• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب: شاہ سلمان کی ملک گیر اپیل کے بعد آج نمازِ استسقاء ادا کی گئی

Updated: February 12, 2026, 5:06 PM IST | Riyadh

خادم الحرمین الشریفین سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے آج (جمعرات) کو مملکت بھر میں نمازِ استسقاء ادا کرنے کی ہدایت جاری کی۔ شاہی دیوان کے بیان کے مطابق شہریوں اور مقیم افراد سے توبہ، استغفار اور اجتماعی دعا کی اپیل کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ سے بارانِ رحمت کی دعا کی جا سکے۔

Shah Salman. Photo: INN
شاہ سلمان۔ تصویر: آئی این این

مملکت سعودی عرب کے خادم الحرمین الشریفین سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے ملک بھر میں آج نمازِ استسقاء ادا کرنے کی ہدایت جاری کی۔ شاہی دیوان کی جانب سے جاری سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام الناس اللہ تعالیٰ کے حضور رجوع کریں، توبہ و استغفار کریں اور بارش کے نزول کے لیے خصوصی دعا کریں۔ بیان کے مطابق نمازِ استسقاء سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ادا کی جاتی ہے، خصوصاً ایسے مواقع پر جب بارش میں تاخیر ہو یا خشک سالی کے آثار نمایاں ہوں۔ شاہی فرمان میں شہریوں اور مملکت میں مقیم غیر ملکیوں دونوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اس دن عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے رحمت و برکت کی دعا کریں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ سے اختلاف ، کنیڈا پر عائد محصولات ختم کرنے کا بل منظور

سعودی عرب میں نمازِ استسقاء کا اہتمام عموماً ملک کی بڑی اور چھوٹی مساجد میں اجتماعی طور پر کیا جاتا ہے۔ بالخصوص مسجد الحرام مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی مدینہ منورہ میں بڑی تعداد میں نمازی اس نماز میں شریک ہوتے ہیں۔ ائمہ کرام نماز کے بعد خطبہ دیتے ہیں اور اجتماعی دعا کی جاتی ہے جس میں بارش، رزق میں برکت اور ملک و امت کی فلاح کی التجا کی جاتی ہے۔ شاہی بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مسلمان اس موقع پر اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، گناہوں سے توبہ کریں، کثرت سے استغفار کریں اور صدقات و خیرات میں اضافہ کریں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اجتماعی دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا رحمت کے نزول کا سبب بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: حماس نے غزہ پر بین الاقوامی سرپرستی کو مسترد کر دیا

خیال رہے کہ مملکت میں حالیہ عرصے کے دوران بعض علاقوں میں بارش کی کمی اور موسمی تغیرات کے باعث پانی کے ذخائر اور زرعی سرگرمیوں پر اثرات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سعودی حکام باقاعدہ طور پر موسمیاتی صورتحال کی نگرانی کرتے ہیں، تاہم مذہبی و روحانی پہلو سے نمازِ استسقاء کو ایک اہم اجتماعی عبادت سمجھا جاتا ہے جو معاشرے میں اتحاد اور امید کو فروغ دیتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں نمازِ استسقاء کی بنیاد عہدِ نبوی ﷺ میں رکھی گئی۔ روایات کے مطابق جب مدینہ منورہ میں قحط یا بارش کی کمی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ کھلے میدان میں نماز ادا کرتے اور بارش کے لیے دعا فرماتے۔ اسی سنت کی پیروی کرتے ہوئے سعودی قیادت وقتاً فوقتاً ایسی اپیل جاری کرتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران : انقلابِ اسلامی کی ۴۷؍ویں سالگرہ منائی گئی

سعودی عرب میں اس اعلان کے بعد وزارتِ اسلامی امور اور متعلقہ حکام مساجد میں انتظامات مکمل کرتے ہیں تاکہ نماز باقاعدہ اور منظم انداز میں ادا کی جا سکے۔ شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مقررہ اوقات پر قریبی مساجد میں حاضر ہوں اور نظم و ضبط کا خیال رکھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK