Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مصاحبین کا کلچر‘‘ نشانے پر،پریہ درشن نے کہا اسرانی کو ان سے کم معاوضہ ملتا تھا

Updated: April 04, 2026, 8:04 PM IST | Mumbai

ہدایت کار پریہ درشن نے بالی ووڈ میں رائج ’’مصاحبین کے کلچر‘‘ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے انڈسٹری کی ’’سب سے بری چیز‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق بڑے ستارے درجنوں افراد کے ساتھ سیٹ پر آتے ہیں، جس سے نہ صرف بجٹ بڑھتا ہے بلکہ فلم سازی کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی مواقع پر ان وفود کے ارکان سینئر اداکاروں جیسے اسرانی سے زیادہ معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔

Priyadarshan in a happy mood with Asrani. Photo: INN
پریہ درشن اسرانی کے ساتھ خوشگوار موڈ میں۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ میں طویل عرصے سے زیر بحث ’’مصاحبین کا کلچر‘‘ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ معروف فلم ساز پریہ درشن نے اس پر کھل کر تنقید کی۔ حالیہ انٹرویو میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اداکاروں کے ساتھ آنے والے بڑے بڑے وفود نہ صرف فلم سازی کے عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ سیٹ کے نظم و ضبط کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ پریہ درشن نے کہا کہ، ’’مجھے اس کلچر سے نفرت ہے، یہ بالی ووڈ کی سب سے بری چیز ہے۔ چار اداکار ہوں تو ان کے ساتھ ۴۰؍ سے ۶۰؍  لوگ بھی آ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے میں اپنا فریم تک نہیں دیکھ پاتا۔‘‘ ان کے مطابق یہ افراد سیٹ پر غیر ضروری طور پر موجود رہتے ہیں اور اکثر اداکاروں کے ارد گرد ہجوم بنا کر کھڑے رہتے ہیں، جس سے شوٹنگ کے عمل میں خلل پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راجکمار راؤ اور ثانیہ ملہوترہ کی ’’ٹوسٹر‘‘ کا ٹریلر جاری

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ صرف تخلیقی نہیں بلکہ مالیاتی بھی ہے۔ ان کے مطابق کئی بار ان وفود کے ارکان کو اتنا معاوضہ دیا جاتا ہے جو انڈسٹری کے تجربہ کار اداکاروں سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ لوگ اسرانی جیسے سینئر فنکاروں سے بھی زیادہ کما رہے ہوتے ہیں، جو واقعی حیران کن اور تشویشناک بات ہے۔‘‘ پریہ درشن نے بالی ووڈ اور جنوبی ہندوستانی سنیما کے درمیان واضح فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی فلم انڈسٹری میں اس طرح کی روایت تقریباً موجود نہیں۔ ان کے مطابق اگر وہاں کسی اداکار کے ساتھ ٹیم ہوتی بھی ہے تو انہیں سیٹ پر آنے کی اجازت نہیں دی جاتی، اور وہ صرف ضرورت کے وقت ہی شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’وہاں نظم و ضبط زیادہ ہے، جبکہ یہاں یہ لوگ بغیر ضرورت کے سیٹ پر موجود رہتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کنگنا رناوت کی’’کوئین ۲‘‘ کی شوٹنگ اپریل کے آخر میں شروع ہوگی

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ اپنی آنے والی فلم ’’بھوت بنگلہ‘‘ کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جس میں اکشے کمار مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس فلم سے خاصی توقعات وابستہ ہیں کیونکہ یہ طویل عرصے بعد پریہ درشن اور اکشے کمار کا دوبارہ اشتراک ہے۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے آنجہانی اداکار اسرانی کے ساتھ اپنے تجربات کو بھی یاد کیا اور بتایا کہ انہیں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، جو ان کے لیے ایک یادگار لمحہ تھا۔ ان کے مطابق اس فلم کی شوٹنگ کے کچھ ہی دن بعد اسرانی کا انتقال ہو گیا، جس نے اس پروجیکٹ کو مزید جذباتی اہمیت دے دی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’سیارہ‘‘ کی خاموش تشہیر پر شاہ رخ خان کی تعریف، موہت سوری کا انکشاف

فلمی ماہرین کے مطابق ’’مصاحبین کا کلچر‘‘ واقعی بالی ووڈ میں ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جہاں بڑے ستاروں کے ساتھ آنے والی ٹیمیں نہ صرف پروڈکشن لاگت میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ سیٹ کے نظم و ضبط اور کام کی رفتار کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اسٹار سسٹم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اداکاروں کی سہولت کو ترجیح دی جاتی ہے، چاہے اس سے مجموعی پروجیکٹ متاثر ہی کیوں نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK