Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہم ورلڈ کپ کا نہیں، امریکہ کا بائیکاٹ کریں گے: ایران

Updated: March 19, 2026, 11:58 AM IST | Tehran

ایران نے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے بائیکاٹ کی دھمکی واپس لے لی ہے، لیکن امریکہ میں میچ نہ کھیلنے کے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ ایران کے فٹبال چیف مہدی تاج نے کہا کہ ٹیم ٹورنامنٹ کی تیاری جاری رکھے گی۔

Iranian Football Team.Photo:INN
ایران کی فٹبال ٹیم۔ تصویر:آئی این این

ایران نے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے بائیکاٹ کی دھمکی واپس لے لی ہے، لیکن امریکہ میں میچ نہ کھیلنے کے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ ایران کے فٹبال چیف مہدی تاج نے کہا کہ ٹیم ٹورنامنٹ کی تیاری جاری رکھے گی، چاہے مردوں کی ٹیم امریکہ میں اپنے میچ نہ کھیلے۔
فٹبال ورلڈ کپ ۱۱؍ جون سے ۱۹؍ جولائی تک امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں کھیلا جانا ہے۔ فروری کے آخر میں امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے بعد ایران کی ٹیم کی  سیکوریٹی اور میچوں کے مقام کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ اسی لیے ایران نے امریکہ میں ورلڈ کپ کے دوران اپنے مجوزہ میچ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والی ابتدائی ٹیموں میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے:امریکہ کے فیڈرل ریزرو نے ریپو شرح برقرار رکھی، مہنگائی پر تشویش برقرار


فارس نیوز ایجنسی کے حوالے سے مہدی تاج نے کہا، ’’قومی ٹیم ترکی میں ٹریننگ کیمپ لگائے گی اور وہاں دو دوستانہ میچ کھیلے گی۔ ہم امریکہ کا بائیکاٹ کریں گے، لیکن ورلڈ کپ کا نہیں۔‘‘ تاج کا یہ بیان ایران کے وزیر کھیل احمد دونیامالی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران ورلڈ کپ میں حصہ نہیں لے گا۔ ایران کی مردوں کی ٹیم کو جون میں امریکہ میں بیلجیم، مصر اور نیوزی لینڈ کے ساتھ میچ کھیلنے ہیں۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے ایران کے امریکہ میں ورلڈ کپ میچوں کے بائیکاٹ پر کہا کہ آخری فیصلہ فیفا کے ہاتھ میں ہے۔ فیفا نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ ایران فٹبال فیڈریشن کے رابطے میں ہے اور چاہتا ہے کہ تمام ٹیمیں اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق ٹورنامنٹ میں حصہ لیں۔

یہ بھی پڑھئے:ارجنٹائنا باضابطہ طور پر ڈبلیو ایچ او سے علاحدہ


ایران نے یہ فیصلہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے مسلسل حملوں اور بلاجواز جنگ چھیڑنے کی وجہ سے کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ فیفا ایران کے لیے ورلڈ کپ کے میچ امریکہ سے ہٹا کر کسی اور مقام پر منتقل کرتا ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK