• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سپریم کورٹ: غیر ادا شدہ ای چالان کی وصولی کیلئے بجلی بل سے جوڑنے کی تجویز

Updated: September 29, 2026, 9:05 AM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے غیر ادا شدہ ای چالانوں کی رقم وصول کرنے کیلئے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بجلی کے بلوں سے جرمانہ جوڑنے سمیت کئی عملی اقدامات پر غور کرنے کی تجویز دی ہے۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے وی وشوناتھن کی بنچ نے گاڑیوں سے متعلق خدمات پر پابندی، رینڈم چیکنگ اور بقایا چالان والی گاڑیوں کو بلیک لسٹ کرنے جیسے اقدامات پر بھی زور دیا۔

File photo.
فائل فوٹو۔

سپریم کورٹ نے ٹریفک چالان سے جُڑے ایک معاملے کی سماعت کرتے ہوئے غیر ادا شدہ ای چالان سے متعلق کئی تجاویز دیں ۔ عدالت نے ریاستوں اور یونین ٹیریٹریزکو یہ تجویز دی ہے کہ وہ غیر ادا شدہ ٹریفک چالانوں کی رقم کو بجلی کے بلوں سے جوڑنے پر غور کریں تاکہ بقایا جرمانے وصول کئےجا سکیں۔ یہ بات جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے وی وشوناتھن پر مشتمل بنچ نے یہ بات ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے الیکٹرانک نفاذ اور غیر ادا شدہ ای چالانوں کی وصولی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران کہی ہے۔ جسٹس پاردی والا نے کہا کہ صرف ای چالان جاری کرتے رہنا کافی نہیں ہے، پولیس لاکھوں چالان کاٹ سکتی ہے، لیکن اصل سوال ان چالانوں سے عائد کردہ جرمانے کی وصولی کا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ حکام کو ای چالان کے بقایا جرمانے سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ حکام کو ای چالان کے بقایا جرمانے وصول کرنے کیلئےعملی راستے تلاش کرنے ہوں گے، جن میں گاڑیوں سے متعلق خدمات پر پابندی لگانا اور سڑکوں پر رینڈم چیکنگ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اشوک لواسا کا الیکشن کمیشن سے حقائق سامنے لانے اور ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ

عدالت نے مشورہ دیا کہ اگر لوگ ٹریفک چالان جمع نہیں کر رہے ہیں تو اس رقم کو ان کے بجلی کے بل میں شامل کر دیا جائے۔ اس طرح لوگ بجلی کا بل بھرنے پر مجبور ہوں گے، ورنہ ان کا بجلی کا کنکشن کاٹ دیا جائے گا۔ عدالت نے کہا،’’اس کا کوئی حل نکالیں، اس ملک میں آپ کو کام کروانے کا طریقہ تلاش کرنا پڑے گا۔‘‘ عدالت کو بتایا گیا کہ ریاستوں اور یونین ٹیریٹری کو ای-چالانوں کی مد میں تقریباً ۴۵؍ ہزار کروڑ روپے وصول کرنے ہیں، جن میں سے اب تک صرف ۲۵؍ ہزار کروڑ روپے کے قریب رقم ہی وصول ہو سکی ہے۔ اس پس منظر میں عدالت نے جرمانے کی وصولی یقینی بنانے کیلئے کئی اہم اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ ان اقدامات میں یہ بات شامل تھی کہ جب تک تمام بقایا چالان جمع نہ کرائے جائیں، گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (آرسی)کی تجدید، ڈپلیکیٹ سرٹیفکیٹ کا اجراء اور مالکانہ حقوق یعنی ملکیت کی تبدیلی پر روک لگائی جائے۔ اس کے علاوہ غیر ادا شدہ چالانوں والی گاڑیوں کو پریوہن پورٹل پر بلیک لسٹ کرنے اور ان کی خریدو فروخت یا ٹرانسفر کو روکنے کی تجویز دی گئی۔ ساتھ ہی ایسی گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ اور آلودگی کنٹرول (پی یو سی) سرٹیفکیٹ جاری نہ کرنے، ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید پر پابندی لگانے اور پہلے سے فعال لائسنسوں کو معطل کرنے کیلئے قدم اٹھانے پر بھی بحث کی گئی۔

