Updated: June 03, 2026, 9:57 PM IST
| New York
عالمی ادارۂ موسمیات (WMO) نے خبردار کیا ہے کہ جون تا اگست ۲۰۲۶ء کے دوران ال نینو کے فعال ہونے کے ۸۰؍ فیصد امکانات ہیں جبکہ نومبر تک اس کے برقرار رہنے کا امکان ۹۰؍ فیصد سے زائد ہے۔ ادارے کے مطابق بحرالکاہل میں سمندری پانیوں کا غیر معمولی درجۂ حرارت عالمی موسمی نظام کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشیں اور دیگر موسمیاتی آفات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ موسمیات (WMO) نے گزشتہ دن جاری کردہ اپنے تازہ موسمی جائزے میں خبردار کیا ہے کہ دنیا ایک نئے ال نینو مرحلے کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ادارے کے مطابق جون تا اگست ۲۰۲۶ء کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کے امکانات ۸۰؍ فیصد ہیں، جبکہ اس موسمیاتی رجحان کے کم از کم نومبر تک برقرار رہنے کا امکان ۹۰؍ فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے کہا ہے کہ بحرالکاہل میں سمندری سطح کے درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جو ال نینو کی تشکیل کی ایک واضح علامت ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عالمی سطح پر درجۂ حرارت، بارش کے نظام اور موسمی حالات کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے کئی خطوں میں شدید گرمی، خشک سالی، جنگلاتی آگ، سیلاب اور غیر معمولی بارشوں کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: ایندھن کا بحران شدید، ہنگامی اقدامات کا اعلان
ڈبلیو ایم او کی سیکریٹری جنرل سیلسٹے ساؤلو نے کہا کہ دنیا کو ایک ممکنہ طور پر مضبوط ال نینو کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ رجحان نہ صرف زمینی علاقوں بلکہ سمندروں میں بھی ہیٹ ویوز کے خطرات میں اضافہ کرے گا اور خشک سالی و شدید بارش کی شدت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنسی شواہد واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ ال نینو تیزی سے فعال ہو رہا ہے اور اسے موسمیاتی خطرے کی ایک سنجیدہ وارننگ کے طور پر لیا جانا چاہیے۔ سیلسٹے ساؤلو نے یاد دلایا کہ ۲۴۔۲۰۲۳ء کا ال نینو حالیہ تاریخ کے پانچ طاقتور ترین واقعات میں شمار کیا گیا تھا اور اس نے ۲۰۲۴ء میں عالمی درجۂ حرارت کو ریکارڈ سطح تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کے بقول موجودہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب دنیا پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی گرمی کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے، اس لیے ال نینو کے اثرات مزید شدید ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ہندوستان کے محکمۂ موسمیات (IMD) نے بھی گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ بحرالکاہل کے خطۂ استوا میں موجود غیر جانبدار حالات بتدریج ال نینو کی سمت بڑھ رہے ہیں۔ آئی ایم ڈی کے ڈائریکٹر جنرل مرتیونجے موہاپاترا کے مطابق آئندہ چار ماہ کے دوران کمزور سے معتدل درجے کے ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان موجود ہے۔ آئی ایم ڈی نے اپنی تازہ پیش گوئی میں جون تا ستمبر جنوب مغربی مانسون کی بارشوں کا تخمینہ کم کرتے ہوئے اسے طویل مدتی اوسط (LPA) کے ۹۰؍ فیصد تک محدود کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو ۲۰۲۶ء کا مانسون ۲۰۱۵ء کے بعد سب سے کمزور مانسون ثابت ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال سے زرعی شعبے، آبی ذخائر اور دیہی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال کے وزیر اعظم کے بیان پر ہنگامے کے بعد ہندوستان کا رد عمل
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اگر ال نینو مضبوط ہوا تو اس کے اثرات صرف ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں موسمیاتی بے ترتیبی، شدید درجۂ حرارت اور قدرتی آفات کے خطرات میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی تیاری اور حفاظتی اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