Updated: June 03, 2026, 8:55 PM IST
| Hyderabad
مرکز کی جانب سے اخراج شدہ ناموں کا مطالعہ کرنے اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت، انہیں حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کا نظام تیار کرنے کیلئے ایک کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پر ردِعمل دیتے ہوئے، اویسی نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے عمل کے ذریعے ۱۳ ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز میں ووٹر لسٹوں سے تقریباً ۵ء۶ کروڑ نام حذف کئے جا چکے ہیں۔
اسد الدین اویسی۔ تصویر: ایکس
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد کے رکنِ پارلیمنٹ (ایم پی) اسد الدین اویسی نے بدھ کے دن ووٹر لسٹوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مہم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس عمل کو ووٹر لسٹوں سے خارج کردہ ہندوستانیوں کا ایک مستقل طبقہ پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔
مرکز کی جانب سے اخراج شدہ ناموں کا مطالعہ کرنے اور غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت، انہیں حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کا نظام تیار کرنے کیلئے ایک کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پر ردِعمل دیتے ہوئے، اویسی نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے عمل کے ذریعے ۱۳ ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز میں ووٹر لسٹوں سے تقریباً ۵ء۶ کروڑ نام حذف کئے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’بھارت میں مسلمانوں کا سیاسی ایجنڈا‘‘ فکری جمود سے آئینی شعور تک کا سفر
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اویسی نے لکھا کہ حکومت نے پہلے دستاویزات پر مبنی نظرِ ثانی کی مشق کی اور اب وہ ان اخراجات کے گرد ایک مستقل فریم ورک بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس عمل کی وجہ سے شہریوں کے ووٹنگ کا حق اور سرکاری فوائد تک رسائی پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اویسی نے کہا کہ ”ایس آئی آر کو خارج کردہ ہندوستانیوں کا ایک مستقل طبقہ پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ ووٹ کا حق طاقتور کے خلاف غریب کا واحد ہتھیار ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ووٹنگ کے حقوق کے بغیر، لوگوں میں حکومتوں کو جوابدہ ٹھہرانے کی صلاحیت کم ہو جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے ہی ایسی رپورٹیں موجود ہیں جن میں لوگوں کو سرکاری فلاحی اسکیموں کے تحت فوائد دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کرناٹک ہائی کورٹ کا آر ایس ایس لیڈر کو انتباہ، ’’زہریلی تقاریر‘‘ سے گریز کریں
مجلس سربراہ نے اس مفروضے پر بھی سوال اٹھایا کہ ووٹر لسٹوں سے ناموں کا اخراج خود بخود اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ وہ شخص ہندوستانی شہری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت، ایس آئی آر کے دوران انتخابی فہرستوں سے نام ہٹانا غیر شہریت کا اعلان نہیں ہوتا۔
اویسی کے مطابق، تقریباً ۲۷ لاکھ معاملات ابھی بھی زیرِ سماعت ہیں اور بہت سے متاثرہ افراد اب بھی ’فارم ۶‘ کے ذریعے ووٹر رجسٹریشن کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایسا کوئی ڈیٹا جاری نہیں کیا جس سے ظاہر ہو کہ کتنے لوگوں کو خاص طور پر اس لئے خارج کیا گیا کیونکہ وہ غیر ملکی تھے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا ایس آئی آر ہندوستانی شہریت کی جانچ ہے؟
اویسی نے الزام لگایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ اس نظرِ ثانی کے عمل سے متاثر ہونے والے زیادہ تر لوگ مسلمان، خواتین، غریب شہری اور مہاجر مزدور ہیں۔ انہوں نے مجوزہ کمیٹی کی ضرورت پر بھی سوال اٹھایا اور سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی آبادی میں اضافہ اب مستحکم ہو چکا ہے اور ملک کی مجموعی زرخیزی کی شرح ۰ء۲ پر کھڑی ہے۔ حیدرآباد ایم پی نے شہریوں پر عائد کی جانے والی حد سے زیادہ دستاویزات کی شرائط پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کو بار بار جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ حکومتوں کو اس سطح پر جواب دہ نہیں ٹھہرایا جاتا۔