ہندوستانی سنیما کی دنیا میں انل بسواس کو ایک ایسے موسیقار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے مكیش ، طلعت محمود سمیت کئی گلوکاروں کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچایا۔
EPAPER
Updated: June 03, 2021, 1:53 PM IST | Agency | Mumbai
ہندوستانی سنیما کی دنیا میں انل بسواس کو ایک ایسے موسیقار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے مكیش ، طلعت محمود سمیت کئی گلوکاروں کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچایا۔
ہندوستانی سنیما کی دنیا میں انل بسواس کو ایک ایسے موسیقار کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے مكیش ، طلعت محمود سمیت کئی گلوکاروں کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچایا۔انل بسواس کی پیدائش ۷؍ جولائی۱۹۱۴ءکو مشرقی بنگال کے وارسال (اب بنگلہ دیش) میں ہوئی تھی۔بچپن سے ہی ان کا رجحان نغموں اورموسیقی کی طرف تھا۔محض ۱۴؍سال کی عمر سے ہی انہوں نے موسیقی کی محفلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا جہاں وہ طبلہ بجایا کرتے تھے۔۱۹۳۰ءمیں ہندستان میں آزادی کی جدو جہد عروج پر تھی۔ ملک کو آزاد کرانے کے لئے چھیڑی گئی مہم میںانل بسواس بھی کود پڑےاور وہ اپنی نظموںکے ذریعےہم وطنوں کے دلوں میں بیداری پیدا کیا کرتے تھے جس کے سبب انہیں جیل بھی جانا پڑا۔
۱۹۳۰ءمیں انل کلکتہ کے رنگ محل تھیٹرسےجڑ گئے۔جہاں وہ بطورایکٹر، موسیقار، اسسٹنٹ میوزک ڈائریکٹر کے طورپر کام کرتےرہے ۔۱۹۳۲ء سے ۱۹۳۴ءتک وہ تھیٹر سے وابستہ رہے۔ انہوں نے کئی ڈراموں میں اداکاری کے ساتھ گلوکاری بھی کی۔ ۱۹۳۵ء میں اپنے خوابوں کی تعبیرکیلئے کے لیے وہ کلکتہ سےممبئی آ گئے اور فلم ’دھرم کی دیوی‘ سے بطور میوزک ڈائریکٹر انل نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ ۱۹۴۲ءمیں انل بامبے ٹاکیز سے وابستہ ہوگئے اور۲۵۰۰؍روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے لگے۔
۱۹۴۳ءمیں انل کو بامبے ٹاکیزمیںفلم ’قسمت‘ کے لیے موسیقی دینے کا موقع ملا۔ یوں تواس فلم میں ان کےتمام نغمے مقبول ہوئے لیکن ’’آج ہمالیہ کی چوٹی سےپھرہم نےللکارا ہے- دور ہٹو اے دنیا والو ہندوستان ہماراہے‘ کی دھن والے نغمےنےآزادی کے ديوانوں میں ایک نیا جوش بھر دیا۔اپنےنغموں کو انل نے غلامی کے خلاف آواز بلند کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور ان کے نغموں نے انگریزوں کے خلاف ہندستانیوںکی جدوجہد کو ایک نئی سمت دی۔ ۱۹۴۶ءمیں انل نے بامبے ٹاکیز کو الوداع کہہ دیا اور وہ آزاد موسیقار کے طور پر کام کرنے لگے۔ آزاد موسیقار کے طور پر انل کو سب سے پہلے ۱۹۴۷ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’بھوک‘ میں موسیقی دینے کا موقع ملا۔ رنگ محل تھیٹرکے بینر تلے بنی اس فلم میں گيتادت کی آواز اورانل بسواس کی موسیقی سے آراستہ گیت’ آنکھوں میں اشک لب پہ رہے ہائے‘ سامعین میں بہت مقبول ہوا۔
۱۹۴۷ءمیں ہی انل کی ایک اور سپر ہٹ فلم ’نیّا‘ ریلیز ہوئی تھی ۔ زہرہ بائی کی آواز میں انل وشواس کی موسیقی والے گیت ’ساون بھادو نین ہمارے، آئی ملن کی بہار رے‘ نے سامعین کو بے انتہا محظوظ کیا۔۱۹۴۸ءمیں آنے والی فلم ’انوکھا پیار‘ انل کے فلمی کیریئر کے ساتھ ساتھ ذاتی زندگی میں بھی اہم فلم ثابت ہوئی۔فلم کی موسیقی تو ہٹ رہی، ساتھ ہی فلم کی پروڈکشن کے دوران ان کا رجحان مینا کپور کی جانب ہو گیا۔بعد میں انل اور مینا کپور نے شادی کر لی۔۱۹۶۳ءمیں انل دہلی پرسار بھارتی میں بطور ڈائریکٹر کام کرنے لگے اور۱۹۷۵ءتک کام کرتے رہے۔۱۹۸۶ءمیں موسیقی کے میدان میں ان کی قابل قدر تعاون کے پیش نظر انہیں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔پنی موسیقی سےتقریباً۳؍دہائی تک سامعین کے دل جیتنے والا یہ عظیم موسیقار ۳۱؍مئی ۲۰۰۳ءکو اس دنیا کو الوداع کہہ گیا۔