جسٹس پاردی والا نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام اقدامات صرف کاغذوں پر نہیں بلکہ زمینی سطح پر اور واقعی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نافذ ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ، عدالت نے گاڑیوں کی اچانک چیکنگ کی بھی تجویز دی تاکہ ان گاڑیوں کی نشاندہی کی جا سکے جن پر ای چالان التواء میں ہیں۔ عدالت نے کہا کہ گاڑیوں کی رینڈم چیکنگ کی جائےاور اگر یہ پایا گیا کہ ای چالان جمع نہیں کیا گیا ہے، تو خود گاڑی کو تحویل میں لینے کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں۔ یہ تجاویز موٹر وہیکلز ایکٹ ۱۹۸۸؍ کی دفعہ ۱۳۶؍ (اے)اور سینٹرل موٹر وہیکلز رولز ۱۹۸۹؍ کے رول ۱۶۷؍ (اے)کے تحت الیکٹرانک طریقے سے قوانین لاگو کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران سامنے آئیں۔ یہ درخواست سڑک کی حفاظت کے حوالے سے ۲۰۱۲؍ میں کوئمبتور کے ایک آرتھوپیڈک سرجن ایس راجا سیکرن کی جانب سے دائر کی گئی ایک طویل مدتی مفاد عامہ (پی آئی ایل ) کا حصہ ہے۔ اس عرضی کا مقصد سڑک حادثات کو کم کرنا، بنیادی ڈھانچے میں سدھار لانا اور حادثے کے بعد کے علاج کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جغرافیائی سیاسی بحرانوں کے باوجود ہندوستان نے توانائی کی فراہمی برقرار رکھی: ہردیپ پوری

واضح ہو کہ گزشتہ کئی سالوں کے دوران، عدالت نے سڑک کی حفاظت سے متعلق کئی اہم ہدایات دی ہیں۔ اگست ۲۰۲۵ء میں عدالت نے کہا تھا کہ وہ سڑک حادثات کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی میں آسانی کیلئے آن لائن پورٹل بنانے کے حوالے سے ہدایات جاری کرنے پر غور کرے گی۔ اس کے بعد اکتوبر ۲۰۲۵ء میں عدالت نے تمام ریاستوں اور یونین ٹیریٹری کو ہدایت دی تھی کہ وہ پیدل چلنے والوں کی حفاظت کیلئے قوانین بنائیں اور سڑکوں پر سائیکل اور ہاتھ گاڑیوں جیسی بغیر موٹر کی گاڑیوں کی آمدورفت کو منظم کریں۔ بعد ازاں مئی ۲۰۲۶ء میں عدالت نے ریاستوں کو سینٹرل موٹر وہیکلز رولز ۱۹۸۹؍ کے رول ۱۲۵؍ (ایچ)پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی، جس کے تحت پبلک سروس گاڑیوں میں وہیکل لوکیشن ٹریکنگ ڈیوائس (وی ایل ٹی ڈی ) اور ایمرجنسی یا پینک بٹن لگانا لازمی ہے۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ جب تک یہ ڈیوائسیز نہ لگی ہوں، کسی بھی پبلک سروس گاڑی کو فٹنس سرٹیفکیٹ یا پرمٹ نہ دیا جائےاور موجودہ گاڑیوں میں بھی ان کو نصب کر کے واہن ڈیٹا بیس سے جوڑا جائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر تشویش اور برہمی کا اظہار کیا کہ آیا پچھلے ۱۴؍ سالوں میں اس کی دی گئی ہدایات کا زمینی سطح پر کوئی نتیجہ نکل بھی رہا ہے یا نہیں۔ عدالت نے کہا، ’’ہم سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال سے جاننا چاہتے ہیں کہ زمینی سطح پر اصل صورتحال کیا ہے۔ ہم غیر معینہ مدت کیلئے ہدایات جاری کرتے رہیں گے، لیکن اگر ان تمام ہدایات کو صرف کاغذوں تک محدود رہنا ہے اور حکام ان پر عمل نہیں کریں گے تو ایک دن ہمیں ایسا سخت قدم اٹھانا پڑے گا جو شاید حکام کو پسند نہ آئے۔‘‘ عدالت نے گورو اگروال سے کہا کہ وہ ایک چارٹ تیار کریں جس میں اب تک جاری کی گئی تمام ہدایات، ان کے نفاذ کی مقررہ مدت، موجودہ صورتحال اور اپنے اہم مشاہدات کو شامل کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK