Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں ہر روز یہی سوچتی ہوں کہ آج مجھے نیا اور کچھ الگ کیا کرنا ہے‘‘

Updated: July 19, 2026, 2:21 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ٹی وی، فلم اور او ٹی ٹی اداکار ہ طناز ایرانی کا کہنا ہےکہ مشہور شو’ زبان سنبھال کے‘ کے ذریعہ میں نے انڈسٹری میں قدم رکھا اور اسی ایک شو کی بدولت شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی۔

Film actress Tannaz Irani. Photo: INN
طناز ایرانی۔ تصویر: آئی این این

ٹی وی اور فلموں کی معروف اداکارہ طناز ایرانی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ انہوں نے ٹی وی اور فلم انڈسٹری میں اپنا لوہا منوالیا ہے اورآج بھی وہ انڈسٹری میں سرگرم ہیں۔ اتنے برسوں بعد بھی طناز ایرانی کو دیکھیں تو وہی’زبان سنبھال کے ‘ کی جینیفر عرف جینی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے ٹی وی پر ’زبان سنبھال کے ‘ شو اور فلموں میں راکیش روشن کی فلم ’کہو نا پیار ہے‘ سے شروعات کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بہت سی فلموں میں اہم رول ادا کئے ہیں۔ اب جلد ہی ان کی ویب سیریز بھی آنے والی ہے جس کی شوٹنگ انہوں نے مکمل کرلی ہے۔ اس شو میں وہ ایک پولیس اہلکار کے رول میں نظرآئیں گی۔ طناز ایرانی ہر طرح کے رول نبھانے میں یقین رکھتی ہیں، اس کیلئے وہ پوری محنت کرتی ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنے شوہر بختیار ایرانی کے ساتھ شارٹ ویڈیوز بھی بناتی ہیں۔ نمائندہ انقلاب نےٹی وی، فلم اور ویب شو اداکارہ طناز ایرانی سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
اس وقت آپ کیا کر رہی ہیں ؟اور کن پروجیکٹس میں مصروف ہیں ؟ اس بارے میں کچھ بتائیے؟
ج:حال ہی میں میں نے ایک او ٹی ٹی پروجیکٹ مکمل کیا ہے۔ اس پروجیکٹ کانام ’مارگاؤں فائلز‘ ہے۔ اس میں میں نے ایک کانسٹیبل کا کردار ادا کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابتدا میں مجھے صرف دو تین دن کی شوٹنگ کیلئے بلایا گیا تھا، لیکن ڈائریکٹر کو میرا کام اتنا پسند آیا کہ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ’’کیا ہم آپ کا کردار بڑھا سکتے ہیں ؟ کیا آپ پورے سیزن میں رہیں گی؟‘‘ ایک اداکار کیلئے اس سے بڑی خوشی کیا ہو سکتی ہے؟ میں نے فوراً ہاں کر دی اور پھر مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ آخر تک آخری منظر تک، میرا کردار اس سیریز کا حصہ رہا۔ 
آپ اپنی نئی سیریز کے بارے میں بھی کچھ بتائیں؟
ج:یہ سیریزویووز او ٹی ٹی پر موجود ہے، اور میرے لیے یہ کردار بہت خاص تھا۔ لوگ شاید سمجھتے تھے کہ میں صرف ایک خاص قسم کے کردار اداکر سکتی ہوں، لیکن ایک اداکار کی حیثیت سے میں جانتی ہوں کہ مختلف کردار نبھانا ہی اصل فن ہے۔ شاید انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ مجھے مراٹھی بھی آتی ہے۔ اس شو میں بہت بڑے بڑے فنکار شامل ہیں۔ یہ خواتین پر مبنی ایک اچھا شو ہے۔ اس میں پدماجا کرشن مورتی، کیٹوگڈوانی، زینت امان، شلپا شندے (جنہوں نے مرکزی پولیس انسپکٹر کا کردار ادا کیا) اور بہت سے دیگر باصلاحیت اداکار ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پوری کاسٹ بھی حیران تھی کہ ’’یہ طناز تو بالکل مختلف ہے۔ ‘‘ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اداکار بھی اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلیں ۔ اس کے ساتھ ہی اب ہدایت کار بھی تجربہ کار فنکاروں کو مختلف کرداروں میں کاسٹ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’شو بز انڈسٹری میں داخل ہوناآسان ہے لیکن برقرار رہنا بڑا چیلنج ہے‘‘

آپ اتنے برسوں سے کام کررہی ہیں ، اس کے باوجود آج بھی آپ کی توانائی ویسی ہی ہے، جیسے پہلے تھی اور آپ کا چہرہ بھی ویسا ہی لگتا ہے۔ اس کے پیچھے کیا راز ہے؟
ج:میرا خیال ہے کہ جب آپ وہ کام کرتے ہیں جس سے آپ بے حد محبت کرتے ہیں اور جس کے بغیر آپ رہ ہی نہ سکتے ہوں، تو ہر دن آپ کیلئے ایک نئی شروعات ہوتا ہے، ایک نئے خواب کو حقیقت بنانے کا موقع ہوتا ہے۔ مجھے ہر روز ایسا محسوس ہوتا ہے کہ’’اوہ مائی گاڈ! آج میں کیا نیا کر سکتی ہوں ؟‘‘ مجھے کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ’’یہ تو میں پہلے ہی کر چکی ہوں۔ ‘‘ آج بھی جب میں سیٹ پر جاتی ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے یہ میرا پہلا دن ہو۔ میں بہت خوشی کے ساتھ شوٹنگ پر جاتی ہوں، نئے کردار ادا کرتی ہوں، نئے لوگوں سے ملتی ہوں اور نئے دوست بناتی ہوں۔ جب آپ اپنے کام کو صرف کام نہیں بلکہ اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں تو پھر وہ محنت نہیں لگتی بلکہ ایک خوبصورت دن محسوس ہوتا ہے۔ 
کیا ’جینی‘ کا کردار آپ کے کریئر کا ٹرننگ پوائنٹ تھا، یا پھراس کے علاوہ کوئی اور مرحلہ زیادہ اہم رہا؟
ج:میں اسے ٹرننگ پوائنٹ نہیں کہوں گی بلکہ وہ میرا اسٹارٹنگ پوائنٹ تھا۔ وہ میرے کریئر کا پہلا کام تھا اور اس کی خاص بات یہ تھی کہ اس وقت مجھے ہندی اچھی طرح نہیں آتی تھی۔ شاید خدا نے یہی سوچا ہوگا کہ اگر مجھے انڈسٹری میں داخل ہونا ہے، تو ایسا کردار دیا جائے جسے خود بھی ہندی نہ آتی ہو۔ اس لئے میں نے وہ کردار بہت فطری انداز میں نبھایا کیونکہ اس وقت حقیقت میں مجھے ہندی اچھی طرح نہیں آتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’حالات کیسے بھی ہوں، میں پُرسکون رہنے کی کوشش کرتی ہوں‘‘

جینی کے کردار کی کوئی خاص بات کہنا چاہیں گی؟
ج: اس زمانے میں میری ہندی بہت کمزور تھی، اسلئے وہ لوگ میرے انداز کے مطابق ہی میرا ڈائیلاگ لکھتے تھے۔ یہی میری زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ تھا۔ مجھے بہترین کردار ملا، بہترین ساتھی اداکار ملے اور اتنے سینئر فنکاروں کے ساتھ اپنے پہلے سیریل میں کام کرنے کا موقع ملا۔ پنکج کپور، آنجہانی ٹام آلٹر، وویک واسوانی، کیتھ اسٹیونسن، وجو کھوٹے اور شُوبھا کھوٹے جیسے عظیم فنکاروں کے ساتھ کام کرنا ایک یادگارتجربہ تھا۔ 
بختیار ایرانی کے ساتھ شارٹ ویڈیو بنانے کا آئیڈیا کس کا تھا؟
ج: یہ آئیڈیا میرا ہی تھا۔ جب لاک ڈاؤن لگا تھا تو میں اپنے طورپر ویڈیوز بنایا کرتی تھی۔ اس وقت لوگ باگ میرا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ میں اکیلی کیا رہی ہوں، لیکن میں نے لوگوں کی باتوں پر زیادہ توجہ نہیں دی اور اپنے کام میں مصروف رہی۔ اس کے بعد بختیار بھی میرے ساتھ جڑ گئے۔ اب میں خود ہی کنٹینٹ تیار کرتی ہوں اور ویڈیوز بناتی ہوں۔ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ میرے سبھی ویڈیوز اوریجنل ہوتے ہیں۔ 
کیا ٹی وی شوز کی کہانیوں میں دم نہیں رہا ہے؟
ج: میں ٹی وی پر زیادہ شوز نہیں دیکھتی اسلئے اس کے بارے میں زیادہ نہیں بتا سکتی۔ ہاں اتنا کہہ سکتی ہوں کہ اب شائقین کی سوچ بدل رہی ہے اور وہ بھی کچھ الگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کچھ نیا ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ 
اداکاری کے ساتھ ساتھ اس وقت آپ اور کیا کر رہی ہیں ؟ کن کاموں میں مصروف رہتی ہیں؟
ج:میں ہندوستان کی پہلی نیورو لِنگوسٹک کوچ اور پریکٹیشنر ہوں، اور میں لائف کوچنگ کرتی ہوں۔ صحت کے شعبے میں کافی سرگرم ہوں۔ میں لوگوں کو تربیت دیتی ہوں، میری آن لائن کلاسیز ہوتی ہیں، میں مختلف جگہوں پر جا کر پریزنٹیشنز دیتی ہوں اور موٹیویشنل تقاریر بھی کرتی ہوں۔ میں نے اپنا ایک نیا کاروبار بھی شروع کیا ہے، جس کا نام ’آریا ورلڈ‘ ہے۔ یہ خواتین کیلئے بنایا گیا ایک نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم ہے۔ فی الحال ہم نے اس کا آغاز ممبئی سے کیا ہے اور میں ہی اسے چلاتی ہوں۔ ہمارے بہت سے ممبرز ہیں۔ اگر کوئی بھی خاتون اپنا کاروبار کرتی ہے تو وہ نہ صرف اپنا بزنس آگے بڑھاتی ہے بلکہ دوسروں کو بھی ریفرنس دیتی ہے اور ان کی مدد کرتی ہے۔ مثلاً اگر آپ فوٹوگرافر ہیں، بیکر ہیں یا ڈیزائنر ہیں، تو میرے رابطوں سے آپ کو فائدہ مل سکتا ہے۔ اسی طرح بعد میں آپ کے رابطوں سے دوسروں کوفائدہ پہنچ سکتاہے۔ اس طرح نیٹ ورکنگ ہوتی ہے اور کاروباری مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK