Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ: ٹیم انڈیا کے چیمپئن بننے کے سفر میں یہ میچ ’ٹرننگ پوائنٹ‘ ثابت ہوا

Updated: March 09, 2026, 3:43 PM IST | Ahmedabad

ہندوستان کرکٹ ٹیم نے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا خطاب جیت لیا ہے۔ ٹیم انڈیا نے مسلسل دوسری بار اور مجموعی طور پر تیسری بار یہ ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کی ہے۔

Team India.Photo:INN
ہندوستانی ٹیم ۔تصویر:آئی این این

 ہندوستان  کرکٹ ٹیم نے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا خطاب جیت لیا ہے۔ ٹیم انڈیا نے مسلسل دوسری بار اور مجموعی طور پر تیسری بار یہ ٹائٹل جیت کر تاریخ رقم کی ہے۔ہندوستانی ٹیم کے لیے عالمی چیمپئن بننے کا سفر آسان نہیں تھا، لیکن پہلے میچ سے لے کر فائنل تک ایک ایسا میچ آیا جس نے ٹیم انڈیا کو اپنی حکمتِ عملی بدلنے پر مجبور کر دیا۔ نئی حکمتِ عملی کے ساتھ ٹیم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھری اور آخرکار چیمپئن بن گئی۔
گروپ اسٹیج میں ہندوستان ٹیم نے یو ایس اے، پاکستان، نمیبیا اور نیدرلینڈز کے خلاف کامیابی حاصل کی اور گروپ میں پہلے نمبر پر رہتے ہوئے سپر-۸؍ کے لیے کوالیفائی کیا۔ ٹیم انڈیا سپر-۸؍ میں تو پہنچ گئی تھی، مگر ٹیم میں کئی خامیاں تھیں جن پر انتظامیہ کی توجہ نہیں جا رہی تھی۔ پلیئنگ الیون میں بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کی زیادہ تعداد، اوپننگ میں ابھیشیک کا ناکام رہنا، مڈل آرڈر میں سوریہ اور تلک کا سست کھیلنا، جبکہ نچلے آرڈر میں رنکو کی مسلسل ناکامی ہندوستانی ٹیم کی بڑی کمزوری بن کر سامنے آئی۔ اکشر پٹیل کے مقابلے میں واشنگٹن سندر کو ترجیح دینا بھی ایک غلط فیصلہ ثابت ہو رہا تھا۔ان کمزوریوں کے باوجود ہندوستانی  ٹیم سپر-۸؍کے پہلے میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف میدان میں اتری۔ جنوبی افریقہ شاندار فارم میں تھا اور ہندوستان کو ۷۶؍ رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست نے ٹیم انڈیا کو اپنی خامیوں پر غور کرنے اور نئی حکمتِ عملی بنانے پر مجبور کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے:امریکہ چاہتا ہے کہ ہندوستان ۱۰۰؍ ملین بیرل روسی تیل خرید ے: رپورٹ

ہندوستانی ٹیم نے نئی حکمتِ عملی بناتے ہوئے پلیئنگ الیون میں تبدیلیاں کیں۔ ٹیم میں سنجو سیمسن کی واپسی ہوئی اور وہ ابھیشیک شرما کے ساتھ اننگز کا آغاز کرنے لگے۔ اس سے دائیں اور بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کا مضبوط کمبینیشن بن گیا۔ تیسرے نمبر پر ایشان کشن آنے لگے۔ رنکو سنگھ کو باہر کر کے تلک ورما کو نیچے بھیج دیا گیا، جبکہ واشنگٹن سندر کی جگہ اکشر پٹیل کو واپس لایا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:عالیہ بھٹ اور شروَری کی فلم ’’اَلفا‘‘ ایک بار پھر مؤخر، اب جولائی میں ریلیز ہوگی

سیمسن کی واپسی سے اوپننگ مضبوط ہوئی۔ سیمسن نے ۳۲۱؍ رنز بنا کر پلیئر آف دی سیریز کا اعزاز حاصل کیا۔ تلک ورما نچلے آرڈر میں تیزی سے کھیلنے لگے۔ اکشر نے سیمی فائنل اور فائنل میں اپنی بولنگ اور فیلڈنگ سے شاندار کارکردگی دکھائی۔ بدلی ہوئی حکمتِ عملی کے ساتھ اتری ہوئی ہندوستانی ٹیم پہلے سے زیادہ مضبوط نظر آئی اور جنوبی افریقہ کے خلاف اس شکست کے بعد کوئی میچ ہارے بغیر ورلڈ کپ جیت لیا۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK