلم شائقین کو بے حد پسند آئی۔ ساتھ ہی یہ فلم آل ٹائم ہٹ فلموں میں شمار کی گئی۔ سنی نے اپنے کریئر  میں اب تک۹۰؍ فلموں میں اداکاری کی ہے۔ سنی آج بھی اسی جوش و خروش کے ساتھ فلم انڈسٹری میں سرگرم ہیں۔سنی کی پچھلی فلم گھائل ونس اگین ریلیز ہوئی ۔اور اب پوسٹر بائیز ریلیز ہوئی ہے۔ سنی نے  اپنے بیٹے کرن دیول کو لے کر فلم ’پل پل دل کے پاس‘ بنائی جو کوئی کمال نہیں دکھاسکی۔انہوں نے۲۳؍ اپریل۲۰۱۹ء کو بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور۲۰۱۹ء کے عام انتخابات میں گرداس پور لوک سبھا حلقہ سے الیکشن میں حصہ لیا  تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK