Inquilab Logo Happiest Places to Work

سریش اوبرائے نے آرٹ اور کمرشل فلموں دونوں میں عمدہ کام کیا

Updated: December 16, 2025, 11:36 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہندوستانی فلمی صنعت میں کچھ فنکار ایسے ہوتے ہیں جو شور میں نہیں، خاموشی میں پہچانےجاتے ہیں۔ جو اسکرین پر کم نظر آتے ہیں مگر جب آتے ہیں تو کردار پر مہر ثبت کر دیتے ہیں۔

Suresh Oberoi focused more on his roles. Picture: INN
سریش اوبرائے نے اپنے کرداروں پر زیادہ توجہ دی۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی فلمی صنعت میں کچھ فنکار ایسے ہوتے ہیں جو شور میں نہیں، خاموشی میں پہچانےجاتے ہیں۔ جو اسکرین پر کم نظر آتے ہیں مگر جب آتے ہیں تو کردار پر مہر ثبت کر دیتے ہیں۔ سریش اوبرائے اسی قبیلے کے اداکار ہیں،نہ سپر اسٹار، نہ گلیمر کا پجاری، بلکہ کردار، وقار اور سنجیدہ اداکاری کے امین۔ان کی زندگی اور فلمی سفر دراصل اس ہندوستانی سینما کی کہانی ہےجو بازار سے نہیں، تجربے اور مشاہدے سے جنم لیتا ہے۔
سریش اوبرائے کی پیدائش۱۷؍ دسمبر۱۹۴۶ءکوپنجاب میں ہوئی۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان دہلی منتقل ہوا، جہاں ان کی پرورش ایک متوسط مگر فکری ماحول میں ہوئی۔ تعلیم کے دوران ہی ان کا رجحان تھیٹر اور ادب کی طرف ہو گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اسٹیج اداکاری کو محض شوق نہیں بلکہ فن کی باقاعدہ تربیت سمجھا جاتا تھا۔
دہلی کے تھیٹر حلقوں میں کام کرتے ہوئے سریش اوبرائے نے اداکاری کو چہرے کی خوبصورتی یا آواز کے اتار چڑھاؤ تک محدود نہیں رکھا، بلکہ کردار کی نفسیات کو سمجھنا سیکھا۔ یہی گہرا مطالعہ بعد میں ان کی فلمی اداکاری کی بنیاد بنا۔سریش اوبرائے نے فلمی دنیا میں داخلہ کسی بڑے بینر یا دھماکہ خیز کردار کے ذریعے نہیں کیا۔ ان کی ابتدا چھوٹے مگرمعنی خیز کرداروں سے ہوئی۔ ۱۹۷۰ءا ور ۱۹۸۰ءکی دہائی میں جب ہیروپر مبنی فلمیں اپنے عروج پر تھیں، اوبرائے نے سائڈ رولز، منفی کردار اور پیچیدہ انسانی صورتِ حال کو ترجیح دی۔ان کی اداکاری میں ایک خاص ٹھہراؤ تھانہ ضرورت سے زیادہ جذبات، نہ غیر فطری مکالمہ بازی۔وہ اسکرین پر بولنے سے زیادہ ہونے پر یقین رکھتے تھے۔سریش اوبرائے ان چند اداکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے مین اسٹریم اور متوازی سینما کے بیچ ایک مضبوط پل کا کام کیا۔ وہ کمرشل فلموں میں بھی نظر آئے، مگر ان کا اصل جوہر آرٹ اور سنجیدہ فلموں میں کھل کرسامنے آیا۔فلم ’مرچ مسالہ‘ (۱۹۸۷ء) میں ان کا کردار آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ وہ فلم تھی جس میں طاقت، ظلم اور خاموش مزاحمت کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا، اور اوبرائے کی اداکاری نے کہانی کو غیر معمولی وزن دیا۔اسی طرح ’تمہارے لیے‘، ’نکتہ نظر‘ اور دیگر فلموں میں ان کے کردار کسی ایک خانے میں قید نہیں کیے جا سکتے،کہیں وہ ظالم ہیں، کہیں مجبور، کہیں خاموش تماشائی۔
اگر فلموں نے سریش اوبرائے کو شناخت دی تو ٹیلی ویژن نے انہیں گھرگھرپہنچایا۔۱۹۸۰ءاور۱۹۹۰ءکی دہائی کا ہندوستانی ٹی وی سنجیدہ ڈراموں کادور تھا، اور سریش اوبرائے اس دور کے نمایاں چہروں میں سے ایک تھے۔سیریلز جیسے’پردیس‘،’آکاش گنگا‘ اور دیگر ڈراموں میں ان کی اداکاری نے ثابت کیا کہ وہ طویل بیانیے میں بھی کردار کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔ ان کے ادا کردہ کردار عام آدمی کے دکھ، تضادات اور خاموش جدوجہد کی تصویر تھے۔
سریش اوبرائے کی ذاتی زندگی بھی ان کی اداکاری کی طرح سادہ اور غیر نمایاں رہی۔ وہ شہرت کے ہنگاموں سے دور، اپنے فن اور خاندان تک محدود رہے۔ ان کے بیٹے وویک اوبرائے نے فلمی دنیا میں قدم رکھا اور ایک مختلف راستہ اختیار کیا، مگر سریش اوبرائے نے کبھی اپنی شناخت کو بیٹے کی کامیابی یا ناکامی سے جوڑنے نہیں دیا۔اگرچہ سریش اوبرائے کو بہت زیادہ ایوارڈز یا اعزازات نہیں ملے، مگر جو چیز انہیں ممتاز بناتی ہے وہ ہے سینئر اداکار کی حیثیت سے احترام۔ فلمی حلقوں میں انہیں ایک سنجیدہ، قابلِ اعتماد اور دیانت دار فنکار کے طور پر دیکھا جاتا ہےایسا اداکار جو کردار کو ادا نہیں کرتا، جیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK