• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تمنا بھاٹیا میسور صندل کی برانڈ ایمبیسڈر، بی جے پی کا ’اینٹی کنڑ‘ اعتراض

Updated: February 12, 2026, 5:06 PM IST | Bengaluru

جنوبی ہند کی مشہور اداکارہ تمنا بھاٹیا نے سرکاری کمپنی کرناٹک سوپس اینڈ ڈیٹرجنٹس لمیٹڈ کے تاریخی برانڈ میسور صندل سوپ کی برانڈ ایمبیسڈر کی حیثیت سے چارج سنبھال لیا ہے۔ اپوزیشن بی جے پی نے حکومت کرناٹک پر مقامی کنّڑ چہروں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے ’اینٹی کنڑ‘ قدم قرار دیا ہے جبکہ حکومت نے فیصلے کو خالصتاً کاروباری اور مارکیٹنگ حکمتِ عملی بتایا ہے۔

Tamannaah Bhatia. Photo: INN
تمنا بھاٹیا۔ تصویر: آئی این این

جنوبی ہند کی معروف اداکارہ تمنا بھاٹیا نے باضابطہ طور پر ریاستی سرکاری کمپنی کے ایس ڈی ایل کے تحت تیار ہونے والے تاریخی صابن میسور صندل سوپ کی برانڈ ایمبیسڈر کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ اعلان کے فوراً بعد سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی اور اپوزیشن جماعت بی جے پی نے اس فیصلے پر اعتراضات اٹھا دیے۔ واضح رہے کہ میسور صندل سوپ کو کرناٹک کی ثقافتی و صنعتی وراثت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ برانڈ ایک صدی سے زائد عرصے سے خالص صندل کی خوشبو اور ریاستی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اسے ریاستی حکومت کے زیرِ انتظام کمپنی کے ایس ڈی ایل تیار کرتی ہے، جو صابن، خوشبوؤں اور دیگر ذاتی نگہداشت کی مصنوعات بناتی ہے۔ تقریب کے دوران نئی مصنوعات بھی لانچ کی گئیں جن میں ذاتی اور گھریلو نگہداشت کی درجنوں اشیاء شامل ہیں۔ کمپنی حکام کے مطابق برانڈ کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر توسیع منصوبے کا حصہ ہونے کے باعث ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیا گیا جس کی ملک گیر پہچان ہو اور جس کی ڈجیٹل رسائی وسیع ہو۔

یہ بھی پڑھئے: گھوس خور پنڈت: سپریم کورٹ نے کہا آزادیٔ اظہار کسی طبقے کی توہین کا لائسنس نہیں

تاہم، بی جے پی لیڈروں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی کے بعض نمائندوں نے کہا کہ کرناٹک میں کئی مقبول کنّڑ اداکارائیں موجود ہیں جنہیں برانڈ کا چہرہ بنایا جا سکتا تھا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ریاستی شناخت سے جڑے برانڈ کے لیے مقامی چہرے کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی۔ ناقدین نے اسے ’’اینٹی کنّڑ‘‘ ذہنیت قرار دیا اور حکومت سے وضاحت طلب کی۔ حکومت کرناٹک اور متعلقہ وزیر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخاب ایک ماہر کمیٹی کی سفارش پر کیا گیا۔ حکام کے مطابق مختلف ناموں پر غور کیا گیا، مگر حتمی فیصلہ برانڈ کی مارکیٹ توسیع اور تجارتی حکمتِ عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق میسور صندل سوپ کی فروخت کا بڑا حصہ ریاست سے باہر ہوتا ہے، اس لیے قومی سطح پر پہچان رکھنے والی شخصیت کا انتخاب کاروباری ضرورت تھی۔

یہ بھی پڑھئے: راجکمار ہیرانی نے ’’منا بھائی ۳‘‘ اور ’’تھری ایڈیٹس‘‘ سیکوئل کی تصدیق کی

رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے، تاہم سرکاری سطح پر مکمل مالی تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔ اس پہلو پر بھی اپوزیشن نے سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا اتنی بڑی رقم کے معاہدے سے قبل شفافیت کے تقاضے پورے کیے گئے یا نہیں۔ دوسری جانب برانڈ کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عالمی مسابقت کے دور میں سرکاری اداروں کو بھی پیشہ ورانہ مارکیٹنگ حکمتِ عملی اپنانی پڑتی ہے۔ ان کے مطابق کسی اداکارہ کی علاقائی شناخت کے بجائے اس کی مارکیٹ ویلیو اور رسائی کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ فی الحال حکومت اپنے فیصلے پر قائم ہے جبکہ اپوزیشن اس معاملے کو عوامی سطح پر اٹھانے کا عندیہ دے رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ معاملہ محض علامتی احتجاج تک محدود رہتا ہے یا سیاسی سطح پر مزید شدت اختیار کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK